Keel O Mahasoon Se Jaan Churaiye - Skin Care

کیل و مہاسوں سے جان چھڑائیے - جلد کی حفاظت

جمعرات نومبر

Keel O Mahasoon Se Jaan Churaiye
ڈاکٹر قرة العین بدر
یہ ایک عام تصور ہے کہ چہرے پر کیل‘مہاسے اور جھائیوں کے نکلنے کا تعلق بلوغت سے ہے۔ نوجوان لڑکیوں کے لئے تو خاص طور پر اس تصور کو یقین کا درجہ حاصل ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ برس پندرہ کہ سولہ کے سن سے بہت بڑی عمر کی بھی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی ان کیل و مہاسوں کے مسئلے سے دو چار ہے۔

طبی اصطلاح میں اس مرض کو بلکہ زیادہ صحیح اس مسئلے کو (کہ یہ مرض کم اور مسئلہ زیادہ ہے) ایکنی (ACNE) کہا جاتا ہے۔ اگر آپ بھی اس مسئلے سے دو چار ہیں تو خوش ہو جائے کہ”مرگ انبوہ جشنے وارد“ اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کیل و مہاسوں کا کوئی تشفی بخش علاج نہیں ہے (ٹیلی ویژن کے”سو فیصد کامیاب علاج“ کے ناچتے‘گاتے اشتہاروں پر نہ بھروسہ کیجیے اور نہ ہی اُن کو آزمانے کی کوشش کیجیے کہ نیک و بدہم سمجھائے دیتے ہیں حضور کو) تاہم آپ چند اندرونی اور بیرونی قابل بھروسہ علاجوں سے ان کیل و مہاسوں کے پھوٹ پڑنے پر قابو پا سکتی ہیں۔

(جاری ہے)

اس طرح کہ آپ کے چہرے پر ان کے ناپسندیدہ نشانات بھی باقی نہ رہ جائیں اور ان کی وجہ سے چہرے پر چکناہٹ اور روغنیت کا تاثر بھی ختم ہو جائے۔
کیل و مہاسے ایک دیرینہ التہابی (Chronic Inflammatory) مرض ہیں‘جس میں بال و چکنائی کے غدود متاثر ہوتے ہیں۔ان میں ورم پیدا ہونے کے بعد ایک نقطہ نما سیاہ رنگ کا نشان بن جاتا ہے جس کو ”کیل“ یا”کومیڈون“ (Comedone) کہتے ہیں۔

اس متورم غدہ کو دبانے سے ایک سفید کیل باہر نکل آتی ہے۔یہ دراصل چکنائی (Sebum) ہے جس کا بیرونی حصہ کیمیائی عمل کی وجہ سے سیاہ پڑ جاتا ہے اور سیاہ سر یا نقطہ (Black Head) کہلاتا ہے۔اگر اس وقت ان پر جراثیم کا حملہ ہو جائے تو ان غدود میں پیپ (Pus) پڑ جاتی ہے جو پیپ والے چھالوں (Pustule) کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔بعض اوقات یہ گٹھلی یا رسولی (Cyst) کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ گٹھلیاں یا رسولیاں چہرے پر بنتی ہیں لیکن یہ گردن‘سینے اور شانوں پر بھی بن سکتی ہیں۔عموماً یہ بلوغت میں شروع ہونے والا مرض ہے اور کئی سال تک برقرار رہ سکتا ہے۔20 سال تک عمر تک پہنچنے پر اس مرض کی شدت میں کمی واقع ہونا شروع ہوتی ہے لیکن اس کے اثرات مدتوں برقرار رہتے ہیں ۔کچھ خواتین میں یہ مرض کم عمری (14-15سال) میں ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے اور یہ مرض عموماً 25 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ختم ہو جاتا ہے لیکن اس سے بڑی عمر میں بھی یہ مرض اب عام مشاہدے میں آنے لگا ہے۔


