بند کریں
خواتین مضامینخانوادئہ رسولام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا

مزید خانوادئہ رسول

پچھلے مضامین -
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کم عمر ترین زوجہ تھیں۔ آپ کا لقب صدیقہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کم عمر ترین زوجہ تھیں۔ آپ کا لقب صدیقہ اور کنیت ام عبداللہ ہے۔ نکاح کے وقت آپ کی عمر کے متعلق مختلف روایات موجود ہیں۔ بعض واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح کے وقت آپ کی عمر محض چھ سال کی تھی لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بات نہیں بلکہ نکاح کے وقت آپ کی عمر سترہ سال کے لگ بھگ تھی۔ اس کی تصدیق یوں ہوتی ہے کہ آپ اپنی بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے دس سال چھوٹی تھیں۔ ہجرت کے وقت حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی عمر 27 برس تھی۔ اس طرح نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 17 سال بنتی ہے۔
آپ کے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح سے عرب میں ایک اور بدعت کا خاتمہ ہوا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی بھائی نہ تھے بلکہ دینی بھائی تھے۔ عرب میں اس دور میں دینی بھائی کی اولاد کے ساتھ شادی کرنے کا رواج نہ تھا۔ چنانچہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک خاتون نے اس رشتے کی بات کی تو انہوں نے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا بھتیجی کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ اس پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے یہ جواب آیا کہ نسبی بھائی کی بیٹی حرام ہے لیکن دینی بھائی کی بیٹی حرام نہیں ہے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تجویز ایک خاتون خولہ رضی اللہ عنہا بنت حکیم نے دی۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد غمگین رہتے تھے تو خولہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رشتہ چلانے کی بات کی۔ اجازت ملی تو انہوں نے بات آگے چلائی۔ اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رشتہ کی بات کہیں چل رہی تھی لیکن اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لکھ دیا تھا ،اس لئے ایسا ہی ہوا۔
نکاح کے وقت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر پچاس سا ل کے لگ بھگ تھی۔ یہ نکاح نہایت سادگی سے ہوا۔ عرب لوگ شوال کے مہینے میں نکاح منحوس سمجھتے تھے لیکن رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس واہمہ کا بھی خاتمہ فرما دیا۔ نکاح کے بعد دو یا تین سال تک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے میکے میں رہیں۔ ان تین سالوں میں سے دو سال تین ماہ مکہ میں اور سات یا آٹھ مہینے مدینہ میں گزرے۔ ہجرت کا سفر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پہلے کیااور اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت فرمائی۔
حضرت عائشہ رضہ اللہ عنہا کی گھریلو زندگی غربت کے باوجود خوشگوار تھی اور آپ کا وجود رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے راحت کا باعث تھا۔ گھر میں خادمہ کے موجود ہونے کے باوجود آپ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ آٹا خود پیستی اور گوندھتی تھیں، کھانا خود پکاتی تھیں، بستر خود بچھاتی تھیں، وضو کا پانی خود لاکر رکھتی تھیں، قربانی کے اونٹوں کا فلاوہ خود بنتی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر میں کنگھا خود کرتی تھیں، عطر ملتی تھیں، کپڑے دھوتی تھیں اور سوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسواک اور پانی سرہانے رکھتی تھیں۔
بنو نجار کے محلے میں آپ کا گھر معمولی سا تھا۔ دروازے کا ایک پٹ تھا جو کبھی بند نہ ہوا۔ پورا گھر ایک حجرے پر مشتمل تھا۔ اس گھر میں ایک چار پائی ،ایک چٹائی، ایک تکیہ، کھجور رکھنے کے دو مٹکے، پانی کا ایک برتن اور پانی پینے کا ایک پیالہ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ چالیس چالیس دن تک گھر میں چراغ نہ جلتا تھا۔ کبھی تین روز مسلسل ایسے نہیں گزرے کہ خاندانِ نبوت نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو۔ گھرمیں ایک ایک مہینہ آگ نہ جلتی تھی۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے وقت تمام عرب زیر نگیں ہو چکا تھا۔بیت المال میں دولت تھی لیکن گھر میں ایک دن گزارنے کے سامان موجود نہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سالانہ وظیفہ 12 ہزار درہم مقرر کیا گیا۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریب ہی انتقال فرمایا۔ آخری دنوں میںآ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دیگر ازواج سے اجازت لے کر اپنا آخری وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزارا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال بھی اس حالت میں ہوا کہ آپ کا سر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی دفن ہوئے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 50 سال تک زندہ رہیں۔یہ زمانہ آپ نے لوگوں کو تعلیم دیتے ہوئے گزارا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب رہنے کا موقع سب سے زیادہ ملا۔ اس لئے بڑے بڑے صحابہ اور عالم مختلف مسائل جاننے کے لئے آپ کے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ مومنوں کی ماں تھیں اور آپ نے مومنوں سے ایک ماں ہی کی طرح پیار کیا۔ دور دراز کے علاقوں سے مسلمان آپ سے مختلف مسائل جاننے کے لئے آیا کرتے تھے اورآپ پردے کے پیچھے سے ان کو جواب دیا کرتیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک جری اور بلند ہمت خاتون تھیں۔اسی وجہ سے ایک بار آپ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد کی اجازت طلب فرمائی تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کا جہاد حج ہے۔ پردے کا حکم آنے سے پہلے آپ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں بھی شریک ہو چکی تھیں۔ غزوہ خندق میں محصوری کی حالت میں حالت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زنانہ قلعہ سے نکل کر حالت جنگ دیکھتی تھیں۔
آپ نہایت اعلیٰ سیرت کی خاتون تھیں۔ آپ کی چونکہ کوئی اولاد نہ تھی اس لیے آپ عام مسلمانوں کے بچوں اور یتیموں کی پرورش کرتیں، ان کی تعلیم وتربیت کرتیں۔ آپ خوب عبادت فرمایا کرتیں اور اکثر روزے رکھا کرتیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عائشہ سے جو محبت تھی، اس کا ثبوت ہمیں کئی اعتبار سے ملتا ہے۔ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ وہ دس باتوں میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر ازواج سے ممتاز ہیں۔
-1 آپ کے سوا کوئی اور ام المومنین بوقت نکاح کنواری نہ تھیں۔
-2 آپ کے سوا کسی اور ام المومنین کے والدین مہاجرنہ تھے۔
-3 جب منافقین نے آپ کی پاکدامنی پر تہمت لگائی تو اللہ تعالی نے خود بذریعہ وحی آپ کی برأت فرمائی۔
-4 جبرائیل علیہ السلام آپ کی تصویر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائے اور کہا ان سے شادی کریں۔
-5 رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل فرما لیا کرتے تھے۔
-6 رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرماتے تو آپ رضی اللہ عنہا پاوٴں پھیلائے سوئی رہتیں۔
-7 رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یوں بھی وحی نازل ہوتی کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بستر میں سوئے ہوتے۔
-8 اللہ تعالیٰ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح اس حالت میں قبض فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سرمبارک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سینے سے لگا ہوا تھا۔
-9 رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات انتقال فرمایا جس رات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔
-10 رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن ہوئے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں 58 ہجری میں وفات پائی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 70 سال کے لگ بھگ تھی ۔ آپ کی وفات پر اتنا ہجوم اکٹھا ہوا کہ لوگوں کاکہنا تھا کہ عید کے علاوہ اور کسی موقع پر اتنا ہجوم دیکھنے میں نہیں آیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے