بند کریں
خواتین مضامینخانوادئہ رسولام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا

مزید خانوادئہ رسول

- مزید مضامین
ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا
آپ رضی اللہ تعالٰ عنہا کا اصل نام امبرہ تھا لیکن رسول پاک ﷺ نے آپ اک نام میمونہ رکھا جس کا مطلب مبارک ہے۔
آپ رضی اللہ تعالٰ عنہا کا اصل نام امبرہ تھا لیکن رسول پاک ﷺ نے آپ اک نام میمونہ رکھا جس کا مطلب مبارک ہے۔ آپ کے والد کا نام حذن بن بحیر تھا اور والدہ کا نام ہند بنت عوف۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حقیقی خالہ تھیں۔ آپ کی بڑی بہن حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں تھیں اور دوسری بن لبابہ الصغریٰ ولید بن مغیرہ معزوی کی بیوی تھیں اور حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ولید کی والدہ تھیں۔ ان کی بڑی بہن زوجہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام بھی لبابہ تھا لیکن ان کی کنیت ام الفضل تھی اور ان کو لبابہ الکبریٰ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
ابن شیبہ کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ اپنے دامادوں کے لحاظ سے بہت خوش قسمت ہیں۔ انکے دامادوں میں:
۱۔ حضرت محمدﷺ
۲۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۳۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالمطلب
۴۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالمطلب
۵۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب
۶۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب
۷۔ حضرت داد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن الھاد
کے سے عظیم نام شامل ہیں۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایامِ جاہلیت میں مسعود بن عمرو کے نکاح میں تھیں۔ اس کے بعد آپ کا نکاح ابو رحم بن عبدالعزیٰ کے ساتھ ہوا۔ ابو رھم نے سات ہجری میں انتقال کیا اور شوال ساتھ ہجری میں آپ رسول پاکﷺ کے عقد میں آگئیں۔
رسول پاک ﷺ کی شادیوں کے لحاظ سے مومنین کے ذہن میں شکوک و شبہات نہ آنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کو وضح طور پر اس معاملے میں رعایت عطا فرمائی تھیَ جب رسول پاک ﷺ مکہ میں عمرہ کیلئے تیار تھے تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے آپ کو رسول پاک ﷺ کے نکاح کیلئے پیش کردیا۔ اس موقع پر قرآن پاک کی آیات بھی نازل ہوئیں جن کا ترجمہ یہ ہے:
”اور اس مسلمان عورت کو بھی جو بلاعوض اپنے کو پیغمبر کو دے دے یعنی نکاح میں آنا چاہے بشرطیکہ پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہے یہ سب آپ کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں نہ اور مومنوں کیلئے۔“ (سورئہ احزاب۔ ۵۰)
اس کے بعد حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اک ﷺ کے ساتھ ہی مدینہ تشریف لے گئیں۔ ایک اور روایت کے مطابق رسول پاک ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ مکہ میں تھے کہ مکی لوگوں نے آپ ﷺ کو مکہ چھوڑنے کیلئے کہا۔ آپ ﷺ نے نکاح کی مہلت طلب کی لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ چنانچہ مکہ سے باہر آکر آپ ﷺ نے حضرت میمومہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت اعلیٰ اخلاق و فضائل کی مالک تھی۔ آپ سے 146احادیث مروی ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فقہ دانی کا بھی علم تھا۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرنے والوں میں حضرت عبدالہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبداللہ بن شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن السائب اور یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن امم شامل ہیں۔ یہ تمام افراد ان کے بھانجے تھے۔
رسول پاک ﷺ نے ایک بار ارشاد فرمایا۔
”مومن بہنیں یہ ہیں۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت امام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سلمیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔“
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کبھی کبھی قرض بھی لے لیا کرتی تھیں۔ ایک بار قرض لینے پر کسی نے پوچھا آپ اس قرض کو کس طرح واپس کریں گی؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ ”جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو تو حق تعالیٰ خود اس کا قرض ادا فرمادیتے ہیں۔“
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے سال کے متعلق موٴرخوں نے مختلف آراء درج کی ہیں۔ کچھ کے نزدیک یہ 51ہجری تھا اور کچھ کے نزدیک 61ہجری کا واقعہ ہے۔ ایک موٴرخ کا کہنا ہے کہ یہ رسول پاک ﷺ کی وہ زوجہ تھیں جن کا انتقال بقیہ تمام ازواج کے آخر میں ہوا۔ آ پکی وفات اور نکاح کا ایک ہی مقام ہے۔ یعنی ”سرف“۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور قبر میں اتارا۔ جب ان کا جنازہ اٹھایا گیاتو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ رسول پاک ﷺ کی اہلیہ کا جنازہ ہے، اس کو زیادہ حرکت نہ دو۔

(3) ووٹ وصول ہوئے