کیل و مہاسوں یا ایکنی کی خاص نشانی یعنی سیاہ نقطہ نما نشانات (Black Heads) اُن غدود کے غیر معتدل رویے اور فعل کی وجہ سے بنتے ہیں اور غدود کے مخرج پر نقص شدہ کیراٹن (Keratinization) کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ان ہی کو کیل مہاسے یا چربی دانے یا کومیڈون (Comedone) کہتے ہیں۔ان کیلوں یا مسوں کی وجہ سے غدود کا مخرج بند ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے غدود میں ورم آجاتا ہے۔

اگر اس مرحلے پر مزید انفیکشن یا عفونت ہو جائے تو اس کیل کے چاروں طرف عفونت سے بھرپور آبلے (Pustules) یا چھالے پڑجاتے ہیں اور ان کی وجہ سے جلد کی گہری تہیں متاثر ہوتی ہیں جس سے چہرے پر نا پسندیدہ بدنما داغ نمایاں ہوتے ہیں۔ معمولی نوعیت کی بیماری میں صرف کیلیں بنتی ہیں یا پھر چھوٹے چھوٹے دانے بنتے ہیں۔اگر جلد بہت حساس ہو اور زیادہ متاثر ہو جائے تو پھر متاثرہ جلد کی شکست و ریخت ہوتی ہے اور اس کا زوال شروع (Atrophy) ہو جاتا ہے ۔

یعنی جلد یا تو اکھڑنے لگتی ہے یا اُس کا اپنا فعل متاثر ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے چہرے پر چھوٹے چھوٹے گڑھے پڑ جاتے ہیں۔یہ گڑھے چاہ زخنداں‘ یا ڈمپل (Dimple) سے علیحدہ چیز ہیں۔بعض اوقات ان غدود میں گٹھلیاں (Papules) بن جاتی ہیں جو دبانے میں سخت محسوس ہوتی ہیں۔
ان کیل‘مہاسوں یا ایکنی کی وجوہات میں ہارمونی‘بیکٹیریائی اور التہابی یا سوزشی (Inflammatory) تبدیلیاں اور اثرات شامل ہیں ۔

خواتین میں ان وجوہات میں ہارمونی اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔شاید یہ کہنا بجا ہو کہ خواتین میں خاص طور سے ان کیل و مہاسوں و مسوں اور جھائیوں یا ایکنی کا اصل سبب ہارمون ہیں جو کہ بلوغت کے آثار محرک ہو جاتے ہیں اور اس طرح بالوں اور شحمی غدود (Pilosebaceous Gland) یا چربیلی غدود پر اثر انداز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے غدود پر ورم یا سوجن آجاتی ہے۔

مہاسوں اور مسوں کی افزائش میں غذا کا بھی کچھ نہ کچھ کردار ضرور ہے ۔کہا جاتا ہے کہ نشاستہ دار اشیاء مہاسے بڑھاتی ہیں۔نیز زیادہ مرغن اشیاء یا ایسی اشیاء جن میں آیوڈین کی افراط ہو یعنی آیوڈین زیادہ مقدار میں شامل ہو۔وہ بھی مہاسے پیدا کرتی ہیں۔مٹھاس‘چاشنی اور ہوا بند مشروبات یعنی کولڈ ڈرنکس کی زیادتی سے بھی مہاسوں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔

جذباتی کیفیت اور ہیجان و پریشانی وغیرہ بھی مہاسوں کی افزائش میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔جن افراد کی جلد میں چربی کے غدود زیادہ ہوتے ہیں‘اُن میں مہاسے پیداہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں اور مسام بند ہونے پر چربی کے غدود میں کیلیں پیدا ہوتی ہیں۔مہاسوں کی پیدائش میں جراثیم کا بھی اپنا ایک کردار ہے۔
نوچیں یا نہ نوچیں!
ایکنی کو مزید پھیلنے سے روکیں۔

ان کیلوں اور مہاسوں کو نوچنے یا کھسوٹنے سے صرف سوزش بڑھتی ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔اس کی وجہ سے چہرے پر نشانات پڑ سکتے ہیں ۔اس لئے کیل و مہاسوں کو اپنے ہاتھوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور صرف انتظار فرمائیے کہ وقت خود سے سب بڑا مرہم ہے۔
کیل و مہاسوں یا ایکنی صاف کرنے والے لوشن اور کریمیں کس طرح کام کرتی ہیں؟
کیل و مہاسوں (ایکنی) کو صاف کرنے والے لوشن اور کریمیں جمع شدہ تیل‘چربی‘میک اپ اور پسینے کو صاف کرتے ہیں‘لیکن اُس کے ساتھ ہی سوزش‘جلن (Inflammation) میں اضافہ کرتے ہیں اور مہاسوں کے نشانات اور داغ چھوڑ جاتے ہیں۔

بہتر طریقہ یہ ہے کہ کپڑے کی ایک گدی کو گرم کرکے اُس سے ان مہاسوں کو دبایا جائے اور پھر اگر ضرورت ہو تو کسی چمٹی سے ان سیاہ دانوں کو کھینچ لیا جائے ۔جلد کو خشک کرنے والے ضد جراثیمی لوشن (اینٹی بیکٹیریل لوشن) ‘نرم صابن‘اور طبی طور پر تیار کردہ کریمیں میڈی کیٹڈ کریمیں (Medicated Creams) ایسی جلد کے لئے بہت مفید‘کار آمد اور سازگار ہوتی ہیں جو ”ایکنی دوست“یا ”ایکنی پسند“ (Acne Prone) ہوتی ہیں۔

اگر آپ میک اپ کرتی ہیں تو آب اساسی مصنوعات (Water Based Products) شحم اساسی یا روغن اساسی مصنوعات (Oil Based Products) سے زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔نیز ایسی ہر پراڈکٹ کے استعمال سے پرہیز کیجیے جس سے آپ کے چہرے کی جلد کھنچی ہوئی یا خشک محسوس ہوتی ہو۔اگر آپ کی جلد کی بالائی سطح اور تہہ کو اتنا زیادہ کھینچا گیا ہو کہ وہ خشک ہوکے سکڑ گئی ہو تو اس سے چربی اور تیل کے بہاؤ میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے جس کی وجہ سے تیل جمع ہو سکتا ہے اور مزید سیاہ نقطے پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔


متبادل طبی حلوں کی دستیابی
اگر آپ کے چہرے پر کیل اور مہاسے ضرورت سے زیادہ ہوں یا پھر اُن میں جلن اور درد ہو تو آپ کو فوراً کسی ماہر امراض جلد سے رجوع کرنا چاہیے۔وہ شاید آپ کو ”ٹریٹی نون“ (Tretinoin) کی کریم تجویز کرے۔یہ کریم میڈیکل اسٹورز پر ریٹن اے (Retin A) کریم کے نام سے ملتی ہے۔نیز شدید ابتدائی حملے کی صورت میں وہ ”ایکوٹین “ (Accutane) کریم بھی دے سکتا ہے۔

ان کے ساتھ ہی ماہر امراض جلد کوئی ضد حیاتی (Antibiotic) ادویہ مثلاً ٹیٹرا سائکلین یا مائینو سائکلین یا ”اوکسی ٹیٹرا سائکلین“ بھی تجویز کر سکتا ہے۔نیز دو فیصد سلفر کے ساتھ ملاکے’‘’کیلامین لوشن“ (Calamine Lotion) لگانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔دوسری ادویات مثلاً ”ریسورسی نول“ (Resorcinol) اور سوڈیم فیوسی ڈیٹ (Sodium Fusidate) کو متاثرہ جلد پر لگانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ”بینز وائل پر آکسائیڈ (Benzoyl Peroxide) 0.5فیصد کی کریم بھی دانوں پر لگائی جا سکتی ہے یا اُس کے علاوہ 5 فیصد ڈائی میتھائیل سلف آکسائیڈ (Dimethyl Sulfoxide) کریم یا مرہم (Salves) بھی لگایا جا سکتا ہے۔اگر آنکھوں میں جلن یا خارش ہو تو پھر کورٹی زون کے قطرے آنکھوں میں ڈالے جا سکتے ہیں۔اگر مریض بہت پریشان‘ بے چین اور مضطرب ہو اور یہ کیل‘مہاسے اور جھائیاں زیادہ تنگ کر رہے ہوں تو پھر سکون آور اور خواب آورادویہ (Tranquilizers) بھی دی جا سکتی ہیں مگر ان ادویات کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے۔


