بند کریں
خواتین مضامینمیک اپلپ گلوس

مزید میک اپ

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لپ گلوس
ہونٹوں پر گلوس کا برا فیشن ہے۔ماہرین حسن کا کہنا ہے کہ گلوس کے استعمال سے ہونٹوں کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے

لپ گلوس۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ ہونٹوں پر گلوس کا برا فیشن ہے۔ماہرین حسن کا کہنا ہے کہ گلوس کے استعمال سے ہونٹوں کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے۔یہ فیشن آج سے دس سال پہلے بھی مقبول رہا، اُن دنوں میکس فیکٹر کا تیار کردہ لپ گلوس دستیاب ہوا کرتا تھا۔جس کیاستعمال سے باریک ہونٹ خمدار دکھائی دیتے تھے۔بدنما ہونٹوں پر لپ گلوس لگائیں تو خوشنما ہوجاتے ہیںآ ج کل چند کمپنیوں کے تیار کردہ لپ سٹکس فراسٹڈ گلوس ہوتی ہیں جن کے استعمال سے ہونٹوں پر رنگ کے علاوہ چمک آجاتی ہے۔ماہرین حسن کا کہنا ہے کہ اگر اپنے ہونٹوں کو رسیلے بنانا ہے تو لپ گلوس استعمال کریں۔پہلے لپ برش سے ہونٹوں کے ارد گرد بیرونی لکیر کھینچ لیں پھرلپ سٹک ہونٹوں کے اندر لگائیں۔ناقص لپ سٹک کے استعمال سے ہونٹ کالے ہوجاتے ہیں ہونٹوں پر لپ سٹک کا شیڈ دیتے وقت وہی شیڈ استعمال کریں جو ہونٹوں پر اچھا لگے اور جس کی رنگت ہونٹوں کی رنگت سے ملتی جلتی ہو۔اسے اتنی صفائی اور ہنر مندی سے لگایا جائے کہ دیکھنے والی آنکھ یہ محسوس نہ کرسکے کہ آپ نے لپ سٹک لگا رکھی ہیں لپ سٹک کا استعمال بھی ہنر ہیں جو آپ کے ذوق حسن کی نمائندگی کرتا ہے۔لپ سٹک کا رنگ ہونٹوں کے میک اپ میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اس لیے آپ کو لپ سٹک خریدتے وقت خاص طور پر وہ رنگ پسند کرنا چاہیے جو آپ کے ہونٹوں پر موزوں ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی جلد کو کسی قسم کا نقصان بھی نہ پہنچائے۔یہ جاننے کے لیے لپ سٹک آپ کے ہونٹوں پر کیسی لگے گی،آپ اسے ہتھیلی کے قریب کلائی پر لگائیں۔اس جگہ کی رنگت وہی ہوگی جو آپ کے ہونٹوں پر لپ سٹک کے استعمال سے ہوگی۔اس طرح آپ یہ بھی جان لیں گی کس رنگ کی لپ سٹک کا شیڈ آپ اور آپ کے کپڑوں سے مطابقت رکھتا ہے۔مثلاًجس لپ سٹک میں سرخ رنگ کے ساتھ ہلکا نارنجی رنگ بھی موجود ہو،وہ بھوری آنکھوں اور سانولی رنگت والی خواتین لے لیے اچھی نہ ہوگی۔ایک اچھے انداز میں لپ سٹک لگانے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ اپنے ہونٹوں کے فطری زاویوں کو تبدیل کردیں۔اس قسم کا میک اپ بہت بھدا اور ناموزوں معلوم ہوتا ہے۔ایسا میک اپ صرف فلموں کی شوٹنگ یا ٹیلی ویژن کے کسی خاص پوز کے لیے کیا جاتا ہے۔ورنہ ایسا میک اپ تو اچھی بھلی صورت کا ستیا ناس کردیتا ہے۔اگر آپ صرف اس وجہ سے احساس کمتری میں مبتلا ہیں کہ آپ کے ہونٹ چہرے کی نسبت آپ کو ٹھیک نہیں لگ رہے یا ناہموار ہیں تو اس میں آپ کو چنداں فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ اپنے ہونٹوں کی اس ناہمواری کو دور کرسکتی ہیں ۔آپ اس ناہمواری کو اپنے ہونٹوں پر لپس آؤٹ لائن(Lips Outline) لگا کر دور کریں۔