Bleach Cream Saaf Or Chamakdar Jild Ka Raaz

بلیچ کریم صاف اور چمکدار جلد کا راز

جمعرات نومبر

Bleach Cream Saaf Or Chamakdar Jild Ka Raaz

نسرین شاہین
ہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی جلد صاف‘چمکدار اور داغ دھبوں سے پاک ہو‘لیکن ہر ایک خاتون اتنی خوش قسمت نہیں ہوتی کہ اس کی یہ خواہش پوری بھی ہو جائے۔اس کے علاوہ دھول‘مٹی‘آلودگی وغیرہ کی موجودگی میں‘جن کا ہم کو روزانہ سامنا ہے اپنی جلد کی دیکھ بھال کرناقدرے مشکل محسوس ہوتاہے۔خواتین مختلف بیوٹی سیلون یا اسپا جاکر سروسز لیتی ہیں‘لیکن اہم مسئلہ پھر وہی ہے کہ کیا ان بیوٹی سیلون میں استعمال ہونے والی مصنوعات قابل بھروسہ ہیں؟چونکہ ان کی مصنوعات بہت سے کیمیائی عناصر سے لیس ہوتی ہیں تو یہ ہماری جلد کے لیے نقصان کا باعث بن جاتی ہیں۔

ایسے میں کیا کیا جائے؟
اپنی جلد کو صاف رکھنے‘فوری چمک اور خوبصورتی دینے کے لیے خواتین سب سے زیادہ انحصار جلدکی بلیچنگ پر کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

چونکہ چہرہ جسم کا سب سے زیادہ کھلا اور نمایاں رہنے والا حصہ ہوتاہے۔اس لیے یہ کیل مہاسوں‘جلد پر لال دھبوں‘دھوپ کے باعث سنو لاہٹ اور آلودگی کی زد میں براہ راست رہتاہے۔یہ تمام عوامل جلد پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جلد کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔

بلیچنگ چہرے سے میل‘گندگی‘سنولاہٹ ہٹا کر جلد کو چمکدار ‘صاف اور نرم بنائی ہے۔
بلیچنگ ایک سہ رخی عمل ہے۔سب سے پہلے تو یہ عمل چہرے کے روؤں کی رنگت کو مدھم کرکے ان کو جلد کی رنگت سے میچ کرتاہے دوسرا یہ کہ اس عمل سے جلد کی مکمل صفائی ہو جاتی ہے اور آخری اور اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف اور صرف پندرہ منٹ میں فوری حسن عطا کرتاہے۔
بلیچنگ کیا ہے؟
جلد کی رنگت کو ہلکاکرنے والی مصنوعات کو بلیچنگ کریمز‘وائٹنر‘اسکن برائٹنریا فیڈنگ کریمز کے نام سے بھی جانا جاتاہے اور یہ جلد پر موجود میلانن نامی پگمنٹ کی کمی کا کام کرتی ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ بلیچنگ کیا ہے؟جلد کی بلیچنگ دراصل ایک کا سمیٹک ٹریٹمنٹ کا نام ہے جو جلد پر موجود داغ دھبوں یا جلدکی غیر ہموار رنگت کو پوشیدہ کرنے کے لیے کیا جاتاہے‘جس کے باعث جلد کی رنگت ہموارہوجاتی ہے۔کچھ افراد اپنی جلد کی رنگت میں تبدیلی کرنے کے لیے اپنے پورے جسم پر اسکن لائٹنر یا بلیچ کا استعمال کرتے ہیں‘لیکن یہ عمل بہت خطر ناک ثابت ہو سکتاہے۔

مرکری یعنی پارہ چند اسکن لائٹنر کا مرکزی اور لازمی جز ہوتاہے اور اس طرح بلیچنگ کا عمل مرکری پوائزئنگ کا سبب بن سکتاہے۔پارہ ایک سمی ایجنٹ ہے جو کہ شدید قسم کے نفسیاتی‘اعصابی اور گردوں کے مسائل کا سبب بن سکتاہے۔وہ حاملہ خواتین جو مرکری پر مشتمل اسکن لائٹنر استعمال کرتی ہیں‘مرکری ان کے بچے کے اندر منتقل ہو سکتاہے۔جب بلیچنگ ایجنٹ جیسے کہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈمیں ایمونیا شامل کیا جاتاہے تو اس کے اجزاء علیحدہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ پانی‘کاربن ڈائی آکسائیڈ‘امونیا اور بتدائی حالت کی آکسیجن خارج کرتے ہیں ۔

