بند کریں
خواتین مضامینقرونِ اولیٰحضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا

مزید قرونِ اولیٰ

پچھلے مضامین -
حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت عمار رضی اللہ عنہ بن یا سر کی والدہ اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ یہ اور ان کا خاندان اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہے

حضرت عمار رضی اللہ عنہ بن یا سر کی والدہ اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ یہ اور ان کا خاندان اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہے جن کا مرتبہ نہایت بلند ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبر ہے۔ کافروں نے آپ رضی اللہ عنہا کے خاندان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے شوہر اور آپ کو اسلام ترک کرنے کے لئے کہا جاتا، ایسا نہ کرنے پر ان کو طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں۔ان کو مکہ میں جلتی اور تپتی ریت پر لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا۔ آپ رضی اللہ عنہا کا خاندان خاندانِ مغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار تھا۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے پرستاروں کو اس حال میں دیکھتے تو ان کو صبر کی تلقین فرماتے اور کہتے کہ اس کے عوض تمہارے لئے جنت ہے۔ تکالیف کے دن اسی طرح چلتے رہے، راتوں کو بھی کافر اذیت دینے سے نہ چوکتے ۔ ایک دن ابو جہل نے ظلم وستم کی انتہا کر دی اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا ار ان کے شوہر حضرت یاسر رضی اللہ عنہ کو بے رحمی سے شہید کر دیا ۔ ابوجہل نے ان کو نیزہ مار کر شہید کیا۔آپ رضی اللہ عنہا اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں۔
حضرت عمار رضی اللہ عنہ بن یاسر کو اپنی والدہ کی شہادت کا بہت رنج ہوا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عماررضی اللہ عنہ کو صبر کی تلقین فرمائی اور دعا کی کہ اے اللہ ! آلِ یاسر کو روزخ کی آگ سے بچا۔
غزوہ بدر میں ابو جہل ہلاک ہوا تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔”دیکھو تمہاری ماں کے قاتل کا خدا نے فیصلہ کر دیا۔“
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اولین مسلمانوں میں تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے بے شمار تکالیف برداشت کیں لیکن اپنا مذہب نہ چھوڑا۔ آپ رضی اللہ عنہا کو اپنے مذہب کی حقانیت پر کامل یقین تھا۔ اسلام ایسی ہی قربانیوں سے پھلا پھولا ۔

(4) ووٹ وصول ہوئے