بند کریں
خواتین مضامینقرونِ اولیٰبی بی شعوانہ رحمتہ اللہ علیہا

مزید قرونِ اولیٰ

-
بی بی شعوانہ رحمتہ اللہ علیہا
دوسری صدی ہجری میں نہایت پاکباز اور خدا رسیدہ خاتون گزری ہیں۔ ایران کی رہنے والی تھیں۔

دوسری صدی ہجری میں نہایت پاکباز اور خدا رسیدہ خاتون گزری ہیں۔ ایران کی رہنے والی تھیں۔ ان کا مستقل قیام شہر ”ابلہ“ میں تھا۔ نہایت عابدہ اور زاہد تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے خوش الحافی کی نعمت بدرجہ وافر عطا کی تھی۔ قرآن حکیم کی تلاوت ایسی پُر سوز آواز میں کرتی تھیں کہ سننے والو ں پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔ ان کے مواعظ وخطبات بھی نہایت موثر ہوتے تھے اور ان کی مجالس وعظ میں بڑے بڑے زہاد اور عباد حاضر ہوا کرتے تھے۔
آپ نہایت رقیق القلب تھیں اور یادِ خدا میں اکثر رویا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ لوگوں نے کہا۔”آپ اس قدر رویانہ کریں، مباد آنکھوں کو نقصان پہنچ جائے۔“
فرمایا:”دنیا میں رو رو کر اندھا ہو جانا اس سے بہترہے کہ دوزخ کا عذاب اندھا کر دے۔“
پھر دفرمایا:”جو آنکھوں اپنے محبوب کے دیدار سے محروم ہے اور پھر اس کے دیدار کی مشتاق بھی ہے بغیر گریہ وزاری کے اچھی نہیں ہوتی۔“
ایک اور روایت میں ہے کہ لوگ انہیں رونے سے منع کرتے تو کہتیں:”کاش خوفِ خدا سے روتے روتے میں اندھی ہو جاوٴں، اتنا رووٴں کہ آنسو خشک ہو جائیں پھر خون رووٴں یہاں تک کہ میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ تک نہ رہے۔“

(9) ووٹ وصول ہوئے