کریم بلیچ کا استعمال خواتین گھر پرمحفوظ اور آسان و طریقے سے کر سکتی ہیںآ ج کل کے دور میں مردوں کے بیوٹی ٹریٹمنٹ میں بھی بلیچنگ کو شامل کیا گیا ہے اور اب یہ صرف صنف نازک تک ہی محدود نہیں۔بلیچ میں یا تو کوئی ایک ایکٹو جز ہوتاہے یا بہت سارے اجزاء کے امتزاج سے یہ اس جگہ پر میلانن کی مقدار کو کم کرتاہے جہاں کو لگایا جائے۔دیگر بلیچ کریمز میں اسٹیروائڈز اور ریٹی نوائک ایسڈ جیسی ادویات موجود ہوتی ہیں جو کہ وٹامن اے سے حاصل کی جاتی ہیں۔

کچھ میں کوجک ایسڈ (فنگس سے حاصل کیا جانے والا مرکب )اور اربوٹن( مختلف پودوں سے لیا جانے والا مرکب )جیسے قدرتی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔
مفروضات
اکثر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ جلد کو بلیچ کرنا محفوظ عمل نہیں اور یہ ضرررساں ثابت ہو سکتاہے یہ محض ایک مفروضہ ہے ۔قدرتی اجزاء پر مشتمل بلیچ آپ کی جلد کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔

دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ یہ بالوں کی افزائش میں اضافہ کر دیتی ہے۔یہ بھی غلط ہے۔بلیچنگ کا عمل آپ کے جسم یا چہرے کے بالوں کی رنگت کو صرف مدھم کرتاہے۔نہ ہی یہ بالوں کی افزائش میں کمی لاتاہے اور نہ ہی اس میں اضافہ کرتاہے۔کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بلیچ مستقل رہنے والا عمل ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا اور بلیچنگ کا عمل بھی عارضی اثرات کا حامل ہے جیسے جیسے اس کے اثرات کم ہوں‘آپ دوبارہ بلیچ کرلیں۔

کچھ افراد کا ماننا ہے کہ بلیچ سے جلد کی رنگت صاف ہو جاتی ہے۔یہ بھی درست نہیں۔بلیچ صرف آپ کے چہرے یا جسم کے بالوں کی رنگت کو تبدیل کر دیتی ہے۔یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ اس سے بالوں کی رنگت مستقل طور پر ہلکی ہو جاتی ہے۔یہ جلد کی سطح سے اوپر کے بالوں کے رنگ کو ہلکا کر دیتی ہے اور بالوں کی جڑوں پر کوئی اثر نہیں کرتی اور یوں نئے بال اپنی قدرتی رنگت بر قراررکھیں گے۔

اس کے علاوہ یہ سوچنا کہ بلیچنگ بالوں کو سیاہ کر دیتی ہے‘بھی درست نہیں۔بلیچنگ یا اس میں موجود کیمیکلز بالوں کے سیاہ رنگ میں اُگنے کا سبب نہیں۔بالوں میں تبدیلی مختلف عوامل کی بنا ء پر رونما ہو سکتی ہے جیسے کہ میڈیکشن ‘ماحولیاتی اثرات(دھوپ)اور حیاتیاتی عوامل(عمر رسیدگی‘حمل سن یاس وغیرہ)۔
بلیچنگ کے فوائد
صاف اور چمکدار جلد:
بلیچ کرنے کا سب سے بڑ افائدہ یہ ہے کہ یہ جلد کو صاف اور چمکدار بنا دیتی ہے۔

