بند کریں
خواتین مضامینکھیلمارٹینا نیور اتیلووا
مارٹینا نیور اتیلووا
دنیا میں ٹینس کی لکھی جانے والی ہر تاریخ اس وقت تک ادھوری رہے گی جب تک اس میں مارٹینا نیور اتیلووا کا نام شامل نہیں ہوگا۔
دنیا میں ٹینس کی لکھی جانے والی ہر تاریخ اس وقت تک ادھوری رہے گی جب تک اس میں مارٹینا نیور اتیلووا کا نام شامل نہیں ہوگا۔
یہ عظیم سپورٹس وومین 1956 میں چیکو سلووا کیہ کے شہر پراگ میں پیدا ہوئی۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا اظہار اس نے ابتدا سے ہی شروع کر دیا تھا ۔ 1972 سے لے کر 1975 تک اس نے مسلسل چیکو سلوواکیہ کی قومی چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کیا اور 1973 میں ومبلڈن میں منعقد ہونے والی جونیئر گرلز چیمپئن شپ بھی جیتی۔ 1974 کے اواخر تک مارٹینا کئی عالمی سنگلز مقابلوں کی رنراپ ہونے کا اعزاز حاصل کر چکی تھی اور اپنی ڈبلز پارٹنرامریکن کھلاڑی کرس ایورٹ کے ساتھ مل کر کئی ڈبلز مقابلے بھی جیت چکی تھی۔
مارٹینا ٹینس کی دنیا کا سب سے اونچا نام بننا چاہتی تھی لیکن چیکو سلووا کیہ کی ٹینس فیڈریشن مسلسل اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہی تھی۔ ان کی احمقانہ پالیسیاں مارٹینا کی ترقی کی راہ میں حائل تھیں۔ آخر کار تنگ آکر 1975 ء میں مارٹینا چیکو سلووا کیہ چھوڑ کر امریکہ چلی آئی۔
امریکہ میں اسے اپنی صلاحیتوں کے مکمل اظہار کا موقع ملا اورجلد ہی وہ دنیا کی بہترین خاتون ٹینس پلیئرز میں شمار کی جانے لگی۔ 1975 ء میں اس نے کرس ایورٹ کے ساتھ فرنچ اوپن کا ڈبلز ٹائٹل جیتا اور اگلے سال ومبلڈن کا ڈبلز ٹائٹل بھی ا ن کے حصے میں آیا۔
ٹینس کے سنگلز مقابلوں کی دنیائے پر اس وقت مارٹینا کی ڈبلز کرس ایورٹ کی حکمرانی تھی اور مارٹینا اس کی سب سے بڑی حریف بن کر سامنے آئی۔ گویا ایک طرف وہ اس کی ساتھی تھی اور دوسری طرف اس کی مقابل۔ مارٹینا نے 1978 اور 1979 میں دنیائے ٹینس کا سب سے مقتدر ٹورنامنٹ ومبلڈن جیتا اور 1979 کے آخر پر اسے دنیا کی نمبرون پلیئر قرار دے دیا گیا۔ 1982 سے لے کر 1987 تک وہ اس پوزیشن پر مسلسل قابض رہی۔ درمیان میں چندماہ کے مختصر عرصے کے لئے یہ اعزاز مارٹینا سے چھن گیا لیکن جلد ہی اس نے اسے واپس حاصل کر لیا۔
اس دوران اس نے 1982 سے 1987 تک مسلسل چھ مرتبہ ومبلڈن کاسنگلز ٹائٹل جیتا۔ اس کے بعد 1990 میں دوبارہ یہ اعزازحاصل کیا۔ اس کے علاوہ اس نے چار مرتبہ یو ایس اوپن، دومرتبہ فرنچ اوپن اور تین مرتبہ آسٹریلین اوپن کے سنگلز ٹائٹل بھی اپنی جھولی میں ڈالے۔ گویا ٹینس کا کوئی ایسا بڑا مقابلہ نہ تھا جس میں جیت ایک سے زائد مرتبہ اس کی مقدر نہ بنی ہو۔ اس دوران کرس ایورٹ کے ساتھ اس کی پارٹنر شپ ختم ہو چکی تھی لیکن ڈبلز مقابلوں میں بھی مارٹینا نے کامیابیوں کا سلسلہ کا پام شریور کو پارٹنر بنا کر جاری رکھا۔
1992 میں مارٹینا نے ورجینیا سلمز ٹورنا منٹ جیت کر اپنا 158 واں عالمی ٹائٹل جیتا اور اس کے ساتھ ہی سب سے زیادہ عالمی ٹائٹل جیتنے کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ پہلا ریکارڈ کرس ایورٹ نے 157 ٹائٹل جیت کا قائم کیا تھا۔
اس دوران نمبرون کی پوزیشن پر مونیکا سیلز کا قبضہ ہو چکا تھا۔ 1993 میں مونیکا کوپیرس اوپن میں ہرا کر اک اور ریکارڈ قائم کیا۔ یعنی وہ کسی نمبرون پلیئر کو ہرانے والی دنیا کو معمر ترین کھلاڑی بن گئی۔اگرچہ اس وقت مارٹینا کی عمر 37 برس تھی اور اس عمر کو ”معمری“ کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا لیکن ٹینس کے مقابلوں کے حوالے سے یہ ایک ریکارڈ تھا۔
1994 میں مارٹینا نے پروفیشنل سنگلز ٹینس سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ 1994ء اور 95ء میں ورلڈ ٹینس ایسوسی ایشن کی صدر بھی رہی ۔ اپنے طویل اور رنگارنگ کیرئیر میں مارٹینا نے 167 سنگلز ٹائٹل جیتے جو ایک ریکارڈ ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے نومرتبہ ومبلڈن ٹورنامنٹ جیت کر بھی ریکارڈ قائم کیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے