Jild Ke Liye Behtareen Sabun Ka Intikhab

جلد کیلئے بہترین صابن کا انتخاب

منگل جنوری

Jild Ke Liye Behtareen Sabun Ka Intikhab

بڑھتی ہوئی آلودگی ‘گردو غبار اور موسم کی سختیوں کے مقابلے کے لیے صابن کا استعمال بہت ضروری ہے
باتھ ٹب میں ایک اچھی کوالٹی والے صابن سے نہانا ایک فرحت انگیز عمل ہے
ایک بہت اچھی صبح کا آغاز ایک فرحت بخش غسل سے ہوتا ہے ۔صابن کے نرم نرم جھاگ کا لمس آپ کی جلد کے ہر مسام کو پوری سے سے بیدار کردیتا ہے ۔صابن آپ کی جلد کا بہترین دوست ہے جو آپ کے سارے جسم پر آزادی کے ساتھ گردش کرتا رہتا ہے ۔

صحت اور صفائی ساری نوع انسانی کے وجود کے لئے بہت ضروری ہیں اور صفائی کا تصور صابن کے بغیر ایسا ہی ہے جیسے ہوا کے بغیر سانس لینے کا تصور ۔
صابن کیا؟فی الحقیقت یہ ایک صفائی کرنے والی شے ہے آسان ترین مفہوم میں یہSaponified چربی ہے ۔جب چربی اور الکلی کو آپس میں ملا کر ابال لیا جاتا ہے تو ہمیں صابن حاصل ہوجاتا ہے ۔

(جاری ہے)


اس کے لئے کئی حیوانی یا نباتاتی چربیاں استعمال کی جاسکتی ہیں ۔

جانوروں کی چربیوں میں بھینسوں ‘
گایوں اور بکریوں وغیرہ کی چبری شامل ہے۔نیز وہیل کا سخت کیا ہوا تیل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
نباتاتی تیلوں میں ناریل کا تیل‘پام کا تیل ‘بنولے کا تیل ‘زیتون کا تیل ‘سویا کا تیل اور دوسرے تیل شامل ہیں الکلی میں سوڈا اور پوٹا ش جیسی اشیاء استعمال کی جا سکتی ہیں ۔صابن بنانے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں اور ان کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ کس قسم کا صابن بنایا جارہا ہے ۔


صابن کی تشکیل ہو سکتا ہے کہ محض حادثاتی رہی ہو لیکن یہ نوع انسانی کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا ہے ۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ رومیوں نے کسی اور قوم سے صابن بنانا سیکھا تھا جبکہ اس قوم کے لوگوں نے بھی یہ فن کسی اور سے سیکھا تھا۔ صابن بنانے کی صنعت نے بہت آہستہ آہستہ ترقی کی اور ابتدا میں جو صابن بنائے جاتے تھے وہ سخت ودرشت نوعیت کے ہوتے تھے ۔

ان میں لطافت اور نزاکت نہیں ہوتی تھی ۔
آج ہمارے پاس درجنوں اقسام کے صابن موجود ہیں جن کے استعمالات الگ الگ ہیں ۔آج ہمارے پاس ٹوائیلٹ سوپ ہیں ۔برتن دھونے والے صابن ہیں ۔کپڑے دھونے والے صابن ہیں ۔
قالین دھونے والے صابن ہیں ۔طبی خصوصیات کے حامل صابن ہیں اور متعدد دیگر اقسام کے صابن ہیں جن میں فرش اور دیواریں وغیرہ دھونے کے لئے بھی طرح طرح کے صابن شامل ہیں ۔

آج ایسے صابن بھی موجود ہیں جو صرف بچوں کی نرم ونازک جلد کے لیے ہوتے ہیں یا جو صرف چہرہ دھونے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں ۔
ٹوائیلٹ سوپ سب سے عمدہ کو الٹی کے ہوتے ہیں اور جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ‘وہ جسم کی دھلائی اور صفائی کے لیے ہوتے ہیں ۔ان صابنوں کے بارے میں مزید کچھ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا ۔ٹوائیلٹ سوپ میں چربی اور تیل کی سب سے زیادہ مقدار شامل ہوتی ہے جس کے باعث وہ ہماری جلد کے لئے کمترین نقصان دہ ہوتے ہیں صابن کا صفائی کرنے والا عمل اس الکلی کی بدولت وجود میں آتا ہے جو کہ صابن کے اندر شامل ہوتی ہے ۔


صابن کو جب جلد پرملا جاتا ہے تو اس کا کچھ حصہ اس سے الگ ہو کر جلد کی چکنائی کیسا تھ شامل ہو جاتا ہے یہ جلد پر موجود میل کی تہوں کو صاف کرتا ہے ۔میل کی تہیں اس کے ساتھ مل جانے کے بعد نرم پڑجاتی ہیں اورپھر وہ پانی سے با آسانی دھل کر صاف ہو جاتی ہیں ۔یہی سبب ہے کہ ہم صابن سے نہانے کے بعد خود کو اتنا زیادہ تروتازہ محسوس کرتے ہیں ۔صابن کے استعمال سے جسم کے تمام مسام کھل جاتے ہیں ‘صاف ہو جاتے ہیں اور وہ” سانس لینا“شروع کر دیتے ہیں ۔


