بند کریں
خواتین مضامینکھیلفلورنس گرفتھ جوئنر
فلورنس گرفتھ جوئنر
فلورنس گرفتھ جوئنر جسے امریکہ میں پیار سے فلو جو کے نام سے پکارا جاتا تھا، عالمی تاریخ کی شاید پہلی ایتھلیٹ ہے جو ایک دفعہ کھیل کا میدان چھوڑ دینے کے بعد دوبارہ واپس آئی اور اس انداز میں واپس آئی کہ۔۔۔
فلورنس گرفتھ جوئنر جسے امریکہ میں پیار سے فلو جو کے نام سے پکارا جاتا تھا، عالمی تاریخ کی شاید پہلی ایتھلیٹ ہے جو ایک دفعہ کھیل کا میدان چھوڑ دینے کے بعد دوبارہ واپس آئی اور اس انداز میں واپس آئی کہ اس کی خیرہ کن کارکردگی نے سب کی آنکھیں چند ھیا دیں۔ امریکہ کی خاتون ٹریک اینڈ فلیڈایتھلیٹس میں ممتاز اور سیاہ فام خاتون کھلاڑیوں میں ممتاز تر۔
فلورنس 1959 میں لاس اینجلس میں پیدا ہوئی۔ لاس اینجلس میں کیلی فوزنیا کی یونیورسٹی (UCLA)میں تعلیم حاصل کی۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق ،اس نے بچپن سے ہی اپنی صلاحیتوں کا اظہار شروع کر دیا تھا۔ اگرچہ ان صلاحیتوں کو پوری طرح ابھرنے کا موقع خاصی بعد میں نصیب ہوا۔چودہ سال کی عمر میں اس نے جیس اوونز نیشنل یوتھ گیم میں کامیابی حاصل کی۔ 1979 میں اس نے کیلی فورنیا کی سٹیٹ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا جہاں وہ مشہور کوچ باب کرس کے زیر نگرانی تربیت حاصل کرنا چاہتی تھی ۔ جب باب کرس نے سٹیٹ یونیورسٹی کو چھوڑ کرUCLA میں شمولیت اختیار کی تو اس کی تقلید کرتے ہوئے فلورنس نے بھی سٹیٹ یونیورسٹی سے نکل کر UCLA میں داخلہ لے لیا۔
1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں ایک سلور میڈل جیتنے کے بعد فلورنس نے سپورٹس کی دنیا کو تقریباََ ترک کر دیا اور زیادہ تر مقابلوں میں حصہ لینا بند کر دیا۔ 1987 میں اس نے مشہور ایتھلیٹ ایل جوئنر کے ساتھ شادی کر لی۔ اسی سال روم میں ہونے والی ورلڈ چیمپئن شپ میں وہ دوبارہ واپس آئی اور مقابلوں میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے سخت ترین مشقوں اور تربیتی مراحل سے گزر کر 1988 کے سیول اولمپکس میں حصہ لیا اور تین گولڈ میڈلز کے ساتھ ایک سلور میڈل حاصل کیا۔ ایتھلیٹکس کی تاریخ میں شاید ایسی کوئی اور مثال نظر نہ آئے جہاں ایک خاتون کھیل کے میدان کو چھوڑتی پلٹ کر آئے اور ایسی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔
شہرت وکامرانی کا یہ عروج حاصل کرنے کے بعد فلورنس نے مقابلوں میں حصہ لینا چھوڑ دیا اور اپنا وقت ماڈلنگ ،کاروبار اور تصنیف وتالیف کے لئے وقف کر دیا۔ اس دوران اپنے شوہر کو چنگ بھی کرتی رہی۔ کھیل کا میدان چھوڑ دینے کے باوجود اس کی شہرت ومقبولیت میں کوئی کم واقع نہ ہوئی تھی اور اپنے مخصوص اندا زو اطوار کی بناء پر وہ عوام الناس میں ہرد لعزیز تھی۔ میڈیا میں اس کا نام “ہاٹ کیک“ کی حیثیت رکھتا تھا اور بڑے بڑے ادارے اپنی مصنوعات کے اشتہارات میں ماڈلنگ کے لئے اسے گرانقدر معاوضے پیش کرتے تھے۔
1998 میں اس کی اچانک موت نے جہاں دنیا بھر کے سپورٹس شائقین کو دکھی کیا وہیں سپورٹس کی تاریخ کا ایک باب بھی ہمیشہ کیلئے بندکر دیا۔ فلورنس نے کھیل کی دنیا میں جو داستانیں رقم کیں، وہ ایک عرصے تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ رہیں گئی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے