Halal Nail Polish

حلال نیل پالش

Amir Bin Ali مکتوبِ جاپان۔عامر بن علی منگل اکتوبر

Halal Nail Polish
خواتین کے لئے خوشخبری ہے کہ اب حلال نیل پالش بھی دستیاب ہے۔جاپان میں بننے والی اس نیل پالش کولگاکر وہ بارباروضوکرسکتی ہیں۔اس کی تیاری میں شامل ہونے والے تمام اجزاء حلال ہونے کے علاوہ پانی اس میں سے گزرکرناخن کو چھوسکتاہے۔اس ایجاد کا سہراجس جاپانی خاتون کے سر سجتا ہے ،اس کی کہانی سننے سے تعلق رکھتی ہے ۔حال ہی میں منصہ شہود پرآنے والی اس نیل پالش کی خوبی یہ ہے کہ یہ طویل المدتی اثرات رکھتی ہے ۔

یعنی ایک ہفتے تک ناخنوں پر اپنے رنگوں کارچاؤ،خوبصورتی اور جاذبیت برقراررکھتی ہے۔ہوسکتا ہے بعض لوگ سوچتے ہوں کہ ایسی مصنوعات تو ایک عرصے سے بازار میں دستیاب ہیں؟اس میں خبریت کی کونسی بات ہے؟خود ہمارے خاندان میں مذہبی رجحان رکھنے والی لڑکیاں مہندی کے عرق کوبطورنیل پالش استعمال کرتی ہیں۔

(جاری ہے)


عرض یہ ہے کہ ٹوکیومیں قائم حلال نیل نامی کمپنی کی روح رواں ہیتومی گوتوکی مذکورہ ایجاد سے پہلے بازار میں جتنی بھی اقسام کی حلال نیل پالش دستیاب تھیں،وہ سب ناخنوں پرچند گھنٹوں کی مہمان ہوتی تھیں۔

گرچہ کینیڈااور ملائشیاء کی بعض کمپنیاں اپنی حلال نیل پالش عالمی سطح پر فروخت کرتی آئی ہیں مگران سب میں یہ مشترکہ مسئلہ تھا،یعنی کوئی بھی ناخن پر اگلے دن تو کیا،اگلے پہر تک بھی جاذبیت برقرار نہ رکھ پاتی تھیں۔بعض قارئین کی شائد اس بات میں دلچسپی ہوکہ بھلا عام نیل پالش اورحلال نیل پالش میں کیا فرق ہے؟بات بہت بنیادی اور سادہ ہے۔عام نیل پالش لگانے کے بعدپانی ناخن کو چھو نہیں سکتا،جب ناخن کوپانی نہیں چھوئے گاتوپھروضونہیں ہوگا۔

اور جب وضونہیں ہوگاتوپھرنمازبھی ادا نہیں ہوگی۔
معروف عالم دین جاوید احمدغامدی کی رائے اس بارے میں ذرا مختلف ہے۔ان سے پچھلے دنوں جب وہ امریکہ گئے تووہاں خواتین نے سوال کیا ،کہ کیا نیل پالش لگاکر وضوہوجاتاہے؟اور اس طرح وضو سے نماز قبول ہو جاتی ہے؟غامدی صاحب نے فرمایاکہ اگروضوکرنے کے بعد نیل پالش لگائی جائے توپھردوبارہ وضو کرنے کے لئے نیل پالش اتارنا ضروری نہیں۔

بلکہ اسی طرح اگلا وضواوراگلی نمازجائز ہے۔غامدی صاحب جیسے بڑے عالم دین سے اختلاف کرناآسان بات نہیں،مگر میرے نزدیک انہوں نے اس بابت غالباًیہی پہلومدّ نظررکھاکہ ناخن کو پانی چھوناچاہیئے،ان کی تجویز اس بات سے ملتی جلتی ہے کہ جیسے موزہ پہن لیں توپھرہربار وضوکے دوران پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں ۔نیل پالش کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں شائد انہوں نے غورنہیں کیا۔

الکحل ہرعام نیل پالش کا لازمی جزو ہے۔
عمومی طور پرمسلمانوں کا حلال اور حرام کاتصورکھانے،پینے کی اشیاء تک ہی محدودہوتا ہے۔میرے لئے مگرچشم کشاء واقعہ تھا،جب لیدر جیکٹ خریدتے وقت میرے دوست نے لاطینی امریکہ کے اس شاپنگ مال کے سیلزمین سے پوچھا کہ یہ کس چمڑے کی بنی ہے؟میرے استفسارپر کہ بھلایہ کیا سوال کردیاآپ نے،نوجوان سیلزمین توانکوائری میں پڑگیا؟بزرگ دوست نے مجھے سمجھایاکہ یہاں خنزیر کے چمڑے سے بنی جیکٹس عام بکتی ہیں،اس لئے پوچھ رہا ہوں۔