کیل‘مہاسوں اور جھائیوں سے حفاظت اور بچاؤ
اچھی اور صحت مند جلد کے لئے بھی ورزش بہت ضروری ہے کیونکہ کہ اس سے دوران خون بڑھتا ہے لیکن خیال رکھیے کہ ورزش کرتے وقت آپ نے کسی قسم کا کاسمیٹکس یا کوئی موئسچرائزنگ یا کولڈ کریم اپنے چہرے اور جسم پر نہ مل رکھی ہوں کیونکہ ان کی وجہ سے پسینے کے آزادانہ بہاؤ میں رکاوٹ پڑتی ہے‘جس کی وجہ سے مسامات بند ہو جاتے ہیں۔

پیشانی‘گردن اور چہرے پر پسینہ جذب کرنے والی پٹیاں بھی استعمال نہ کی جائیں۔ان سے بھی پسینہ اور چربی جلد میں جمع رہتی ہے۔کیل مہاسوں اور جھائیوں سے حفاظت کے سلسلے میں اپنی جلد کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں۔صاف و سادے پانی سے دن میں متعدد بار چہرہ دھوئیں اس کے علاوہ جلد کو پانی سے دھونے کے ساتھ ساتھ جراثیم کش صابن کا بھی استعمال مفید ہوتا ہے۔

چہرے پر اگر بالوں کا رواں ہو تو اُس کو بھی اچھی طرح صاف کر لینا چاہیے تاکہ آپ کا چہرہ کھجلی (Scalp Oil) کے مسائل سے محفوظ رہے۔اسی طرح سے بالوں کی ایسی نگہداشتی و آرائشی مصنوعات سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جن میں Animal Fat اور روغن شامل کئے گئے ہوں۔
کیل و مہاسوں یا ایکنی کا ایک علاج یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ صبح کے اوقات میں مناسب وقفے سے دھوپ سینکی جائے یا شمسی چراغ (لیمپ) کی روشنی میں رہا جائے۔

اس سے ایکنی میں افاقہ ہوتا ہے لیکن تیز دھوپ دیگر مسائل کو جنم دیتی ہے۔مثلاً نرم و ملائم و روشن جلد کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور خدا نخواستہ اس سے جلدی سرطان کے ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔لہٰذا اس علاج کی خاطر صبح کا وقت انتہائی موزوں رہتا ہے کیونکہ صبح کے اوقات میں دھوپ کی تمازت قدرے کم ہوتی ہے۔اسی طرح غسل دخان (Steam Bath) یا سوانا لینے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ان سے کیل و مہاسے یا ایکنی کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ بھی ہو سکتا ہے۔

آپ قدرتی گرمی اور ہوا کی رطوبت و نمی کے معاملے میں تو مجبور ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں یہی اصل غسل د خان اور سوانا ہیں لیکن اپنی جلد کو صاف ستھرا رکھنے اور چہرے یا جلد پر جمع ہو جانے والی چربی اور چکنائی کو بار بار صاف کرنے سے ایکنی کے حملے سے بچا جا سکتا ہے۔یاد رکھیے کہ کسی بھی قسم کا ذہنی یا کوئی اور دباؤ اور پریشانی ایکنی کے مسئلے کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔

کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اپنی جلد یا کھال کے نیچے کسی دباؤ یا پریشانی کو جنم ہی مت لینے دیجیے۔نہ کوئی دباؤ جنم لے گا‘نہ اُس کی پرورش ہو گی اور نہ ہی اُس کو پنپنے کا موقع ملے گا۔ایسا سادہ طرز زندگی اختیار کیجیے کہ آب دباؤ سے آزاد رہیں کیونکہ پُرسکون اور ذہنی دباؤ سے پاک طرز زندگی گزارنے سے نہ صرف آپ کی جلد کو ہی فائدہ پہنچتا ہے بلکہ اس عمل سے آپ کے اعضائے رئیسہ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے!
تاریخ اشاعت: 2020-11-19

Your Thoughts and Comments

Special Skin Care article for women, read "Keel O Mahasoon Se Jaan Churaiye" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.