Khobsorat Or Munfarid Nazar Ana Sab Ko Acha Lagta Hai

خوبصورت اور منفرد نظر آنا سب کو اچھا لگتاہے

منگل نومبر

Khobsorat Or Munfarid Nazar Ana Sab Ko Acha Lagta Hai
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ذراسی توجہ آپ کی شخصیت میں وہ انفرادیت پیدا کر سکتی ہے جو محافل میں آپ کو دوسروں سے ممتاز کر سکتی ہے۔شخصیت کے نکھار کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کوئی بھاری بھرکم میک اپ کیاجائے ضروری یہ ہے کہ تقریبات کی مناسبت اور اپنی شخصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے لباس وآرائش کا اہتمام کیا جائے یوں نہ ہو کہ آپ کی عمر تو ہے 25سال لیکن آپ نے خود پر بردباری کا وہ خول چڑھا لیا ہے اور اس قسم کا میک اپ کر لیا ہے کہ خدانخواستہ لوگ آپ کو40سے45سال کی عمر جہاں دیدہ خاتون سمجھنے لگیں لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ عمر تو آپ کی35سے40سال ہے لیکن پہناوے اور میک اپ سے آپ بے جا طور پر اپنی عمر چھپانے کی کوشش میں اپنی شخصیت کا تاثر قائم کرنے کے بجائے خود کو تنقید کا نشانہ بنوالیں لہٰذا ہونا یہ چاہیے کہ ہر چیز کے انتخاب میں توازن کو بر قرار رکھیں تاکہ آپ کسی بھی جگہ اپنی شخصیت کا بھرپور تاثر چھوڑ سکیں۔

(جاری ہے)


دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ بعض خواتین اپنی ساری توجہ میری اور بالوں کے بناؤ سنگھار پر مرکوز کر دیتی ہیں ایسی خواتین اپنے ہاتھ اور پاؤں کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہیں جبکہ دیکھنے والے شخصیت کا تاثر قائم کرنے کے لیے ان چیزوں کا بھی بطور خاص نوٹ کرتے ہیں۔اگر آپ کچن کے کاموں میں مشغول رہتی ہیں ۔تو ہاتھوں کی جلد کا خیال آپ کو بطور خاص رکھنا پڑے گا کیونکہ پانی ،چکنائی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء آپ کی جلد پر اثر انداز ہوتی ہیں مثلاً پیاز اور سبزیاں کاٹتے وقت آپ دیکھیں گی کہ آپ کے ہاتھوں پر نشان پڑجاتے ہیں ایسی صورت میں آپ احتیاط سے کام لیں اورکسی اچھے موئسچرائز کا استعمال کریں۔

غسل کرتے وقت جس صابن سے جسم دھوئیں اُس سے اپنی کلائیاں بھی اچھی طرح دھوئیں کہنیوں کے موڑ کی کھال جو جوڑ کی مناسبت سے ذرا ڈھیلی ہوتی ہے اس کو بطور خاص نم کرکے آہستہ آہستہ کسی اچھی کریم کی مدد سے صاف کریں زیادہ اکڑنے سے جلد کو نقصان ہوتاہے لہٰذا آہستگی سے اسے رب کریں اس لیے کہ ہاف آستین اور ساڑھیاں استعمال کرنے والی خواتین کی کہنیوں کے جوڑ یر پڑنے والے نشانات ان کی شخصیت اور پہناوے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔


ہاتھوں کی جلد کی حفاظت کے لیے برتن اور کپڑے دھوتے وقت دستانوں کا استعمال کریں دھوپ میں نکلتے وقت چہرے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہاتھوں اور کلائیوں کی جلد کی حفاظت کا بھی انتظام کرنا چاہیے دھوپ کے اوقات میں ہاف آستین پہننے سے گریز کریں ورنہ کپڑے کے باہر کا حصہ سانوالا پڑجاتاہے ہاتھوں پر دستانے پہن لینے سے سورج کی تپش سے جلد کو متاثر ہونے سے روکا جا سکتاہے۔


جلد کو محفوظ ملائم اور چکنا رکھنے کے لیے لیموں کا رس بھی بے حد مفید ہے اسے ہاتھوں ،کہنی اور ایڑھیوں پر مسلسل لگانے سے موسم کے منفی اثرات کو زائل کیا جا سکتا ہے یوں بھی ان دنوں سردی کا موسم ہے اور موسم سرما جلد کا سب سے بڑا دشمن ہے لہٰذا احتیاط بہت ضروری ہے ۔
اپنے ہاتھوں کی خوبصورتی کو بر قراررکھنے کے لیے اپنے ناخنوں کا بھی بطور خاص خیال رکھیں اگر آپ بڑے ناخن رکھتی ہیں تو ان کی صفائی کے ساتھ ساتھ ان کی تراش خراش پر توجہ دیں ناخن تراشنے کے لیے نیل کٹراستعمال کریں قینچی وغیرہ سے ناخن کی ساخت بگڑ جاتی ہے جبکہ نیل کٹر خاص طور پر ناخنوں کی ساخت کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔

نیل کٹر سے ناخن تراشنے کے بعد انہیں نیل کٹرمیں موجود ریتی نما حصے سے رگڑ کر ہموار کرلیں جس کے بعد آپ کی انگلیاں اچھا تاثر چھوڑ یں گی ناخنوں پر ہر وقت نیل پالش کا استعمال ان کی خوبصورتی کو ختم کر دیتا ہے اس لیے اس کا استعمال بوقت ضرورت ہی کرنا چاہیے ہلکے رنگوں کا انتخاب آپ کے ہاتھوں میں مزید چار چاند لگا دیتا ہے نیل پالش کا استعمال ہاتھ اور پیروں دونوں جگہ اپنی جلد کی مناسبت سے ہی کرنا چاہیے یہ نہ ہو کہ آپ کی کسی دوست کے ہاتھ پیروں پر سرخ رنگ جچتا ہوتو آپ کو بھی وہی رنگ سوٹ کرے گا بلکہ آپ اپنی جلد کیرنگ کو مد نظر رکھ کر رنگوں کا انتخاب کریں ناخنوں کی حفاظت اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے اپنے ناخنوں کو صابن ملے نیم گرم پانی میں چار پانچ منٹ تک ڈبو کررکھیں اس طرح کرنے سے ناخن ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں۔


جلد کی حفاظت یوں تو مرد وعورت دونوں کے لیے ضروری ہے لیکن مردوں کی بہ نسبت چونکہ عورتوں کی جلد زیادہ نازک ہوتی ہے لہٰذا انہیں اپنی جلد کی حفاظت کا مردوں سے زیادہ خیال رکھنا پڑتاہے آج کل کی مصروف زندگی میں زیادہ تر خواتین کے پاس ان کاموں کے لیے وقت ہی نہیں نکل پاتا کہ وہ اپنی شخصیت پر توجہ دے سکیں ان کی اس لا پرواہی کے سبب ان کی جلد کی حساسیت قدرے متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات ہاتھوں اور چہرے کی جلد ایک طرح سے مردہ ہو جاتی ہے اور اس کی تروتازگی بھی ختم ہو جاتی ہے ۔

ان حالات میں چہرے کی جلد کو تروتازہ بنانے کے لیے فیشل کی ضرورت پڑتی ہے میک اپ میں استعمال کئے جانے والے سامان میں مختلف قسم کے کیمیکل شامل ہوتے ہیں اگرمیک اپ چہرے پر دیر تک رہے تو یہی کیمیکل جلد کی اندرونی ساخت میں شامل ہو کر اسے متاثر کرتے ہیں چہرے کی تروتازگی کے لیے فیشل کیا جاتا ہے جس میں سب سے اہم چیز مساج ہوتاہے ۔
مساج سے جلد کی کھوئی ہوئی رونق ورنگت واپس آجاتی ہے جو خواتین بعض مجبوریوں اور اخراجات نہ ہونے کے سبب بیوٹی پارلرز نہیں جاسکتیں تو وہ یوں کریں کہ ملائی میں چند قطرے لیموں کا رس ملا کر رات کو سونے سے قبل اپنے چہرے پر اس کا مساج کرکے سوجائیں اور صبح اٹھ کر کسی اچھے صابن سے منہ دھولیں اس طرح ان کی جلدکی تازگی بر قرار رہے گی۔

فیشل کرانے کے لیے عمر کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے جن خواتین کی عمر30سال سے زائد ہو انہیں پندرہ دن بعد جبکہ تیس سال سے کم عمر کی خواتین کو مہینے میں صرف ایک بار فیشل کرانا چاہیے جو ان کے لیے مناسب وقفہ ہے البتہ جو خواتین ملازمت اور دیگر امور کی وجہ سے باہر رہتی ہیں ان کے لیے پندرہ دن میں ایک بار فیشل کر الینا بہترہے اگر وہ فیشل نہ کرائیں تو کم از کم ہفتے میں ایک بار مساج ضرور کرائیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-05

Your Thoughts and Comments

Special New Trends Of Beauty article for women, read "Khobsorat Or Munfarid Nazar Ana Sab Ko Acha Lagta Hai" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.