Hina Ka Istemal Kiyon Zaroori Hai

حنا کا استعمال کیوں ضروری ہے

جمعہ فروری

Hina Ka Istemal Kiyon Zaroori Hai
مہندی یا حنا کا استعمال اگرچہ بر صغیر پاک وہند میں بڑا قدیم ہے لیکن اس کی اہمیت کا احساس اب پوری دنیا میں ہوچکا ہے اور اس کی حیثیت اب خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی ایک بوٹی سے بڑھ کر کثیر المقاصد شے کی ہوگئی ہے۔ ہمارے یہاں عام طور پر مہندی کا استعمال عید بقرعید یا دیگر تہواروں یا شادی بیاہ اور مہندی کی رسومات میں ہوتا ہے جبکہ ہر عمر کی لڑکیاں اور عورتیں ہرے رنگ کی اس پتی کو پیس کر اس کا پیسٹ ہاتھوں اور پیروں پر لگاتی ہیں اور تھوڑی دیر بعد ان کے مہندی لگے حصے سرخ ہوجاتے ہیں۔

ہری مہندی کو پیس کر لگانے کا رواج بھارت میں اگرچہ اب بھی بہت ہے لیکن پاکستان میں اور خاص طور پر ہمارے شہری علاقوں میں اب پسی پسائی مہندی کے پیسٹ کون کا استعمال زیادہ ہوگیا ہے جبکہ مہندی سفوف کی شکل میں بھی دستیاب ہوتی ہے اکثر عورتیں اور مرد مہندی سر میں لگاتے ہیں جس کا مقصد سر میں ٹھنڈک پیدا کرنے کے علاوہ سفید بالوں کو سرخ کرنا اور سیاہ بالوں کو چمک دار کرنا ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ مہندی بہت سی مفید خصوصیات رکھنے والی بوٹی ہے۔

(جاری ہے)


اگرچہ مہندی کا تعلق بھارت اور پاکستان کی مذہبی روایات اور تہواروں سے بڑا قدیم ہے لیکن مہندی ان روایات کا حصہ کب اور کیوں بنی بھارت میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے اسے ایک مقدس بوٹی سمجھتے ہیں اور مذہبی تہواروں کے موقع پر اس کا لگانا مقدس سمجھا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر بھارت میں شادی کے موقع پر دلہن کی ہتھیلیوں میں تتلی ضرور بنائی جاتی ہے اس کے علاوہ چار پتیوں والے پھول کے علاوہ پرندوں اور پھلوں کی تصویریں بھی بنائی جاتی ہیں ان تصویروں کے بنائے جانے کی کیا تو جیہات ہیں ان کا پتہ نہیں چل سکا ہے مذہبی تہواروں کے موقع پر ہندو عورتیں اپنی ہتھیلیوں پر مور ، ہاتھی اور دئیے وغیرہ کی تصویریں بناتی ہیں پیشہ وراور ماہر مہندی لگانے والی خواتین کو خوب اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کس موقع پر کون سی تصویریں بنانی ہیں۔


شادیوں اور تہواروں کے موقع پر لڑکیاں اور عورتیں اپنی ہتھیلیوں اور پیروں پر طرح طرح کے پھول پیتاں بناتی ہیں کون آنے کے بعد اب مہندی کے ڈیزائن بنانا اور بھی آسان ہوگیا ہے اگرچہ گلی گلی بیوٹی پارلر کھل جانے کے بعد مہندی لگوانا خاصا آسان ہوگیا ہے اور اب مہندی لگوانے والیوں کی تعداد میں بھی خاصا اضافہ ہورہا ہے مہندی ہاتھوں پیروں اور بالوں میں لگانے کا رواج تو عام ہے اب مہندی والے شیمپو بھی بازار میں باآسانی دستیاب ہیں۔

اب سے کچھ عرصہ قبل تک مہندی درخت سے پتیاں توڑ کر اس کو سل پرپیس کرلگائی جاتی تھی لیکن اب تازہ پتیاں توڑ کر انہیں پیسنا ایک دشوار گزار کام سمجھا جاتا ہے ایک تو اس کام کے لئے آج کی خواتین کے پاس وقت نہیں اور دوسرے سل کا رواج بھی اب تقریباً ختم ہی ہوگیا ہے مہندی عام طور پر پاؤڈر کی شکل میں یاکون میں پیسٹ کی شکل میں دستیاب ہوتی ہے اور دونوں کا استعمال بہت آسان ہوتا ہے بازار میں مہندی کے ڈیزائن کتابیں بھی آسانی سے مل جاتی ہیں جنہیں دیکھ کر لڑکیاں اپنے طور پر مہندی لگانے کی کوشش کرتی ہیں کچھ خواتین اپنے صرف ایک ہاتھ پر مہندی لگاتی ہیں جبکہ کچھ خواتین دونوں ہاتھوں پر ڈیزائن بنوانا پسند کرتی ہیں مہندی لگانے کا قدیم ترین اور مقبول ترین ڈیزائن تو یہ ہے کہ خواتین ہتھیلی کی بیچ میں ایک گول سا بنوا لیتی ہیں جبکہ انگلیوں کے اوپر کی پوروں میں مہندی لگائی جاتی ہے یہ ڈیزائن اتنا سادہ اور آسان ہے کہ ہر ایک شخص بنالیتا ہے مہندی کی خوبیوں اور اوصاف سے اب امریکہ اور یورپ کے لوگ بھی اس کا اہتمام کرنے لگے ہیں امریکہ اور یورپ کی بڑی بڑی کمپنیاں حنا کا شیمپو بناتی ہیں۔


مہندی کا واحد خراب اور مشکل پہلو اسے دھونا اور چھڑانا ہے اس کا رنگ جب ایک بار ہاتھ اور پاؤں پر رچ بس جاتا ہے تو اسے مٹانا آسان نہیں ہوتا ایک ہفتہ کی صابن اور ڈٹرجنٹ کے مستقل استعمال کے بعد بھی مہندی کا رنگ مکمل طور پر نہیں چھوٹتا اگر مہندی کا رنگ جلد چھڑانا ہو یا ہاتھ پر کوئی دوسرا ڈیزائن بنوانا مقصود ہوتو اس کی ترکیب یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کوتھوڑی دیر تک کیرو سین آئل میں ڈبوئے رکھیں اور بعد میں لیموں کے چھلکے سے مل مل کر اسے ختم کریں۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-07

Your Thoughts and Comments

Special New Trends Of Beauty article for women, read "Hina Ka Istemal Kiyon Zaroori Hai" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.