میں نے گزارش کی کہ قرآن کریم میں تو”لحم خنزیر“یعنی سور کے گوشت کے حرام ہونے کا ذکر آیاہے ،یہ جوتے،جیکٹ جوکہ کھال سے بنتے ہیں،یہ کیسے حرام ہوئے؟میرے بزرگ دوست کا استدلال بھی بجا تھاکہ سورکے چمڑے کی جیکٹ پہن کر آپ نماز تو نہیں پڑھ سکتے نا؟بلاشبہ تقویٰ یہی ہے ۔نیل پالش کی بابت بھی یہی بات صادق آتی ہے کہ حرام اجزاء سے بنی چیز جسم پر سجا کر نماز پڑھناتوشائدغامدی صاحب کے نزدیک بھی جائز نہیں ہوسکتا ہے۔


بدھ مت کی پیروکارایک خاتون کاحلال نیل پالش ایجاد کرنے کا قصہ دل کو چھو لینے والاہے۔ہینومی گوتوآجکل رضاکارانہ طورپرٹوکیواسپتال میں کینسرکے موذی مرض میں مبتلا خواتین کوسنگھارتی ہیں،ان کے ناخن صاف کرکے ان پر نیل پالش لگاتی ہیں،تاکہ کیموتھراپی کی وجہ سے ناخن بدنمااوربدرنگ دکھائی نہ دیں۔اس کہانی کی ابتداء اس کی والدہ کی کینسر میں مبتلا ہونے اور پھر2010میں وفات پاجانے سے ہوئی۔

اس رحمدل خاتون کااصل امتحان ابھی باقی تھا۔دوسال بعدوہ خودچھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوگئی ۔خداکے فضل سے وہ صحت مند توہوگئی مگر اس مرض نے اس کو بہت سارے سبق سکھائے۔اس نے” کینسرنیل آرٹسٹ“بننے کا فیصلہ کیا۔یہ بات سننے میں عجیب لگتی ہے مگر اس مرض میں مبتلا افراد اوران کے عزیزواقارب اس بات کوسمجھ سکتے ہیں۔جب کینسر کے مریض کی کیموتھراپی ہوتی ہے تووہ بہت پست حوصلہ ہوجاتے ہے،بڑے بڑے حوصلہ مندافراد ایک اسٹیج پرہمت ہاردیتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں ذاتی نگہداشت بہت ضروری ہے۔چونکہ کیموتھراپی کے سائیڈ افیکٹ کے دوران دماغی صحت بھی ایک مسئلہ ہے۔اس لئے مریض خواتین میں زندگی کی امنگ ابھارنے کے کئے گوتوکے بقول ہاتھ کے ناخنوں کی صفائی کرکے ان پر نیل پالش لگادینا،مریض کی دنیا بدل دینے کے مترادف ہوتاہے۔یہ عمل جینے کی آرزوپیداکرنے کا سبب سکتا ہے۔
کینسرکے مریض کیمیکل کے معاملے میں بڑے حساس ہوجاتے ہیں جب ان کی کیموتھراپی ہوتی ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہرنیل پالش میں کیمیکل ہوتے ہیں۔بعض اوقات یہ مریض کو الرجی میں مبتلاکردیتے ہیں،اور دیگراعتبارسے بھی یہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔اسی طرح اس نیل پالش کواتارنابھی بہت بڑامسئلہ ہوتاہے،جوکہ کینسرکے مریضوں کے لئے تکلیف دہ عمل ہے۔اس نوجوان کینسر آرٹسٹ خاتون نے بتایاکہ الکحل کے بغیروارنش ڈھونڈناآسان کام نہ تھا۔اس کی یہ جستجواور تلاش اسے حلال نیل پالش کی دریافت تک لے آئی۔

دستیاب حلال نیل پالش کینسر کے مریضوں کے لئے بہتر تھی مگر یہ جلد ہی اتر جاتی تھی۔حلال نیل پالش کو دیر پابنانے کے لئے ٹوکیواسپتال میں ہی اس جاپانی خاتون کو وہ وارنش مل گیا۔جس سے دیرپااثررکھنی والی یہ نئی حلال نیل پالش ایجادہوئی۔اس کا محرک گرچہ مریض خواتین کی ذہنی صحت کو بہتربناناتھا۔مگرگوتوکااپنا بیوٹی پارلربھی خوب چل گیا ہے اورمسلمان خواتین اس کی گاہک ہیں۔اس کی ایجاد کردہ حلال نیل پالش اب پوری دنیا میں فروخت ہورہی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-15

Your Thoughts and Comments

Special Nail Care Tips For Health & Strong Nails article for women, read "Halal Nail Polish" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.