بند کریں
خواتین مضامینابتدائی طبی امدادعلاج

مزید ابتدائی طبی امداد

پچھلے مضامین -
علاج
گرحادثہ شدید ہو تو مقامی علاج کی بجائے محدوث کی عام حالت کو سدھاریں کیونکہ وہ صدمہ کی حالت میں ہوتا ہے اگر سردیوں کا موسم ہو تو اسے گرم کپڑوں میں لپیٹ لیں ورنہ کھلی ہوا میں رکھیں گرم دودھ پلائیں
علاج:
جلے ہوئے جسم پر فوراً سرد پانی بہائیں یا اُسے ایسے پانی کے اندر ڈالیں جس کا درجہ حرارت جسم کے درجہ حرارت سے کم ہو،یہ عمل تقریباً دس منٹ تک جاری رکھنا چاہیے اس سے درد میں تسکین ہوگی بہتر یہ ہے کہ پانی کے اندر کھانے والا سوڈا ملادیں اگر کیمیاوی اشیا سے وہ حصہ جل گیا ہوگا تو اس جلانے والی شے کا زائد حصہ بھی دھل جائے گا،اگرحادثہ شدید ہو تو مقامی علاج کی بجائے محدوث کی عام حالت کو سدھاریں کیونکہ وہ صدمہ کی حالت میں ہوتا ہے اگر سردیوں کا موسم ہو تو اسے گرم کپڑوں میں لپیٹ لیں ورنہ کھلی ہوا میں رکھیں گرم دودھ پلائیں چارپائی کی پائنتی قدرے اُٹھا کررکھیں اگر اس سے فائدہ نہ ہو اور درد شدید ہو تو پھر کسی مسکن دوا کا ٹیکہ لگانا ضروری ہوگا چنانچہ کسی ماہر فن کی امداد حاصل کریں۔جب محدوث کا جسم اچھی طرح گرم ہوجائے اور یقین ہوجائے کہ وہ صدمے کے اثرات سے بڑی حد تک خلاصی پاچکا ہے تو پھر زخموں کی طرف متوجہ ہوں اور یکے بعد دیگرے ہر ایک زخم کو صاف کرکے اس پر پٹی باندھیں ایک زخم کو صاف کرکے اس پر پٹی باندھیں ایک زخم کو صاف کرتے وقت دوسرے زخم کو کسی ایسے کپڑے سے ڈھانپ رکھیں جو بالکل پاک صاف ہو یا کاربالک ایسڈ کے ہلکے محلول میں بھگو لیا گیا ہویا اُسے ہلکے کانڈی لوشن میں بھگو لیں اگر جسم کا زیادہ حصہ جل گیا ہو مثلاً پیٹھ ٹانگیں،یا بازو وغیرہ جل گئے ہو ں تو شیر گرم پانی میں یورک ایسڈ ملا کر آیزن کرائیں اس سے دو فائدے ہوں گے:درد کو تسکین ہوگی اور جلے ہوئے تمام چینتھڑے پانی میں تیر آئیں گے اورزخم خود بخود صاف ہو جائے گا ان زخموں کو ڈھانپتے وقت روئی پشم یا کوئی اور ”بردار شے استعمال نہ کریں ململ کا کپڑا اچھا کام دے جائے گا،جلنے سے کپڑے کے اندر جراثیم باقی نہیں رہتے اور محدوث کے جلے ہوئے کپڑے اکثر جلد کے ساتھ چپک جاتے ہیں ان کو جوں کا توں پڑے رہنے دیں اور ان چپکے ہوئے کپڑوں کے اوپر ہی ململ کا اور کپڑا رکھ کر پٹی باندھ دیں اگر کسی عضو کا بہت سا حصہ جل گیا ہو اور گھر پر اگر اس قدر کپڑا میسر نہ آسکے تو تکیے کا صاف غلاف استعمال کریں اور جلا ہوا عضو ایک ہی میں سما جائے گا اور بدلتے وقت تکلیف بھی نہ ہوگی البتہ اسے دھو کر پاک و صاف کرکے استری کرلیں اس کے اوپر کوئی ایسی چیز مثلاً روئی وغیرہ رکھ دینی چاہیے جو مواد کو چوستی رہے کیونکہ ابتدا میں ان حصوں سے کافی مواد بہتا ہے اگر کہیں چھالے پڑرہے ہوں تو ان کو ابھی نہ چھیڑیں اور نہ کاٹیں ان کا علاج بعد کی بات ہے جلنا اگر اگ سے ہو یا کھولتی ہوئی شے سے اور یا سطحی ہو یعنی صرف جلد کو نقصان پہنچتا ہو تو کھانے والا سوڈا لے کر اسے اس قدر پانی میں حل کریں کہ مزید حل نہ ہوسکے اس پانی میں جلا ہوا حصہ ڈبو دیں پھر جالی یا کپڑے کو اس پانی میں بھگو کر اس حصے پر رکھیں۔