بلیچ کرنے سے آپ کی جلد کی رنگت ایک ٹون کم ہو جاتی ہے اور اس سے جلد میں چمک اور تازگی کا احساس آجاتاہے۔بہترین نتائج کے لیے یہ ضروری ہے کہ مناسب وقفے کے بعد باقاعدگی سے اور مکمل احتیاط کے ساتھ بلیچ کی جائے۔سادہ الفاظ میں کہا جائے تو بلیچنگ سے جلد کی بے رونقی اور روکھا پن ختم ہو جاتاہے اور جلد کو نئی جان ملتی ہے۔
داغ دھبوں میں کمی:
اس حیرت انگیز فیشیل ٹریٹمنٹ کا دوسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے داغ دھبوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔

اگر آپ بھی چہرے کے داغ دھبوں اور نا ہموار جلد کے مسائل سے پریشان ہیں تو آپ کو بلیچنگ سے ضرور فائدہ حاصل ہو گا۔بلیچ کرنے سے میلانن کے ساتھ ساتھ جلد کے مسامات میں جمع شدہ میل اور گندگی بھی صاف ہو جاتاہے۔
جلد کوٹون مدھم کرنا:
چہرے کی سروسز کی جب بات کی جائے تو بہت سی خواتین چہرے کی بلیچنگ کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں کہ یہ موٴثر اور کار گر طریقہ کار ہے۔

اس کا ایک بڑا فائدہ جلد کی رنگت کو مدھم کرنا بھی ہے‘اگر آپ کی جلد سورج سے جھلس کر سنولاہٹ کا شکار ہے تو آپ کو یقینا بہترین نتائج ملیں گے۔
نرم وہموار جلد:
بلیچ کرنے کے بعد آپ کی جلد نرم وہموار ہو جاتی ہے اور ایسا اس لیے ہوتاہے کہ بلیچ کرنے سے جلد پر موجود مردہ خلیات ‘بلیک ہیڈز اور وائٹ ہیڈز کا بھی خاتمہ ہو جاتاہے۔
اب نوچنا بند:
اگر آپ موچنے(ٹوئینرر)کی مدد سے یا تھریڈنگ کے ذریعے زیر لب یا اپرلب بالوں کو صاف کرتی آئیں ہیں ‘تو اس عمل کو خیر باد کہہ ڈالیں کیونکہ بلیچنگ اس مسئلے کا قابل بھروسہ حل ہے۔


نقصانات
بلیچنگ سے جلد کو سب سے بڑا جو خطرہ لاحق ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے مرکری ہی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق ایشیائی ممالک میں تیار ہو کر فروخت کی جانے والی ہر چار میں سے ایک کریم بلیچ میں مرکری شامل کیا جاتاہے۔
کریم بلیچ کا لمبے عرصے تک استعمال قبل از وقت عمر رسیدگی لاتاہے۔
لمبے عرصے تک اگر ان کا استعمال کیا جائے تو سورج کی روشنی کا سامنا کرنے کے باعث جلد کا سرطان ہونے کا خطرہ کافی روشن ہو جاتاہے۔

اسکن لائٹنر یا بلیچ کریم کے استعمال کے بعد سورج کا سامنا کرنے سے قبل ہمیشہ معیاری سن اسکرین کا استعمال ضرور کریں۔
چند بلیچ کریمز میں اسٹیروائڈز کی موجودگی جلد کے انفیکشن ‘جلد کے پتلا ہو جانے‘کیل مہاسے نکلنے اور زخموں کے دیر سے بھرنے کی وجہ بن جاتی ہے۔
جلد بہت زیادہ خشک ہو سکتی ہے اگر اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جائے۔


اس میں ایمونیا کی شمولیت کے باعث جلدی جلدی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
بلیچ کا استعمال کب کرنا چاہیے
ایک سے دوسری بار بلیچ کرنے کے لیے مناسب وقفہ دینا ضروری ہے۔
اپنی جلد کی ساخت اور اس کی ضرورت کو سمجھیں اور اس کی مطابقت کے اعتبار سے بلیچ کریم کا استعمال کریں۔
بلیچ کرنے سے قبل جلد پر کٹ‘گھاؤ یا زخم کا دھیان ضرور رکھیں۔


بلیچ استعمال کرتے ہوئے ضمنی اثرات کاخیال رکھیں۔
احتیاطی تدابیر
بلیچ کرنے سے قبل ہمیشہ مطلوبہ مقام کو صابن سے اچھی طرح دھولیں بجائے اس کے کہ آپ بلیچ کے بعد دھوئیں۔بلیچ کے بعد چہرہ دھونے سے بلیچ کی اثر انگیزی میں کمی آتی ہے۔اس لیے چہرے کو نم اسپنچ کی مدد سے صاف کرلیں اور بلیچ کے بعد6-8گھنٹوں تک چہرے پر صابن یا فیس واش کا استعمال نہ کریں۔


گہری سانولی رنگت کی حامل خواتین10منٹ سے زیادہ ہر گز نہ لگائیں۔
بلیچ کرنے سے قبل اس کو ہمیشہ پہلے ٹیسٹ کریں بہتر یہی ہے کہ اس کو بازو پر لگا کر چیک کریں اور ٹیسٹ کے بعد ایک سے دو دن انتظار کریں کہ حسیت تو نہیں ہورہی‘اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا استعمال کیا جا سکتاہے۔
بلیچ کا استعمال کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لیں اور اس سے اس مصنوعہ کے متعلق مکمل ہدایات لیں۔


اس امر کو یقینی بنائیں کہ آپ کے زیر استعمال بلیچ کریم میں مرکری کی شمولیت نہ ہو۔اس کو درج ذیل ناموں سے بھی لیبلز پر شائع کیا جاتاہے۔اس لیے ہو شیاررہیں اور لیبل کو دھیان سے پڑھیں،۔کیلومل‘مرکیورک‘مرکیورس یا مرکیوریو۔
بلیچ کے بعد جلد پر آنے والی سرخی عارضی ہوتی ہے اور ایک یادو گھنٹے کے بعد جلد اپنی اصل حالت میں واپس آجاتی ہے۔

جلد کی سوزش اور جلن مندرجہ ذیل اسباب کے باعث ہو سکتی ہے۔
انتہائی حساس جلد
حسی رد عمل
دیگر سنگھاری مصنوعات کے ساتھ باہمی تعامل کریمز کی نامناسب مکسنگ
اگر بلیچ کے باعث جلد پر سوزش یا جلن محسوس ہوتو برف کی ٹکور کرنے یا ایلوویرا کی اساس کی حامل کریم لگانے سے جلد کی سوزش اور جلن تیزی سے ختم ہو جاتی ہے۔
گرم ہاتھ لینے کے بعد کبھی کریم بلیچ نہ لگائیں۔


کریم بلیچ کو مکس کرنے کے تیس منٹ کے اندر استعمال کر لینا ضروری ہے۔
خراش‘کھرونچ‘مسے تل‘جلدی بیماری کی صورت میں اور میک اپ پر نہ لگائیں۔اس طرح جلد پر جلن یا سوزش محسوس ہو سکتی ہے۔بلیچ کرنے کے 24گھنٹے کے بعد اسٹرینجنٹ لگائیں۔
کریم بلیچ بنانے کے لیے دھاتی چمچے یا پلیٹ کا استعمال نہ کریں کہ یہ کیمیائی رد عمل کا سبب بن جاتے ہیں‘جو جلد کے لیے مناسب صورتحال نہیں۔


استعمال کے بعد کنٹینرز کو مضبوطی سے بند کریں۔
اس کو ہمیشہ ٹھنڈی ‘خشک اور اندھیری جگہ پر گرمی سے دور رکھیں۔
بلیچ کریم کا استعمال ضرور کریں لیکن صرف ضرورت کے وقت اور ہمیشہ اس کا استعمال کرتے ہوئے بہت توجہ اور احتیاط سے کام لیں ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ بلیچ کریم کے درست استعمال کا طریقہ معلوم کریں تاکہ اس کا کوئی منفی اثر جلد پر نہ ہوسکے کیونکہ اس سے جلد پر منفی اور مثبت دونوں طرح کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔لہٰذا احتیاط اور توجہ کا دامن نہ چھوڑیں تاکہ اس سے جلد کو نقصان نہ پہنچے۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-28

Your Thoughts and Comments

Special Skin Care article for women, read "Bleach Cream Saaf Or Chamakdar Jild Ka Raaz" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.