جبکہ اوٹ لائن لگانے میں یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ آوٹ لائن ازحد باریک اور نفیس ہو۔اگر آؤٹ لائن ضرورت سے ذرا بھی بڑی ہوگی تو آپ کے ہونٹ اور بھی بھدے معلوم ہوں گے۔آؤٹ لگانے کے بعد اسے نہایت احتیاط سے برش کے ساتھ ہموار کرکے پورے ہونٹ پر پھیلادیا جائے۔اس طرح ہونٹ کا درمیانی حصہ خود بخود بھر جائے گا اور لپ سٹک لگانے سے آپ کے ہونٹوں کا تاثر خوشگوار ہوجائے گا۔لپ سٹک ہونٹوں پر اس طرح لگائیں کہ ان کے درزوں تک پہنچ جائے مگر ایسا نہ ہو کہ وہ باہر نکل جائے۔لپ سٹک لگانے کے لیے برش کا استعمال بھی بہت موزوں ہوتا ہے۔برش سے لپ سٹک لگانے سے یہ سارا دن قائم رہنے کے ساتھ ساتھ نکھرت رنگ کی طرح ہوجاتی ہے۔ہونٹوں کے کناروں کا پاس اگر لپ سٹک دونوں طرف کے شیڈوں کا رخ تھوڑا سا اوپر کی جانب کردیا جائے تو اس سے چہرے کے تاثر میں حیرت انگیز حد تک تبدیلی آجاتی ہے۔صاف ستھرا ہموار سطح کے ہونٹوں پر لپ سٹک لگانا کافی آسان ہوتا ہے مگر کٹے پھٹے اور کھردرے ہونٹوں پر لپ سٹک لگانا کافی مشکل کام ہے۔ایسے ہونٹوں پر لپ سٹک استعمال کرنے سے ایک گھنٹہ پہلے ویزلین یا کوئی اورعمدہ سی کریم لگائیں۔تقریباً آدھ گھنٹہ بعد اسے کسی کھردرے کپڑے یا تولیے سے صاف کردیں۔اور ہونٹون کو نم کیے بغیر ان پر لپ سٹک لگادیں۔خشک ہونٹوں پر رات کو سونے سے پہلے کوئی عمدہ سی کریم یا گلیسرین لگانی چاہیے۔یہ عمل کسی بھی موسم میں کیا جاسکتا ہے۔لپ سٹک کے استعمال سے ہونٹ عموماً کالے پڑجاتے ہیں۔خراب اور گھٹیاقسم کی لپ سٹک ہونٹوں کی قدرتی رنگت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہفتے میں تقریبا ً دو دن لپ سٹک کا استعمال نہ کریں۔ہر شب سونے سے پہلے ہونٹوں پر روغن زیتون کا لگائیں۔اگر روغن زیتون کے ساتھ عرق لیموں یا ڈائلیوٹ سلیفورک ایسڈ(Dilute Sulphuric Acid) کے تین چار قطرے ملا کر ہر روز رات کو سونے سے پہلے اور لپ سٹک کا میک اپ اُتارنے کے بعد ہونٹوں پر ملیں تو اس سے آپ کے ہونٹوں کی قدرتی دلکشی اور دل آویزی ہمیشہ برقرار رہے گی۔انگور یا گریپ فروٹ کے جوس میں دار چینی ملا کر لگانے سے بھی ہونٹوں کی سیاہی دور ہوتی ہے۔اس مقصد کے لیے ٹماٹر اور چقندر بھی مفید ہے۔چقندر کو ابال لیں پھر اسے قتلے ہونٹوں پر ملیں اور ٹماٹر کا رس ہونٹوں پر لگائیں۔بعض خواتین حقہ نوشی یا سگریٹ نوشی کرتی ہیں اور یہ نہیں جانتی کہ حقہ یا سگریٹ یا اس قسم کی دوسری دھواں چھوڑنے والی چیزیں صحت کے ساتھ ساتھ ہونٹوں پر بھی کافی اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کی قدرتی دلکشی اور خوبصورتی کو ختم کردیتی ہیں۔اس کے علاوہ دنداسہ بھی ہونٹوں کی قدرتی دلکشی کو ختم کردیتا ہے لیکن ہونٹوں کی جلد پر تیزابی اثرات بھی چھوڑتا ہے جو ہونٹوں میں سوزش پیدا کردیتے ہیں اور ہونٹ پھٹ جاتے ہیں۔دنداسہ صرف دانتوں کا میل دور کرنے کے لیے ٹھیک ہے۔موٹے ہونٹوں کو پتلا کرنے کے لیے مازو پھل کا سفوف لیپ کرنا چاہیے۔لیپ بنانے کی ترکیب یہ ہے کہ مازو پھل کو کوٹ اور پیس کر باریک کرلیں۔پھر کپڑے سے چھان لیں اور اس میں پانی ڈال کر ایک گاڑھا لیپ بنالیں جو ہونٹوں پر لگانے سے ٹھہر سکے۔
آنکھیں:چہرے پر بھرپور تاثر پیدا کرنے کے لیے آنکھیں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔میک اپ آنکھوں کو نمایاں کرتا ہے۔آنکھوں کو خوبصورت بنانے کے لیے خواتین پہلے سرمے اور کاجل کا استعمال کرتی تھیں۔آج کل آئی لائن (Eye Line) کا فیشن ہے۔آئی لائن اگر مناسب طریقے پر لگائی جائے تو آنکھیں دلکش اور بڑی نظر آنے لگتی ہیں۔آنکھوں کے میک اپ کے لیے آجکل مارکیٹ میں بے شمار کاسمیٹکس دستیاب ہیں۔مثلاً آئی بر و پنسل،مسکارا،مصنوعی پلکیں،ابرو بیوٹی،یہ ایک برش ہوتا ہے جس سے ابرو سنوارے جاتے ہیں اس کے علاوہ آئی لائنز اور آئی شیڈ وغیرہ آنکھوں کے جدید میک اپ کے لیے ضروری ہیں۔آئی میک اپ چہرے کے تمام میک اپ کو جلا بخشتا ہے۔چہرے کا میک اپ کرتے ہوئے فاؤنڈیشن موسچرائزر اور سکن ٹانک وغیرہ آنکھوں کے گرد بھی لگائے جاتے ہیں مگر جب آئی میک آپ کرنے لگیں تو روئی پر تھوڑا سا پاؤڈر لے کر آنکھوں کے پپوٹوں پر لگائیں۔آئی میک اپ سے پہلے آنکھوں کے ارد گرد کی جگہ چکنی نہیں ہونی چاہیے۔پاؤڈر لگانے سے یہ جگہ خشک ہاجائے گی۔بازار میں اس وقت تین قسم کے آئی لائن دستیاب ہیں:
۱۔لیکوئڈ
۲۔کیک ڈرائی
۳۔پنسل
ان آئی لائنز کے دو شیڈ ہوتے ہیں:بلیک اور براؤن۔آپ آئی لائنز کا انتخاب کرتے وقت اپنے سر کے بالوں کی رنگت کا خیال رکھیں بال سیاہ ہوتو بلیک آئی لائنز،اور بال براؤن ہوتو براؤن آئی لائنزخریدیں۔اگر آپ لیکوئڈ یا کیک آئی لائنز کے بجائے پنسل آئی لائن لگانا چاہتی ہیں تو پنلس کو اچھی طرح نوکیلی بنائیں۔آئی لائنز آنکھ کے اندرونی کوینے سے شروع کرکے آنکھ کے درمیان میں اوپر لے جائیں۔پھر بیرونی کونے کی طرف نیچے لے آئیں۔کاجل یا سرمے کی دھار کو آنکھ کے باہر تک لے جانے کا فیشن برسوں تک مقبول رہا ۔یہ فیشن ابھی بھی رائج ہے مگر اس میں کچھ ترمیم کی گئی ہے۔یعنی اگراپ کی آنکھیں گول ہیں ۔اور آپ آنکھیں میک اپ میں لمبا کرنا چاہتی ہیں تو آپ ائی لائن کو باہر تک کھینچ لیں۔مگر یہاں یہ بات بتا دینا ضروری ہے کہ اگرآپ کی آنکھوں کے پپوٹی بھاری ہیں اور آنکھوں کے گرد گہرئی جھریاں ہیں تو آئی لائنز آنکھوں سے باہر تک نہ کھینچیں کیونکہ اس سے آپکی عمر زیادہ معلوم ہوگی۔آئی لائن کی تکنیک کا انحصار آپ کی آنکھوں اور پپوٹوں کی بناوٹ پر ہے۔یہ لائن پلکوں کے ساتھ ساتھ باریک بھی لگائی جاتی ہے۔اور بصورت دیگر اسے ذرا چوڑا اور گہرا بھی کیا جاسکتا ہے۔پہلے آئی لائن آنکھ کے اوپر لگائی جاتی تھی،اب نیچے بھی لگائی جاتی ہیں۔اگر آپ اپنی آنکھ کو ذرا بڑا دکھانا چاہتی ہیں تو آنکھ کے اوپر لائن لگانے کے بعد سفید آئی برو پنسل سے آنکھ کے بیرونی پر اوپر اور نیچے کی لائن کے درمیان لگائیں۔آجکل ٹوگ لک(Twig Look) بہت مقبول ہے یعنی آنکھوں کے نچلے حصے کی پلکے بھی پینٹ کی جاتی ہیں۔مسکارا نہ صرف اوپر پلکوں پر لگایا جاتا ہے،بلکہ نیچے بھی لگا یا جاتا ہے،مسکارا کے علاوہ آنکھ کے نچلے حصے میں آئی شیڈ بھی لگایا جاتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے