Kulhe Ki Haddi Ka Tott Jna

کولھے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا

Kulhe Ki Haddi Ka Tott  Jna
کولھے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا:
جب ران یا کولھے کی ہڈی ٹوٹ جائے تو مجروح کولھے میں درد کی شکایت کرے گا یا چڈھوں میں کولھے پر دونوں طرف ہاتھ رکھ کر دونوں ہاتھوں سے اندر کی طرف دبائیں جس مقام پر یہ ہڈی ٹوٹی ہوگی اس طرف دبانے سے اس مقام پر فوراً شدید درد محسوس کیا جائے گا اور ہڈی قدرے حرکت کرتی ہوئی بھی محسوس ہوگی،
فوری امداد:
۱۔

مجروح کو اس وضع پر لٹائیں جو اس کے لیے بہت ہی آرام دہ ہو اور عام طور پر یہ حالت سیدھا لیٹنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
۲۔مجروح کو ہدایت کریں کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہرگز پیشاپ نہ کرے۔
۳۔مجروح کو گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان تکیے یا گدیاں خوب اچھی طرح ٹھونس دیں تاکہ ٹانگیں حرکت نہ کرنے پائیں۔

(جاری ہے)


۴۔

گھٹنوں کو ایک چوڑی پٹی کے ذریعے آپس میں باندھ کر قائم کردیں تاکہ وہ حرکت نہ کرنے پائیں۔
۵۔مجروح کو ٹخنوں اور پاؤں کو بھی ایک چوڑی پٹی سے باندھ دیں اور یہ پٹی ہندسہ 8 کی شکل پر لپیٹی گئی ہو۔
۶۔مجروح کو سٹریچر پر لٹا کر بغیر کسی تاخیر کے جلد ہسپتال پہنچادیں۔
سینے اور پسلیوں کی ہڈیوں کا ٹوٹ جانا:
اکثر کسی کنارے دار شے پر گرجانے سے پسلیاں ٹوٹ جاتی ہے یا موٹر کار اور سکوٹر وغیرہ کے حادثے میں یا سینے پر سے گاڑی کے پہیے کے گزر جانے سے اور یا پھر براہ راست چوٹ یا ضرب سے اس مقام پر شدید درد ہوتا ہے جہاں پر ہڈی ٹوٹی ہو اور یہ درد زور سے سانس کھینچتے یا کھانسی کرنے سے اور بڑھ جاتا ہے اگر اس ہڈی کے نیچے پڑا ہوا پھیپھڑے کا حصہ بھی زخمی ہوگیا ہو تو پھر خون آلود اور جھاگ دار بلغم خارج ہوتا ہے یا تھوک میں قدرے خون ملا ہوا ہوگا اور یہ زخم کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے اگر سینے پر کھلا زخم بھی ہوگیا تو پھر ہوا بھی سینے کے اندر چلی جائے گی اور اس طرف کا پھیپھڑا بھی کام کرنا بند کردے گا پسلیوں کے ساتھ جو عضلات لگے ہوتے ہیں وہ اس امر کی ضمانت ہوتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے ٹکڑئے اپنی جگہ سے سرکنے نہ پائیں اس لیے ایسے مجروح کی امداد صرف بھی ہوسکتی ہے کہ اسے زیادہ سہولت میں رکھا جائے اور مزید کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہونے دی جائے۔


۱۔اگر کہیں زیادہ خون بہہ رہا ہے تو اسے عارضی یا مستقل طور پر جلد بند کرنے کی کوشش کریں۔
۲۔اگر سینے پر کوئی ایسا زخم آگیا ہے جس سے سینے کے اندر ہوا داخل ہورہی ہے تو اس پر رفائد رکھ کر اسے فوراً بند کریں اگر ممکن اور مناسب ہوتو اس پر چپکدار پلستر لگا کر اس زخم یا سوراخ پر مہر لگادیں اب مجروح کو بہت جلد ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کریں اور اگر وہ ہوش میں ہے اورکچھ تکلیف محسوس نہیں کررہا تو اسے بٹھاکر ہسپتال پہنچائیں اگر اسے زیادہ تکلیف ہورہی ہے تو اسے ٹیک لگائے ہوئے اس طرح بٹھائیں کہ مجروح پہلو نیچے کی طرف ہو یا وہ مجروح پہلو پر جھکا ہوا ہو اس طرح کی وضع اختیار کرنے سے سلیم جانب کی پھیپھڑا زیادہ سے زیادہ پھیل سکتا ہے اور خوب کام کرسکتا ہے اور مجروح طرف پھیپھڑے سے اگر خون بہہ رہا ہے تو وہ خون پھیپھڑے کے قاعدے پر جمع ہونے لگے گا اورز یادہ تکلیف کا باعث نہ ہوگا،اگر سینے کے دونوں طرفیں مجروح ہوگئی ہوں تو پھر مجروح کو بالکل سیدھا بٹھائے رکھیں،اگر مجروح بے ہوش ہے تو پھر اس کی امداد اسی طریقے سے کریں جس طرح ایک بے ہوش کی کی جاتی ہے اورجس کا مفصل بیان پہلے آچکا ہے۔


خلع:
جوڑ کی ہڈیوں کے اپنے طبعی مقام سے ٹل جانے کو خلع یا جوڑ اُترنا کہتے ہیں ایسے مجروح کی امداد یا علاج کے مقاصد تقریباً وہی ہیں جوکسر کے سلسلے میں بیان ہوئے اس میں ایک اوربڑی اہم احتیاط یہ ہے کہ جوڑ کو اپنی طبعی حالت پر بٹھانے کی کبھی بھی کوشش نہ کریں اگر جوڑ کے ماؤف ہونے کے متعلق شک ہو تو اس کا علاج اسی طریقے پر کریں گویا ہڈی ٹوٹ گئی ہوئی ہے یا جوڑ اترگیا ہوا ہے سلامتی کی طرف غلطی کرنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔


تشخیص:
۱۔اُترا ہوا جوڑ اکثر صاف نظر آجاتا ہے شدید درد ہوتا ہے اور مجروح بہت بیمار نظر آتا ہے۔
۲۔جوڑ کے اردگرد سوجن ہوتی ہے اور جلد پر خراشیں بھی آئی ہوئی ہوں گی اور نیل بھی بڑا ہوا ہوگا اور یہ جلد کے نیچے اور اردگرد کی ساختوں میں خون کے جمع ہوجانے سے ظاہر ہوجاتا ہے۔
۳۔

ہڈی کو اگر حرکت دینا چاہیں تو بڑی مشکل سے دی جاسکے گی اور وہ بھی شدید درد کے ساتھ۔
۴۔علاوہ ازیں ان میں سے اکثر علامات پائی جائیں گی جو ہڈی کے ٹوٹ جانے کے بیان میں لکھی گئی ہیں۔
علاج کے عام اصول:
۱۔جوڑ کو اس حالت پر سہارا دیں جو مجروح کے لیے زیادہ آرام دہ ہو گل پٹی باندھ کر اُس کے اندر بازو کو سہارا دیا جائے یا بازو پر پٹی لپیٹ کر اسے جسم کے ساتھ باندھ دیا جائے ٹانگوں کے لیے تکیے گدیاں یا کمبل جوگول لپیٹا ہوا ہو وہ سہارے کا کام دے جاتا ہے۔


۲۔اس طرح مجروح کو جب ہسپتال بھیجیں تو اسی وضع پر لے جائیں جس میں اسے بہت آرام مل رہا ہو عام طور پر بیٹھ کر جانے میں مجروح بہت آرام دہ محسوس کرتا ہے جب بازو یا ٹانگ کے جوڑ اترئے ہوئے ہوں تو پھر مجروح لیٹ کرجانا پسند کرے گا۔
۳۔اس امر کی طرف دھیان رکھیں کہ جسم کے کس حصے میں دوران خون کے اندر کوئی نقص نہ آجائے یہ سوجن کے بڑھ جانے سے بھی آسکتا ہے اور کس کر باندھی ہوئی پٹی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے چنانچہ ہاتھ یا پاؤں کی انگلیوں کی طرف دیکھتے رہیں دوران خون میں نقص آجانے سے وہ یا تو زرد ہوجائیں گی یا نیلی پر جائیں گی یا پھر ان کے طبعی رنگ میں کافی اور نمایاں فرق آجائے گا۔

دوران خون کے متعلق اگر شک بھی ہوجائے تو بندھی ہوئی پٹیوں کو فوراً ڈھیلا کردیں اور بازو ٹانگ کو سیدھا کرکے پھیلا دیں اس سلسلے میں کہنیاں بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہے بالخصوص اس وقت جب ان کو بند کیا گیا ہو اگردوران خون میں کوئی نقص آچکا ہو تو ہسپتال پہنچاتے ہی ڈاکٹر صاحب کو اس کی اطلاع کردیں۔
تاریخ اشاعت: 2018-01-04

Your Thoughts and Comments

Special Ibtedai Tibbi Imdad article for women, read "Kulhe Ki Haddi Ka Tott Jna" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.