بند کریں
خواتین مضامینقیادت و سیادتکیتھرین اعظم

مزید قیادت و سیادت

- مزید مضامین
کیتھرین اعظم
روس کی ملکہ کیتھرین ان معدودے چند حکمرانوں میں سے ایک ہے جن کے نام کے ساتھ دی گریٹ یعنی اعظم کا لاحقہ لگایاجاتا ہے
روس کی ملکہ کیتھرین ان معدودے چند حکمرانوں میں سے ایک ہے جن کے نام کے ساتھ دی گریٹ یعنی اعظم کا لاحقہ لگایاجاتا ہے۔ مردوں میں بھی یہ اعزاز کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے اور خواتین میں تو شاید کیتھرین کے علاوہ اس کی مستحق اور کوئی نہ نکلے۔ اس کے دور میں روس کی سرحدیں بحیرہٴ اسود سے لے کر یورپ کے مغرب تک پھیل گئیں اور روس کی وہ عظیم الشان سلطنت وجود میں آئی جس کے نشانات بیسویں صدی تک قائم رہے۔
کیتھرین کا اصلی نام صوفی فریڈرک آگسٹ وان انالٹ زربٹ تھا۔ وہ 1729 میں پولینڈ میں پیدا ہوئی۔ 1744 میں وہ روس چلی آئی اور 1745 میں اس کی شادی پٹیردی گریٹ کے پوتے اور روس کے پایہ تخت کے وارث گرانڈ ڈیوک پٹیر آف ہولسٹین سے ہوگئی۔ 1762 میں پٹیرروس کے تخت پر بیٹھا لیکن یہ کاروبارِ حکومت اسے صرف چند ماہ تک چلانا نصیب ہو سکا۔ اپنے قابل نفرت اطوار اور عاقبت نااندیشانہ اقدامات سے اس نے جلد ہی دربار، چرچ اور فوج کے اہم عناصر کو اپنا دشمن بنالیا اور کیتھرین سے جان چھڑانے کے اشارے بھی دینے لگا۔ چنانچہ جولائی 1762 میں کیتھرین نے اپنے چند وفادار ساتھیوں کی مدد سے اس کا تختہ الٹ دیا اور اس کی جگہ خود سنبھال لی۔ چند روز بعد پٹیر قتل کر دیا گیا۔ گرچہ قتل کا شبہ کیتھرین پر کیا گیا لیکن درحقیقت اس واقعے میں اس کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔
بہر حال، کیتھرین کی حکومت مستحکم ہوگئی اور آئندہ 34 برس تک کے لیے روس کا تخت اس کے زیر تصرف آگیا۔
کیتھرین کا دورِ حکومت اس کی بھر پور اور وسیع خارجہ حکمت عملی کی بدولت روس کی تاریخ میں یادگار گنا جاتا ہے۔ اس نے عثمانی ترکوں کے ساتھ دو بڑی جنگیں لڑ کر روس کی سطنت کو بحیرہٴ اسود کے ساحلوں تک پہنچا دیا اور پروشیہ اور آسٹریا کی حکومتوں کے ساتھ مختلف معاہدے کر کے پولینڈ کو تین حصوں میں بانٹ لیا۔اس کے بعد پولینڈ کا ملک دنیا کے نقشے سے غائب ہو گیا اور روسی سلطنت وسطی یورپ تک پھیل گئی ۔ روس میں مغربی طرزِ زندگی کو رواج دینے کا جو کام پٹیردی گریٹ کے عہد حکومت میں شروع ہوا تھا۔ کیتھرین نے اسے عروج پر پہنچادیا اور نہ صرف معاشرت بلکہ دیگر حوالوں سے بھی روس کو مغربی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
1774-43 میں غلاموں، مزدوروں اور نچلے طبقے کے افراد کے ایک گروہ نے کیتھرین کے خلاف بغاوت کر دی۔ ان کی بغاوت کا مقصد کیتھرین کو ہٹا کر اس کی جگہ اپنے سربراہ ایمالیان پگا شیو کو تخت پر بٹھانا تھا ایک وقت تک اگرچہ باغیوں کے بہت سی کامیابیاں حاصل کی اور ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا لیکن جب کیتھرین کی تربیت یافتہ باقاعدہ افواج سے پالا پڑا تو ان کے قدم اکھڑ گئے اور زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ بغاوت فرو ہو گئی۔ یمالیان کو اس کے اپنے ساتھیوں نے پکڑ کر حکومت کے حوالے کر دیا جسے ماسکولا کر مختصر سی عدالتی کاروائی کے بعد سزائے موت دے دی گئی۔
کیتھرین کے دورمیں روس نے تعلیمی اور ثقافتی حوالے سے نمایاں ترقی کی۔ روس کو تہذیب وتمدن سے آشنا کرنا کیتھرین نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔ اس نے روس میں نئے تعلیمی نظام کا آغاز کیا اور کئی بڑے تعلیمی ادارے قائم کئے۔ کیتھرین نے طبی سہولتوں کو بہتر س بہتر بنانے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور ملک میں ہسپتالوں اور طبی اداروں کا ایک جال بچھا دیا۔ اس کے کئے ہوئے اقدامات کے تحت روس اپنے طور پر نہ صرف ادویات بلکہ سرجری کے آلات بھی تیار کرنے میں خود کفیل ہو گیا۔
1796 میں فالج کے اچانک حملے نے ملکہ کیتھرین کی زندگی کی ڈور منقطع کر دی۔کہا جاتا ہے کہ اگر موت اسے اچانک اپنی گرفت میں نہ لے لیتی تو اس سے پہلے کہ نپولین روس پر حملہ کرتا وہ فرانس پر حملہ کر دیتی کیونکہ کچھ ہی عرصہ قبل فرانس انقلاب سے آشنا ہوا تھا اور کیتھرین انقلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والی حکومت کو اپنے لئے خطرہ تصور کر رہی تھی۔ اگر ایسا ہو جاتا تو شاید دنیا کی تایخ بہت مختلف ہوتی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے