Muhabat Ki Shadi Nakam Kiun Hoti Hai

محبت کی شادی ناکام کیوں ہوتی ہے؟

پیر جولائی

Muhabat Ki Shadi Nakam Kiun Hoti Hai
شادی کا فیصلہ ہر لڑکی اور لڑکے کی زدگی کا سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے اور اگر اس فیصلے میں محبت بھی شامل ہو جائے تو یقیناََ یہ کسی سہانے خواب کی تعبیر سے کم نہیں ہوتی۔ کون کہتا ہے محبت میں زباں ہوتی ہے یہ حقیقت تو نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ محبت میںزباں ہی نہیں بلکہ دماغ بھی نہیں ہوتا اسی لیے تو جب محبت جیسا قوی جزہ غالب آتا ہے تو انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے کیوںکہ جس سے محبت ہو، اس کی خامی بھی خامی نہیں لگی ، محبت کے جذبات داغ پر غالب آجاتے ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہم کسی دوست یا رشتے دار کے قریب ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ ان کی شخصیت کو پرکھنے کے لیے اکساتا ہے مگر جس شخص سے جزباتی قربت ہو، اس کے بارے میں دماغ ایسا کرنے سے روکتا ہے ناکہ منفی جذبات او خیالات قربت کی نفی نہ کر سکیں۔

(جاری ہے)

کہتے ہیں محبت میں بھروسے کی اور ادی کو نبھانے میں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس وقت اگر کوئی بات ملحوظِ خاطر رہتی ہے تو ایک دوسرے سے محبت اور جزباتی وابستگی سے پیدا ہونے والی کشش ہے اور اید اسی کو محبت کا طلسم کہتے ہیں لیکن جب ادی کے بعد انہیں دن رات ایک ہی چھت تلے گزارنا پڑتے ہیں تو معمولی اور غیر اہم باتیں بھی اہم لگتی ہیں اور نوک جھوک کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نہ محبت رہی نہ شادی ہمارے ہاں طلاق کو ای کی ناکامی تصور کیا جاتا ہے مگر شادی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ نا خوشگوارزندگی گزارنا بھی شادی کی ناکامی ہی کے مترادف ہے لیکن سمجھنے بات یہ ہے کہ باہمی محبت کے نتیجے میں خود اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرنے اوحتیٰ کہ خاندانی مخالفت تک مول لینے کے بعد محبت کی شادی کی ناکامی کا آخر جواز کیا بنتا ہے؟دورِ جدید میں معاشرتی و سماجی اقدار میں تبدیلی کی بدولت پسند اور محبت کی شادی کا رواج عام ہو رہا ہے اورپڑھے لکھے اور باشعورگھرانوں میں چوں کی شادیوں کے معاملات میں ان کی رائے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے مگر اس کے باوجود گھریلو ناچاقی اور پھر طالاق کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

ان میں اکثریت انہی لوگوں کی ہے جنہوں ے محبت کے نتیجے میں عمر بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے قسمیں ودے کئے تھے۔ اس حوالے سے ہوم اکنامکس کالج سے منسلک ماہرِ نفسیات اورایسوسی ایٹ پروفیسر ظل ہما خان کہتی ہیں”میاں بیوی میں ناچاقی، عدم اعتماد، دعم برداشت، ناکافی عملی تجربہ جیسے مسائل ان کی روز مرہ زندگی میں مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ان وجو ہات کی بنا پر دو لوگوں میں نہ محبت برقرار رہتی ہے اور نہ ہی شادی۔

یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک کامیاب شادی کے لیے شادی سے پہلے ایک دوسرے سے محبت لازمی شرط نہیں بلکہ والدین کی جانب سے طے شدہ شادیاں بعض اوقات زیادہ کامیاب او دیر پا ثابت ہوتی ہیں جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی اہمیت بڑھتی ہے۔ دوسری طرف محبت کی شادی میں ناکامی کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاََ میاں بیوی کی ایک دوسرے سے توقعات کا معار بہت اونچا ہو تا ہے۔

شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو سبز باغ دکھا کر احمقوں کی جنت میں رہنے کے اس قدر قائل ہو جاتے ہیں کہ جب عملی زندگی کی تلخ حقیقتیں ان پر آشکار ہوتی ہیں تو وہ ان کی تلخی جھیل نہیں پاتے۔ اکثر لڑکے یہ دعوے کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ چاند تارے تک توڑ کر لادیں گے، اپنی محبوبہ کی خاطر زمانے سے لڑ جائیں گے مگر نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ وہ دونو ں ایک دورے سے ہی لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

محبت کی شادی کے نتیجے میں اکثر لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے یہ توقع بھی کرتے ہیں کہ ہمیشہ سب کچھ ان کی مرضی سے ہی ہو گا اور جب ایسا نہیں ہوتا تو ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، آپس میں رنجیں بڑنے لگتی ہیں ، پھر احساس ہوتا ہے یہ تو وہ شخص ہی نہیں جس کے ہاتھوں اپنے خوابوں کا سودا کیا تھا۔ دراصل مستقبل کے سہانے خواب سجانے کے بد بعض اوقات عملی زندگی میں سارے خواب ریت کے محل کی مانندڈھے جاتے ہیں۔

شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے لڑکا اور لڑکی صرف ایک دوسرے کی مثبت باتوں کو زیرِ غور رکھتے ہیں، عملی زندگی کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہوتے ہں ایسے میں اکثر لڑکے محض لڑکی کی خوبصورتی یا ذہانت سے متاثر ہر کر اسے پانی کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں وہ یہ نہیں دیکتے کہ اس لڑکی کو کھانا بنانا آتا ہے یا نہیں، وہ گھریلوکام کاج میں طاق ہے یا نہیں، اس کے مزاج میں برداشت اور گھر کے سبھی لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت ہے یا نہیں؟ یہ سب باتیں کوئی عاشق یا محبوب تو نظر انداز کر دیتا ہے مگر شوہر نہیں کرتا۔

اسی طرح بعض لڑکیاں بھی محض یہ دیکھتی ہیں کہ لڑکا ان سے محبت کا اظہار کیسے کرتا ہے، ان کا کتنا خیال رکھتا ہے، ان کی ذرا سی تکلیف پر کتنا بے چین ہو جاتا ہے وہ ی جاننے کی کوش بھی نہیں کرتیں کہ جس عالی شان زندگی کے انہیں خواب دکھائی جا رہے ہیں، وہ سچ مچ انہیں پورا کرنے کی استطاعت رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ اور تو او جب وہ اس کے گھر جائیں گی تو وہاں ان کا رشتہ صرف شوہر سے ہی نہیں بلکہ اس سے متعلقہ ہر شخص سے قائم ہو گا جو اس ی توجہ، محب، وقت اور کمائی کے حصے دار ہوں گے۔

تب وہ اس کا شوہر ، کسی کا بیٹا اور کسی کا بھائی بھی ہوگا۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی اگر ایک ہی دفتر میں کام کرتے ہوں تو اکثر وہر اپنی بیوی کی ترقی سے ناخوش رہتے ہیںاور یہ احساسِ کمتری ان کے رشتے کو دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے، اگر بیوی شوہر سے زیادہ کمانے لگے تو شہر کو گواراہ نہیں ہوتا کہ بیوی مالی ضروریات کے لیے اس کے سامنے دستِ نگرنہ ہو اور یوں محبت پر مردانہ انا آڑے آہی جاتی ہے۔

اسی طرح بعض عورتیں بھی پسند نہیں کرتیں کہ ان کا وہر اپنی کمائی اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔ آج کل شادی کی ناکامی کی اہم و جوہات میں کسی حد تک خواتین کا آزاد اور خود مختار ہونا بھی شامل ہے کیونکہ مالی طور پر مستحکم عورتیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر سمجھوتے کرنا اپنی توہین سمجھتی ہیں جو خطر ناک معاشرتی رویوں کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ ہمارے ہاں شادیاں دو خاندانوں میں طے پاتی ہیں اور خصوصاََ لڑکیوں سے برداشت ، نرمی ، لچک اور معاملہ فہمی کا تقاضا کیا جاتا ہے کیونکہ انہیں اپنا گھر چوڑ کر اپنا نا اور اہمیت دینا ضروری ہے۔

لڑکی کو اچھی طرح علم ہو کہ اس کے پاس غلطی کی تلافی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اس لیے پیار محبت سے سسرالیوں کو اپنا اس قدر گرویدہ بنا لے ۔ ویسے بھی محبت کی ادی کی صورت میں تو لڑکی کو سسرال میں اپنی خاص جگہ بنانے میں زیادہ محنت اور قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ایسے میں کوئی بھول چوک ہو جائے تو بہو کی ہی نہیں ، ساس سسراپنے بیٹے کو بھی طعنے دیتے ہیں۔

شادی شدہ جوڑوں پر دس سال تک کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ محبت کی شادی کے نتیجے میں گزرتے وقت کے ساتھ میاں بیوی کے مابین غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا ہونے کے امکانات ان لوگوں سے کئی گنا زیداہ ہوتے ہیں جو طے شدہ ادیوں کے بندھن سے بندھ ہوتے ہیں کیوں کہ محبت کی شادی کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کی پسند، نا پسند ، رویوں اور رجحانات کا فرق محسوس کر کے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل خیال کرتے ہیں جبکہ طے دہ رشتوں میں سوچ بچا ر سے فیصلے کئے جاتے ہیں اس لئے ایسے رشتے دیر پا اور کامیاب ہوتے ہیں۔

“ ناکامی کا دکھ کسے زیادہ ہوتا ہے؟ ماہرِ سماجیات شہلا فارقی کے مطابق ”محبت کی شادی میں ناکامی کا دکھ مردوں کی نسبت خواتین میں دو گنا ہوتا ہے اور خواتین رشتوں کے ٹوٹنے کی تکلیف دیر تک اپنے اندر محسوس کرتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مردوں کی نسبت خواتیں رشتوں کے معاملے میں زیادہ محتاط اور ذمہ دار ہوتی ہیں۔ تاہم مرد تعلقات قائم کرنے کے معاملے میں تو پیش پیش ہوتے ہیں مگر خواتین تعلقات بنانے میں جہاں محتاط دکھائی دیتی ہیں، وہیں اگر وہ اپنے آپ کو کسی بندھن میں باندھ لیں تو اسے نبھانے میں مردو پر بازی لے جاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ عورتیں مردوں سے زیادہ باوفا اور مستقبل مزاج ہوتی ہیں کیونکہ تعلقات کے معاملے میں خواتیں کے مذاج میں زیادہ ٹھہراﺅ اور استحکام پایا جاتا ہے اس لئے وہ تعلقات نبھانے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیتی ہیں جبکہ مردمہم جو طبیعت کے مالک ہوتے ةٰن اس لیے ان کی وفا داریاں وقت سے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور ایک ہی تعلق کو دیر تک نبھانے میں اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں جبکہ خواتین ہمیشہ وفا داری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

رشتوں کو قائم رکھنے کے گُر اللہ تعالیٰ نے عورت میں اپنے گھر سے لگاﺅ اور اپنوں کی خاطر قربانی کا جذبہ مرد کی نسبت زیادہ دیا ہے اس لئے شادی محبت کی ہو یا طے دہ رشتوں کو قائم رکھنے کے لیے انہیں محبت، خلوص اور ایثار کی طاقت سے سینچنا پڑتا ہے۔اگر کوئی شخص آپ کو سہانے خواب دکھا رہا ہے تو یہ بھی سوچیں کہ وہ انہیں پورا کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں؟اگر آپ اپنے خوابوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتیں تو کوئی ایسا اہم فیصلہ نہ کریں کہ آگے چل کر پچھتاوا آپ کا مقدر بن جائے۔

اسی طرح دیکھ بھال ک فیصلہ کریں کہ وہ لڑکی آپ کی خاندانی اقدار کو اپنا سکے گی یا نہیں؟ آپ اپنی بیوی میں جو خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اس لڑکی میں ہیں بھی یا نہیں؟محض جزبات کے تابع ہو کر زندگی کا اہم ترین فیصلہ نہ کریں اور نہ ہی کسی لڑکی کی زندگی برباد کرنے کے لیے اسے جھے خواب دکھائیں کیونکہ اس طرح آپ وقتی خوشی تو حاصل کر لیں گے مگر بعد میں آپ کو بھی پچھتانا پڑے گا۔

دراصل شادی کی بعد مردو خواتین کی زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، ہاں اس میں دارائے نہیں کہ لڑکیوں کو نئی جگہ، نئے ماحول اور نے لوگوں میں کچھ زیادہ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیئے محبت کی شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے ان معاملات کی بھی باقاددہ منصوبہ بندکی کر لی جائے تو شادی کے بعد پُر سکون زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ لڑکیوں کو بھی چاہیئے کہ سسرال میں من مانی کرنے سے گریز کیں بلکہ سسرالیوں کی پسندو ناپسند کو اہمیت دیں۔

میاں بیوی کے رشتے میں دوستی ہونی چاہیئے اور ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کریں، ہاں فرمائشوں کی طویل فہرست پیش نہ کریں اور کسی بات کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں کیونکہ اگ میاں بیوی اپنی بات پر اڑ ے رہیں تو گھر کا ماحول اور سکون تباہ ہو جاتا ہے۔ کوشش کریں ایک کو غصہ آئے تو دوسرا خاموش ہو جائے اور جب غصہ اترے تو دوسرے کو غلطی کا احساس دلائیں۔

ماہرِ صحت ڈاکٹر فاضل بخاری کا خیال ہے ” انسان کے لیے محبت سے سرشارخوگوار تعلقات صحت مند زندگی کے ضامن ہوتے ہیں کیونکہ محبت کا جذبہ انسانی جسم میں خون کے بہاﺅ کو ایک خاص سطح پر رکھتے ہوئے ذہنی دباﺅ سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ خون کی پیداوار میں بھی معاون ثابت ہوتاہے۔محبت کے نتیجے میں بننے والے تعلقات انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

جدید تحقیق کے مطابق مطمئن شادی شدہ جوڑوں میں بلڈ پریشر کے مسائل نسبتاََ کم ہوتے ہیں اس لیے ان میں ہارٹ اٹیک کا اندیشہ بھی کم ہوتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر میں بیوی میں ہر وقت چپقلش رہے تو ان میں بلڈ شوگر جیسی بیماری کا امکان برح جاتا ہے کیونکہ ذہنی دباﺅ کی وجہ سے قدرتی طور پر جسم میں انسولین کی مقدار کم ہوجاتی ہے اس لیے تکلیف دہ اور ناخوشگوار تعلقات سے بہتر ہے کہ اکیلے ہی زندگی گزارلی جائے کیونکہ ناخوشگوارتعلقات عمر میں کمی کا باعث بھی بنتے ہیں۔

“اگر میاں بیوی میں سے کوئی بیمار ہو جائے اور دوسرا اس کی دیکھ بھال کرے تو اس کی جلد صحت یا بی کا امکان کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ محبت کرنے والوں کا ایک دوسرے کو جزباتی سہارا دینا بھی نفسیاتی طور پر انہیں اندر سے مضبوط بناتا ہے۔۔
تاریخ اشاعت: 2018-07-23

Your Thoughts and Comments

Special Married Life Tips article for women, read "Muhabat Ki Shadi Nakam Kiun Hoti Hai" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.