Creamoon Ki Qasmain Or Un K Waqai Faide - New Trends Of Beauty

کریموں کی قسمیں اور ان کے واقعی فائدے - خوبصورتی کے نئے انداز

ہفتہ 28 دسمبر 2019

Creamoon Ki Qasmain Or Un K Waqai Faide
اس زمانے کی خواتین کے لئے چہرے پر لگانے کی ایسی بے شمار کریمیں پیش کی جارہی ہیں جن کے تیار کرنے والے ان کے ذریعہ سے معجزات ظاہر کرنے کا نہ صرف دعویٰ کرتے ہیں بلکہ یقین بھی دلاتے ہیں۔چنانچہ اخبارات اور ایسی دکانوں میں جہاں افزائش حسن کا سامان فروخت کیا جاتاہے”مقوی جلد“نسیج بنانے والی۔اور چہرے کے داغ دھبے اور چھائیوں کو دور کردینے والی کریموں کے جو اشتہارات نظر آتے ہیں۔

وہ خواتین کو نہ صرف اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔بلکہ ان کے اشتہارات دیکھ کر ان کے پائیہ استقلال میں جنبش بھی آجاتی ہے۔ایسی حالت میں ہمیں اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ دادی اماں جیسی خواتین بھی اپنی عمر اور تجربات کو نظر انداز کرکے اپنے کشیدہ کاری کے سامان میں کریم کی ایسی شیشیاں بھی رکھتی ہیں جن پر یہ جملے لکھے ہوتے ہیں کہ گلیمرسنو․․․․․․اس کے استعمال سے آپ اپنی صحیح عمر سے دس سال چھوٹی نظر آنے لگیں گی۔

(جاری ہے)


تڑپادینے والے نعرے کس موقع پر کس کے لئے مفید ثابت نہیں ہوتے اور خصوصاً ان لوگوں کے لئے تو سود مند ثابت ہی نہیں ہوتے جو ایسے نعروں کے گرویدہ ہو کر حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔مالی بدحالی کے اس دور میں ان کریموں کے متعلق جن پر ہماری خواتین پوری زندگی میں اپنے سرمایہ کا کچھ نہ کچھ حصہ صرف کر دیتی ہیں۔صحیح حالات کا انکشاف خود خواتین ہی کے لئے مفید ثابت ہو گا۔

اور یہی میرا خیال ہے کہ اس معاملہ میں تھوڑی سی موافقیت بھی اس رقم کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھ سکے گی۔جسے خرچ کرنے کے باوجود نسوانی حسن میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا۔
کریم کی تین قسمیں
یہاں اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے۔کہ کریم کی تین اقسام ہوتی ہیں۔یعنی جلد کو صاف کرنے والی کریم۔جلد کو ملائم کرنے والی کریم اور جذب ہو جانے والی کریم۔

جہاں تک پہلی قسم کا تعلق ہے یہ گردوغبار میں چہرے پر لگاتے ہوئے غازہ یا ایسی ہی دوسری چیزوں سے چہرے کو پاک کرتی ہے۔لیکن یہ کریم بھی دو قسم کی ہوتی ہے۔ان میں پہلی قسم کی کریم وہ ہوتی ہے۔جو رقیق کہلاتی ہے اور حیوانات کی چربی ،نباتاتی روغنیوں اور پانی سے تیار کی جاتی ہے اور دوسری قسم کی کریم وہ ہے جو جلد پگھل جاتی ہے۔اور اسے معدنی روغنوں اور موم سے بنایا جاتاہے۔


پہلی قسم کی کریم آسانی کے ساتھ نہیں پگھلتی اور اس لیے ایسی کریمیں خشک جلد والوں کے لیے مفید ہوتی ہیں۔اس قسم کی کریمیں کولڈ کریم بھی کہلاتی ہیں۔ان کارنگ دھندلا ہوتاہے۔لیکن دوسری کریم معدنی روغن جسم کی گرمی سے پگھل جاتے ہیں اور اس طرح یہ کریم آسانی کے ساتھ جلد پر پھیل جاتی ہے اور اسے روغنی جلد کے لئے مفید سمجھا جاتاہے اور یہ کریمیں شفاف ہوتی ہیں۔


بہر حال اوسط قسم کی جلد والی خواتین جلد کو صاف کرنے والی کریموں کے استعمال کو آسانی سے ترک کر سکتی ہیں جس کی وجہ یہ ہے۔کہ ایسی کریموں اور صابن کے اثرات میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور انسانی حسن کی آرائش کے ماہر عموماً ایسی کریموں کے استعمال کے بعد صابن اور پانی کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں ۔جس کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا کہ اس طرح ایک ہی عمل کا اعادہ کیا جائے۔

البتہ جن خواتین کی جلد خشک ہوتی ہے صابن چونکہ ان کی جلد میں ایک طرح کی سوزش پیدا کر دیتاہے اس لیے انہیں کولڈکریم کے استعمال کا مشورہ دیا جا سکتاہے۔
جذب ہونے والی کریموں میں صابن کے اجزاء زیادہ ہوتے ہیں اور اس کے اثرات بالکل وہی ہوتے ہیں جو چہرے پر صابن مل کر اسے خشک کر دینے سے ظاہر ہوتے ہیں اس قسم کی کریم پر غازہ آسانی کے ساتھ قائم ہوا کرتا ہے۔

اور دیر تک قائم رہتاہے لیکن خواتین کی جلد صابن کو بھی برداشت نہیں کر سکتی ان کی جلد میں اس قسم کی کریم سوزش تک پیدا ہو جاتی ہے اور جن خواتین کی جلد خشک ہوتی ہے ان کے لئے جذب ہو جانے والی کریم پر غازہ لگانا دشوار بھی ہے۔مگر یہ جذب ہوجانے والی کریمیں کسی نہ کسی حد تک چہرہ کو دھوپ اور ہوا کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں۔
جلد کو نرم رکھنے والی کریمیں کئی مقصدوں کے پیش نظر تیار کی جاتی ہیں اس قسم کی جن کریموں میں نیولن(بھڑ کی اون سے نکالا ہوا روغنی مادہ)شامل ہوتاہے وہ خشک جلد کے لئے مفید ہیں اور جلد کو سخت ہونے اور پھٹنے سے روکتی ہیں۔

قابض لوشنوں کا بنیادی جز کیونکہ بالکل الکحل ہوتاہے ۔اس لیے روغنی جلد والوں کے لیے مفید ہوتے ہیں۔لیکن روغنی جلد والوں کو قابض قسم کی کریم استعمال نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایسی کریمیں دھوپ اور موسمی چکنائی میں اضافہ کر دیتی ہیں۔جلد کو ملائم کرنے والی بعض کریمیں دھوپ اور موسمی اثرات سے چہرہ کو محفوظ رکھتی ہیں۔ اور بعض آگ یا گرم پانی سے جلی ہوئی جلد کے لئے سکون کا باعث ہوتی ہیں۔


بہر حال اوپر کریم کی جن قسموں کا ذکر کیا گیا ہے خواتین اپنی ضرورت کے مطابق ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتی ہیں۔اور ہمارا مشورہ یہ ہے کہ چونکہ ناموں کے اختلاف اور فائدہ مندی کے مختلف دعوؤں کے باوجود عام کریموں کے بنیادی اجزاء اور فوائد میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا اس لیے نہ تو سنگھار میز پر بہت سی کریموں کی موجودگی کی ضرورت ہے اور نہ خواتین کو مختلف کریموں کی اشتہاری تعریفوں ہی سے متاثر ہونا چاہیے۔


یہاں اس بات کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔کہ کریم کی مالش سے نسیج نہیں بنا کرتی۔جلد کی پرورش خون سے ہوتی ہے اور خوبصورتی جلد خون کے صاف ہونے کی علامت ہے اور جلد پر پھنسیاں نمودار ہوں گی۔تو سمجھ لینا چاہیے۔کہ آپ کو خون کی صفائی کی ضرورت ہے۔یہ کام طبیب انجام دے سکتاہے کریم نہیں۔بات صرف اتنی ہے کہ جب چہرہ پر کریم لگا کر مالش کی جاتی ہے تو خون تیزی سے حرکت کرنے لگتاہے ۔

اور چہرے پر سرخی نمودار ہو جاتی ہے لیکن اگر کریم کے بغیر بھی چہرے کی مالش کی جائے تو تب بھی یہی نتیجہ برآمد ہوتاہے۔
بیکار کریم
اس میں شک نہیں کہ کوئی کریم مضر ثابت نہیں ہوتی لیکن بعض کریمیں بالکل بیکار ضرورہوتی ہیں۔اور بعض فریب کار اور بددیانت تاجر مقبول کریموں کے لیبل لگاکر شیشوں میں ایسی چیزیں بھر دیتے ہیں۔

جو بالکل ہی بے کار ہوتی ہیں ہمارے اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے صرف اس بات پر غور کر لینا کافی ہے کہ بعض کباڑی معیاری اور مشہور کریم کی خالی شیشیوں کے لئے معقول قیمت ادا کرنے کے لئے تیاررہتے ہیں۔آپ کو کریم کسی مقبول اور قابل اعتماد دکان ہی سے خریدنی چاہیے۔پھر اگر خالی شیشیوں کو فروخت کرنے کی بجائے ضائع کر دیں تو اس سے آپ ہی کو نہیں بلکہ آپ کی دوسری بہنوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-28

Your Thoughts and Comments

Special New Trends Of Beauty article for women, read "Creamoon Ki Qasmain Or Un K Waqai Faide" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.