بند کریں
خواتین مضامینقرونِ اولیٰحضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا

مزید قرونِ اولیٰ

پچھلے مضامین -
حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت خنساء رضی اللہ عنہا عرب کی مشہور شاعرہ تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنی قوم کے ساتھ خود مدینہ حاضر ہوئیں اور

حضرت خنساء رضی اللہ عنہا عرب کی مشہور شاعرہ تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنی قوم کے ساتھ خود مدینہ حاضر ہوئیں اور اسلام قبول کیا اور بقیہ عمر اسلام کی خدمت کرتے ہوئے گزاری۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کی سرحدیں روم اور ایران کی سرحدوں سے ملتی تھیں۔ سلسلہ سرحدی جھڑپوں سے شروع ہوا اور ایران روم کی سلطنتوں کے خاتمہ پر ختم ہوا۔ فتح ایران کی سب سے مشہور جنگ قادسیہ ہے۔ یہ جنگ فیصلہ کن ثابت ہوئی اور ایران کی سلطنت کی کمر ٹوٹ گئی۔ قادسیہ کی جنگ کا ہی واقعہ ہے کہ حضرت خنساء اس جنگ میں بڑھاپے کے باوجود اپنے چار بیٹوں کے ساتھ شامل تھیں۔ انہوں نے جنگ شروع ہونے سے پہلے اپنے چاروں بیٹوں کو جمع کیا اور ان کی نصیحت کی اور فرمایا: ” میرے بیٹو ! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے اور اپنی مرضی سے ہی ہجرت کی ہے ۔ ان کاموں کے لئے تم کو کسی نے مجبور نہیں کیا ہے۔ خدا کی قسم، جس طرح ایک ماں کے پیٹ سے پیداہوئے ہو اسی طرح تم ایک باپ کی اولاد ہو۔ میں نے نہ تو تمہارے باپ کی خیانت کی اور نہ تمہارے مامووٴں کو بدنام کیا ہے اور نہ تمہاری شرافت کو بٹہ لگایا اور نہ تمہارے نسب کو خراب کیا ہے ۔تم کو معلوم ہے کہ اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب اور درجہ کیا ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ آخرت باقی رہنے والی ہے اور دنیا فنا ہونے والی ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو ! تکلیفوں میں صبر کرو اور کفار کے مقابلے میں جمے رہو اور تیار رہو کہ تم فلاح پاجاوٴ۔ کل صبح جب صحیح سالم اٹھو اور لڑائی کی جلتی ہوئی آگ دیکھو تو اس آگ میں کود جاوٴ اور کافروں کا خوب مقابلہ کرو ۔ خدا نے چاہا توا جنت میں عزت و اکرام کے ساتھ داخل ہو گئے۔“
حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے بچوں میں جوش و بہادری کے جذبات پیدا ہوئے ۔ اگلے روز جنگ شروع ہوئی تو ہو چاروں یکے بعد دیگر جنگی اشعار پڑھتے میدانِ جنگ میں کود گئے اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ ان کی والدہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کو ان کی شہادت کی خبر ملی انہوں نے غم منانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کی بہادری اور جذبہ ملی و مذہبی بے مثال ہے اور آپ عالم اسلام کی عظیم ترین خواتین میں شامل ہیں۔

(5) ووٹ وصول ہوئے