بند کریں
خواتین مضامینخانوادئہ رسولام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا

مزید خانوادئہ رسول

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا
ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا شجرہ نسب یہ ہے:
ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا شجرہ نسب یہ ہے:
زینب بنت خزیمہ بن الحارث بن عبداللہ بن عمر بن عبدالمناف بن بلال بن عام بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن خنیس بن عیلاں الہلالیہ۔
آپ رضی اللہ عنہا بڑی رحم دل اور سخی تھیں۔ چنانچہ فقراء و مساکین کو نہایت فیاضی سے کھانا کھلایا کرتی تھیں۔بدیں وجہ ام المساکین کی کنیت کے ساتھ مشہور ہو گئیں۔ طبرانی نے ابن شہاب الزہری سے روایت کیا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا بنت خزیمہ الہلالیہ سے نکاح فرمایا، اس وقت بھی ان کی کنیت ام المساکین تھی۔ یہ نام اور کنیت بوجہ کثرت سے غرباء اور مساکین کو کھانا کھلانے سے مشور تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہی ان کا انتقال ہو گیا اور تھوڑا عرصہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گزارسکیں۔
ابن ابی خشمیہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جاہلیت میں بھی ام المساکین کے لقب سے معروف تھیں۔
زہری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حبالہ عقدر میں آنے سے قبل سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہا بن حجش کے نکاح میں تھیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن حجش ۳ ہجری میں جنگ احد میں شریک ہوئے اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔
قتادہ بن دعامہ کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں آنے سے قبل وہ طفیل بن الحارث کے حبالہ عقد میں تھیں لیکن ابن کلبی کا یہ بیان ہے کہ وہ پہلے طفیل بن الحارث کے نکاح میں تھے۔انہوں نے طلاق دے دی تو ان کے بھائی عبیدہ رضی اللہ عنہا نے ان سے نکاح کر لیا اور وہ جنگ بدرمیں شہید ہو گے۔ حافظ ابن سید الناس کی رائے بھی یہی ہے۔
امام طبرانی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت الحارث الہلا لیہ ام المساکین سے نکاح فرمایا۔ وہ آپ سے نکاح سے قبل خصین یا طفیل بن الحارث کے نکاح میں تھیں اور حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپ پہلی بیوی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں رحلت فرمائی۔
حضور علیہ الصلوٰة و السلام نے رمضان کے مہینہ میں ہجرت سے 31 ماہ بعد ان کو اپنی ازواج مطہرات کے زمرہ میں لیا۔ آپ آٹھ ماہ حریم نبوت میں رہیں اور ربیع الآخر میں ہجرت سے 39 ماہ بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔
حافظ ابو عمرو نے لکھا ہے کہ یہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ماں کی طرف سے بہن تھیں۔ نکاح کے وقت ساڑھے بارہ اوقیہ (پانچ سو درہم) مہر مقرر ہوا۔
آپ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حبالہ عقد میں بہت تھوڑا عرصہ رہیں۔ بعض نے یہ مدت تین ماہ ، بعض نے دہ ماہ اور بعض نے آٹھ ماہ لکھی ہے لیکن اس پر قریبا اتفاق ہے کہ وفات ربیع الآخر کے مہینے کی آخری تاریخوں میں ہجرت سے 39 ماہ بعد ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نمازِ جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن فرمایا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے