Khobrat Jild - Mager Kaise?

خوبصورت جلد․․․․․․ مگر کیسے؟

جمعہ نومبر

Khobrat Jild - Mager Kaise?

اگر کوئی پوچھے کہ دلکش چہرے کی سب سے اہم خوبی کیا ہے تو اس کا آسان جواب ہے صحت مند جلد․․․․جس کے بغیر خوبصورت چہرے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔آپ کے نین کتنے ہی دلآویزہوں اور رنگ کتنا ہی نکھرا ہوا ہو،اگر جلد پر کیل چھائیاں ہیں یا وہ آپ کی بے پروائی کے سبب مرجھائی ہوئی ہیں تو تمام دیگر خوبیاں ماند پڑجاتی ہیں۔اس لیے اگر آپ کو جاذب نظر بننا ہے تو سب سے پہلے اپنی جلد کی حفاظت اور صفائی پر توجہ دیجئے۔


اس سے پہلے کہ آپ جلد کی حفاظت کے طریقوں سے آگاہ ہوں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی جلد کی ساخت کس قسم کی ہے یعنی چکنی،خشک یا نارمل ہے؟یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ساخت کے اعتبار سے جلد کی حفاظت کے طریقے بھی مختلف ہیں ۔ساخت کے لحاظ سے عموماً جلد کی تین قسمیں ہیں۔

(جاری ہے)


چکنی جلد
یہ جلد کی ایسی قسم ہے جس پر اکثر اوقات چکنائی یا تیل جلد نظر آتاہے ۔

اس جلد کے نیچے ایسے خلیے ہوتے ہیں جن سے ہر وقت تیل نکلتا ہے جو جلد پر آجاتا ہے۔یہ اس جلد کا قدرتی مزاج ہے جس کو بدلا نہیں جا سکتا،البتہ مناسب تدابیر سے اس کے نقصانات سے بچاجا سکتا ہے۔چکنی جلد کے نیچے سے جوتیل نکلتاہے وہ چہرے پر جم کر مہاسہ بن جاتاہے۔اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ جلد پر تیل جمنے نہ پائے۔اس مقصد کے لیے چہرے کو دن میں پانچ بار اچھے صابن سے دھونا چاہیے۔

بیسن سے دھونا بھی مفید رہتاہے۔کسی اچھے کلینرنگ لوشن یا آفٹر شیو سے بھی چہرے کو صاف کیا جا سکتا ہے جس سے چہرے کاتیل کم ہوتاہے۔ہم ایسی جلد کو بدل نہیں سکتے،تاہم احتیاطی تدابیر ضرور کر سکتے ہیں تاکہ مہا سے کم بنیں۔چکنی جلد کے لیے انڈے کی سفیدی کا ماسک بھی بہت مفید ہوتاہے۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ انڈے کی سفیدی الگ کرکے پھینٹ لیجئے اور چہرہ اچھی طرح صاف کرکے چہرے پر لگا کر سکون سے لیٹ جائیے۔

دس پندرہ منٹ بعد تاز ہ پانی سے چہرہ دھولیجئے۔ماسک لگا کر گفتگو سے پرہیز کیجئے ورنہ چہرے پر جھریاں پڑ سکتی ہیں۔
خشک جلد
یہ ایسی جلد ہے جس کو نرم اور ملائم کرنے کے لیے ہمیں بیرونی امداد کی ضرورت ہوتی ہے یعنی کوئی کریم یا لوشن لگا کر چہرے کے لیے مطلوبہ نمی اور چکنائی فراہم کرنا پڑتی ہے،چونکہ یہ جلد اندرونی چکنائی اور نمی سے محروم ہوتی ہے۔

اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اس پر مہاسے بالکل نہیں ہوتے ،مگر خشک ہونے کی وجہ سے یہ کھردری نظر آتی ہے جو جلد کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ایسی جلد پر جتنا پانی لگایا جائے اتنا ہی نقصان دہ ہوتاہے کیونکہ اس سے خشکی بڑھتی ہے۔دھوپ اور ہوا سے پانی خشک ہوجاتاہے تو جلد اور زیادہ خشک ہو جاتی ہے ۔خاص طور پر سردیوں میں تو ایسی جلد کے لیے بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔

ایسی جلد رکھنے والوں کے ہونٹ بھی اکثر پھٹے رہتے ہیں اور ہاتھوں کی جلد میں بھی لکیریں نمایاں نظر آتی ہیں۔خشک جلد کو گیلا کرکے اس پر کوئی کولڈ کریم یا لوشن لگانا مفید ہوتا ہے جس سے نمی جلد میں قید ہو جاتی ہے۔موئسچرائزریا مرطوب کنندہ بھی اسی اصول کے تحت بنائے جاتے ہیں جو چہرے کی نمی خاصی دیر تک بر قراررکھتے ہیں ۔خشک جلد والوں کے لیے ابٹن کا مساج اور انڈے کی زردی میں زیتون کے تیل کا ماسک بہت مفید ہوتاہے۔

ایسی جلد کو کم سے کم دھونا چاہیے بلکہ اس کی صفائی کے لیے کلینزنگ لوشن زیادہ مفید رہتاہے۔
معتدل جلد
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ جلد نہ تو چکنی ہے اور نہ ہی اتنی خشک کہ کھردری ہوجائے۔ایسی جلد بہت اچھی ہوتی ہے کہ ہر موسم کا ساتھ دیتی ہے ،مگر جلد کا معتدل مزاج بر قراررکھنے کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے۔اگر یہ سوچ لیا جائے کہ ایسی جلد کو حفاظت اور صفائی کی ضرورت نہیں تو آپ اپنی جلد کی قدرتی خوبیوں سے محروم بھی ہوسکتی ہیں۔

ایسی جلد کے لیے کھیرے کا ماسک مفید ہوتاہے۔اس جلد کو ضرورت سے زیادہ گردوغبار سے بچانا چاہیے تاکہ یہ زیادہ مدت تک شگفتہ رہے۔
چہرے کی حفاظت کا ذکر میک اپ کے بغیر ادھورا ہے کیونکہ اکثر خواتین میک اپ کے بغیر اپنی تیاری مکمل نہیں سمجھتیں۔اور بعض اوقات وسائل کی کمی یا لا علمی کے سبب اتنا زیادہ میک اپ کرتی ہیں جو آخر کار ان کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ میک اپ ہر وقت نہیں کرنا چاہیے کہ کسی وقت بھی چہرے کو تازہ ہوا نہ لگے۔دوسری بات یہ ہے کہ میک اپ کا غیر معیاری سامان جلد کے لیے سخت نقصان دہ ہوتاہے جس سے جلد بہت جلد اپنی شگفتگی کھودیتی ہے۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ میک اپ کم ہی کیا جائے اور اس کے لیے صرف معیاری اشیاء ہی استعمال کیجئے۔
یہ بھی یاد رہے کہ میک اپ گھر سے باہر نمود ونمائش کے لیے نہ کیا جائے کیونکہ اسلام میں غیر مردوں کے سامنے نسوانی حسن وزینت کی نمائش سخت ممنوع ہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-15

Your Thoughts and Comments

Special Skin Care article for women, read "Khobrat Jild - Mager Kaise?" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.