تاہم یہ ضروری ہے کہ ٹوائیلٹ سوپ ہلکا ہو اور مضر اجزاء سے پاک ہو ۔اس کے اجزاء کی ترتیب اس طرح ہونی چاہئے کہ چربی کے اثرات کے حامل تیزاب اور الکلی ایک دوسرے کے اثر میں توازن پیدا کر دیں ۔الکلی کی زیادہ مقدار کا پتہ ایک آسان سے ٹیسٹ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے اور اس کے مطابق صابن کے استعمال کا فیصلہ کرنا چاہئے ۔اس مقصد کے لئے لٹمس(Litmus) پیپر کو استعمال کیا جاتا ہے ۔

اگرلٹمس پیپرا پنے ہلکے اور قدرتی رنگ کو برقرار رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ صابن ہلکا ہے لیکن اگر کا غذ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں الکلی کی مقدار زیادہ ہے ۔
علاوہ ازیں اگر کسی صابن کے استعمال کے بعد جلد میں خارش ہونے لگتی ہے یا جلد میں بہت زیادہ خشکی نمودار ہوجاتی ہے تو یہ صابن آپ کے لئے مناسب نہیں ہے ۔بہت تیز قسم کے صابن اگر چہ سستے ہوتے ہیں لیکن وہ جلد کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔


ایک زمانہ تھا جب کہ صابن موجود نہیں تھا ۔اس وقت چہرے اور جسم کی صفائی کے لئے دوسری اشیاء استعمال کی جاتی تھیں ۔لوگ اپنے جسموں پر تیل ملتے تھے یا طرح طرح کے رس اور نباتاتی عرق وغیرہ استعمال کرتے تھے ۔کئی قسم کی مٹی بھی جسم کو صاف کرنے کے لئے استعمال کی جاتی تھی ۔
بیسن میں دودھ ملا کر اس کا لیپ کرنے اور اسے جسم پر ملنے کا طریقہ برصغیر میں بہت پرانا ہے ۔

اس لیپ کو مزید موثر اور بہتر بنانے کی غرض سے اس میں پسی ہوئی ہلدی اور صندل کو بھی شامل کر دیا جاتا ہے ۔
تقریبات کے موقع پر لوگ اسی طریقے سے ابٹن تیار کرتے تھے اور اسے بدن پر ملتے تھے اور ابٹن کا استعمال ہندوستان اور پاکستان میں آج بھی بہت عام ہے ۔خاص طور سے شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کے جسم پر ابٹن کی مالش کرنا تو گویا شادی کے لوازمات میں سے ایک ہے ۔


آج انسانی چہرے اور جسم کی صفائی کے لئے صابن کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے ۔بڑھتی ہوئی آلودگی ‘گردو غبار اور موسم کی سختیوں کے مقابلے کے لئے صابن کے استعمال کی اشد ضرورت ہے ۔
جلد کو نظر انداز مت کیجئے
اگر آپ اپنی جلد پر کوئی توجہ نہیں دیں گی تو وہ اور زیادہ خراب ہوتی جائے گی اس پر دھول مٹی ‘میل کچیل کی اور مردہ خلیوں کی تہیں چڑھتی جائیں گی جن میں طرح طرح کے جراثیم آزادی کے ساتھ پرورش پاتے رہیں گے اس کی وجہ سے آپ بہت سارے جلدی امراض میں مبتلا ہو سکتی ہے۔


اس صورت حال سے بچنے کی غرض سے صابن کو کبھی بھی پانی کے بغیر استعمال نہیں کیا جاتا ۔اس کو ہمیشہ پانی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور صابن اور پانی کے آمیزے کی مدد سے جلد کو صاف کیا جاتا ہے ۔
پانی کاکام یہ ہوتا ہے کہ وہ جلد کو گیلا کردیتا ہے اور پھر جب اس پر صابن ملا جاتا ہے تو اس میں جھاگ پیدا ہوتا جو جلد پر موجود گندگی اور چکنائی کو صاف کر دیتا ہے پھر جب جلد پر مزید پانی کے چھپا کے مارے جاتے ہیں تو جلد بالکل صاف ہو جاتی ہے ۔


تاہم ‘سب کچھ بالکل ایسا ہی نہیں ہے ۔ہر چیز کے کچھ نہ کچھ منفی پہلو بھی ہوتے ہیں ۔گندگی کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ صابن جلد پر خشکی کے اثرات بھی پیدا کرتا ہے ۔چنانچہ صابن کے بہت زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہئے ۔صابن کا زیادہ استعمال جلد کو اس کی حفاظتی تہ سے محروم کر سکتا ہے اس کی وجہ سے جلد انفیکشن کا اثر بہت جلد اور آسانی کے ساتھ قبول کرلے گی۔


اگر آپ کی جلد دھلنے کے بعد بہت زیادہ خشک محسوس ہوتو آپ اس پر کوئی موئسچرائزر استعمال کریں ۔
متبادل طور پر اسے صابن کا انتخاب کریں جس میں تیل اور موئسچرائزر شامل ہوں ۔ایسے صابن بھی مفید ہیں جن میں گلیسرین شامل ہویا جن میں چربی کی زیادہ تعداد موجود ہو ۔تاہم ایسے صابنوں کو زیادہ عرصے تک نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ اس طرح ان میں بدبو پیدا ہو سکتی ہے ۔

صابن میں الکلی ‘چربی ‘خوشبو ‘رنگنے والا مادہ اور بعض اوقاتAnti-Oxidants بھی شامل ہوتے ہیں جن کے باعث انہیں زیادہ عرصے تک الماری میں رکھا جا سکتا ہے ۔
بعض صابن تو خالصتاً کا سمیٹک ہوتے ہیں جبکہ بعض دوسرے صابن طبی خواص کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ جراثیم کو ہلاک کرتے ہیں ۔فی الوقت جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ صابنوں کا رواج بھی بڑھ رہا ہے اور انہیں خاصے بڑے پیمانے پر تیار اور استعمال کیا جارہا ہے ۔

نیم ‘ہلدی اور چندن وغیرہ کے صابن ایک عرصے سے بازار میں موجود ہیں ۔پھولوں کے تیل والے یا جانوروں سے حاصل ہونے والی اشیاء جیسے مشک والے صابن بھی استعمال میں آرہے ہیں لیکن ان کی قیمت زیادہ ہیں ۔
خوشبودار صابن
صابنوں کی دنیا میں ایک نیا اضافہ ایسے صابنوں کا ہے جو پھلوں اور پھولوں کے ایسنس اور خوشبو کے حامل ہوتے ہیں ۔آڑو ‘سیب ‘رس بھری ‘چیری ‘انگور ‘بادام وغیرہ کی خوشبو کے صابن تیار کئے جارہے ہیں ۔

ملتانی مٹی سے بھی صابن بنائے جارہے ہیں جو طبی خواص کے حامل ہوتے ہیں اور اسی طرح کی دوسری قدرتی اشیاء سے صابن تیار کئے جارہے ہیں جو صفائی کی بہت عمدہ قوت کے حامل ہوتے ہیں ۔
گلیسرین کے صابن ایک طویل عرصے سے زیر استعمال کریں ۔گلیسرین ہلکی ہوتی ہے اور وہ خشکی کے اثرات کو کم کرتی ہے یہ جلد کے لئے بہت تیز نہیں ہوتی اور ان لوگوں کے لئے بہت مفیدہے جو طویل عرصے سے جلدی تکالیف کا شکار ہیں ۔


”اروماتھراپی “(خوشبو کے ذریعے علاج )والے صابن ‘صابنوں کے خاندان میں ایک نیا اضافہ ہیں ۔ ان صابنوں میں الکلی کی مقدار کم ہوتی ہے اور انہیں اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ یہ جسم کو ایک صحت مند چمک عطا کرتے ہیں ۔
ٹوائیلٹ سوپ اب مختلف شکلوں کی ٹکیوں میں دستیاب ہیں ۔نیز بوتلوں میں رقیق حالت میں بھی دستیاب ہیں ۔رقیق صابن ہاتھ دھونے کے لئے بھی بڑے پیمانے پر استعمال کئے جاتے ہیں ۔

خاص طور سے ہوٹلوں ‘اسپتالوں ‘لیباٹریوں ‘ہوائی اڈوں اور دوسرے پبلک مقامات پر ۔
طبی خواص کے حامل صابن جلدی تکالیف کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور کاربولک ایسڈ والے صابن کو اینٹی سیپٹک اثرات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
صابن کا انتخاب کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھئے۔
ایسے صابن کا انتخاب کیجئے جو آپ کی جلد کے لئے مناسب ہو ۔


صابن میں ہلکی سی خوشبو اور ہلکا سارنگ ہونا چاہئے ۔تیز خوشبو کو غیر معیاری چربی کو بو کودبانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔گہرے رنگوں کو دیگر نقصان دہ اجزاء کے خراب رنگوں کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
اگر کوئی صابن الرجی پیدا کرتا ہے تو اس کے استعمال کو فوراً ہی ترک کر دیجئے۔
ایسا صابن بچوں کی جلد کے لیے بہت مفید ہے جس میں زیتون کے تیل کا زیادہ تناسب موجود ہو ۔


ایسا صابن موسم سرما میں استعمال کے لئے زیادہ مفید ہے جس میں موئسچرائزر کا تناسب زیادہ ہو جبکہ گرمی کے موسم کے لیے لیموں کا اثر والا صابن زیادہ موزوں ہے ۔
صابن کی قیمتیں دس بارہ روپے فی عدد سے لے کر کئی سوروپے فی عدد تک ہیں ۔بہت زیادہ قیمتی صابن بھی بازار میں موجود ہیں ۔اگر آپ کو اپنی جلد عزیز ہے اور آپ اس کی مناسب طور پر دیکھ بھال کرنا چاہتی ہیں تو پھر ایک اچھے صابن کا انتخاب کیجئے۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-22

Your Thoughts and Comments

Special Skin Care article for women, read "Jild Ke Liye Behtareen Sabun Ka Intikhab" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.