بند کریں
خواتین مضامینقرونِ اولیٰحضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا

مزید قرونِ اولیٰ

-
حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا
”اے میرے مالک اگر میں دوزخ کے ڈر سے تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے دوذخ میں پھینک دے۔

”اے میرے مالک اگر میں دوزخ کے ڈر سے تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے دوذخ میں پھینک دے۔ اگر میں جنت کی خاطر تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے جنت سے محروم کر دے لیکن اگر میں صرف تیر ی ہی خاطر تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھ کو تو اپنے دیدارسے محروم نہ کرے۔“
مندرجہ بالا بیان کردہ دعا سے آپ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کی اپنے رب سے محبت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔عالم اسلام کی اس نامور خاتون کو اپنے اور اپنے خالق کے درمیان کسی قسم کے لالچ یا خوف کی موجودگی گوارانہ تھی۔ اس سے آپ ان کی عظمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کا شمار دوسری صدی ہجری کی شہرہ آفاق عارفات میں ہوتا ہے۔ آپ دو روایات کے مطابق 95 ہجری یا 99 ہجری میں عراق کے شہر بصرہ کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد کا نام اسماعیل تھا۔ آپ اپنے والد کی چوتھی بیٹی تھیں۔ اسی لئے ان کا نام رابعہ مشہور ہو گیا۔ ابھی وہ لم سنی میں تھیں کہ کسی بردہ فروش نے ان کو اغوا کرکے غلامو ں کی منڈی میں فروخت کر دیا۔ غلامی کی حالت میں ہی آپ پلی بڑھیں۔ اپنے مالک کے گھر کام کرنے کے بعد باقی وقت میں وہ اپنے اللہ کی عبادت کرتیں۔ ان کے مالک نے ان کے عبادت و ریاضت میں شغف دیکھ کر ان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر یا۔
غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے بعد آپ نے صحرا میں قیام کیا اور اپنی عبادت کا سلسلہ جاری رکھا۔یہیں پر آپ نے معرفت کی وہ منزلیں طے کیں کہ جن کے بعد ان کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے صحرا میں کافی عرصہ تک رہائش رکھی اور پھر اس کے بعد آپ بصرہ آگئیں۔
تاریخ میں اگرچہ ان کے علم وفضل کے بارے میں بے شمار روایات ہیں۔ مختلف مورخین اور دیگر افراد نے ان کے حالات زندگی تفصیل سے تحریر کئے ہیں لیکن ان میں تضادات ہیں۔بہر حال یہ بات تاریخ سے معلوم نہیں ہوتی کہ ان کی تعلیم و تریبت کہاں ہوئی ؟ کیا ان کو دورِ غلامی میں تعلیم کے مواقع ملے تھے یا انہوں نے صحرا میں قیام کے دوران علم وفضل سے فیض حاصل کیا ؟ ان کا استاد کون تھا؟ انہوں نے پردہ بڑھاپے میںآ کر ترک کیا یا وہ جوانی میں ہی پردہ میں رہ کر مردوں کے سے کام کیا کرتی تھیں؟
آپ نے صحرا سے بصرہ آنے کے بعد تمام عمر وہیں گزاری۔ بصرہ میں بھی آپ نے اپنی عبادت و ریاضت نہ چھوڑی اور جلد ہی ان کے علم وفضل کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ اس وقت بصرہ میں اس دور کے ہر لحاظ سے بڑے عالم قیام کرتے ہیں ۔ بصرہ ایک تجارتی بندرگاہ بھی تھااور صوبائی دارالحکومت بھی ۔ اس لئے یہاں پر معززین قیام کرتے تھے۔ بہرحال جب ان کے زہد وتقویٰ اور علم و فضل کی دھوم مچی تو ان سے فیض اٹھانے کے لئے لوگ جوق درجوق ان کے پاس حاضری دینے لگے۔ ان کے پاس آنے والے افراد میں عام افراد سے لے کر بڑے بڑے نامور عالم بھی تھے جس میں امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت شفیق بلخی رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل تھے۔
کچھ افراد کاکہنا ہے کہ آپ کے پاس خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ بھی تشریف لایا کرتے تھے لیکن حضرت خواجہ بصری رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کہ وقت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کی عمر صرف گیارہ سال تھی۔
حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کے حوالے سے بے شمار روایات موجود ہیں۔آپ سید امیر علی کے مطابق 135 ہجری میں خالق حقیقی سے جاملیں۔ آپ جبل الطہر جو کہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع ہے ، وہاں دفن ہوئیں۔ دوسری طرف ایک اور روایت کے مطابق 185 ہجری میں فوت ہوئیں اور بصرہ میں دفن ہوئیں۔

(16) ووٹ وصول ہوئے