بارود سے جلنا: چنگاریوں سے جلد آنکھ بال اور جسم کے دوسرے حصے جو ننگے ہوں جھلس جاتے ہیں اور بارود کے ذرات جلد کے اندر دھنس جاتے ہیں ذرات کو چھوٹی باریک سلائی سے ایک ایک کرکے باہر نکال دیں ورنہ چھوٹے چھوٹے نیلے نشان پڑجائیں گے جو پھر مدت العمر باقی رہتے ہیں اور بدصورتی کا باعث ہوں گے زخموں کا علاج حسب دستور کریں جب بارود بندھا ہوا ہو اور پھٹ جائے تو زخم تعداد میں بھی زیادہ ہوتے ہیں اور گہرے بھی ہوتے ہیں سب سے پہلے جریان خون بند کریں پھر زخموں کا بغور معائنہ کریں اور ان کو تمام جلی ہوئی ساختوں سے پاک کریں۔
حیوانات کا کاٹنا اور حشرات کا ڈنک مارنا: جب کتے نے صرف چاٹا ہی ہو جیسا کہ اکثر اوقات ہوتا ہے یاکاٹنے کی کوشش ہی کی ہو جس سے محض رگڑ سی آگی ہو تو ایسی صورت میں اسے پہلے اچھی طرح صابن سے دھو کر اُس پر ٹنکچر آئیوڈین لگادیں بس اس قدر کافی ہوگا،ہاں اگر واقعی زخم آیا ہو تو سلور نائٹریٹ(چاندی کا لوشن) زخم کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد لگائیں یا ٹنکچر آئیوڈین فورٹ لگائیں اور مجروح کو تسلی دیں کہ داء الکلب کے پیدا ہوجانے کا کوئی خدشہ نہیں اگر اس قسم کا خدشہ ہو کہ کتا واقعی باولا ثابت ہوگا تو اسے ایسے ہسپتال پہنچائیں جہاں باؤلے کتے کے ٹیکے لگتے ہوں اور دیر نہ کریں۔
سانپ کا کاٹنا: اگر سانپ نے کاٹا ہو تو زخم سے اونچا دل کی طرف کوئی کپڑا خوب کس کر باندھ دیں تاکہ زہرسارے جسم میں سرایت نہ کرنے پائے اس کے بعد اول تو کسی ماہرفن کی امداد حاصل کریں لیکن اگر یہ امداد حاصل کریں لیکن اگر امداد حاصل نہ ہوسکتی ہوتو چاہیے کہ زخم پر شگاف دے کر اسے اور کھول دیا جائے اور پھر سینگیاں لگائیں جو زہر کو چوس کر خارج کردیں گی اور پھر حسب دستور زخم کا علاج کریں مریض کو فوراً باقاعدہ طبی امداد بہم پہنچانے کی کوشش کریں بعض حالات میں مصنوعی طور پر نفس کو جاری کرنے کی ضرورت پیش آئے گی،حشرات کے ڈنک کی سوزش کو دور کرنے کے لیے اُس مقام پر امونیا لگائیں یا پیاز کو تازہ کاٹ کر ڈنک پر لگادیں ٹنکچر آئیوڈین لگانے سے سوزش بڑھے گی اور درد بھی زیادہ ہوجائے گا،
مصنوعی تنفس جاری کرنا: جب سانس کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگئی ہو تو سانس آجا نہیں سکتا اور اس کا نتیجہ موت ہوتا ہے ان حالتوں میں سانس بند ہوسکتا ہے۔
۱۔بے ہوشی میں،
۲۔سر پر چوٹ یا ضرب آنے سے،
۳۔بجلی کا جھٹکا لگنے سے،
۴۔زہر کھالینے سے،
۵۔ڈوب جانے سے،
مصنوعی سانس کی بحالی کے طریقوں کی مشق ضرورت سے پہلے ہی کافی کرلینا چاہیے۔
براہ راست ہوا دخل کرنا: محدوث کی ناک یا منہ پر منہ رکھ کر یا اگر محدوث بچہ ہو تو اس کے منہ اور ناک دونوں کے راستے زور سے پھونک ماریں اس عمل سے ہوا محدوث کے پھیپھڑے میں داخل ہوجائے گی جو ان آدمیوں میں منہ یہ ناک طریقہ بہترین ہوتا ہے کیونکہ اس طرح معدے کے اندرہوا داخل ہوجائے گا کوئی خطرہ نہیں ہوتا ورنہ معدے کے پھول جانے سے قے آنے کا خطرہ ہوتا ہے اگر حادثہ کا باعث کوئی زہر ہو پھرتو منہ یا ناک طریقہ ہی بس بہترین ثابت ہوگاکیونکہ اس طرح مدد کرنے والے کا منہ مسموم کے ہونٹوں کے ساتھ نہ لگے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے