بند کریں
خواتین مضامینقیادت و سیادتچاند بی بی

مزید قیادت و سیادت

پچھلے مضامین -
چاند بی بی
عزم وہمت ، ذہانت و استقلال کا پیکر چاند بی بی جس نے اپنی بہادری اور ثابت قدمی سے مغل فوج کوناکوں چنے چبوادئیے، حسین نظام شاہ والی احمد نگر( دکن) کی بیٹی تھی
عزم وہمت ، ذہانت و استقلال کا پیکر چاند بی بی جس نے اپنی بہادری اور ثابت قدمی سے مغل فوج کوناکوں چنے چبوادئیے، حسین نظام شاہ والی احمد نگر( دکن) کی بیٹی تھی۔اس کی ماں کا نام خونزہ ہمایوں تھا ۔ والدین نے اس کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی اور نہایت لائق فائق استادوں کو اس کی تعلیم پر مامور کیا۔ یہی وجہ تھی کہ چند ہی سال میں شہزادی جملہ علوم و فنون میں ماہر ہو گئی۔
بادشاہ حسین نظام چاند بی بی سے بے حد محبت کرتا تھا۔چنانچہ اس نے خود بھی چاند بی بی کو سپہ گری وشہسواری ، شمشیر زنی اور نیزہ بازی کی تعلیم دی اور ملکی نظم ونسق سے متعلق امو ر سے آشنا کیا۔ جب وہ جوان ہوئی تو اس کے اوصافِ حمیدہ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ بیجاپور کے حکمران علی عادل شاہ نے جب اس کے علم و دانش اور لیاقت کا حال سنا تو اس نے چاند بی بی سے شادی کے لئے پیغام بھیجا جسے منظور کر لیا گیا اور چاند بی بی کی شادی علی عادل شاہ سے ہوگئی۔
بیجاپور پہنچ کر چاند بی بی نے اپنی سلیقہ شعاری اور حسن لیاقت سے سسرال والوں کے دل مٹھی میں لے لیے۔ ساتھ ہی اپنی رعایا اور زیر دستوں سے ایسا اچھا برتاوٴ کیا کہ سب اس کے گن گانے لگے۔ ایک دفعہ علی عادل کو خبر ملی کہ دربار سے کچھ امیر اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور کی جان لینے کے درپے ہیں۔ اس نے ان امیروں کے نام جاننے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اب وہ ہر وقت اپنی جان کے خوف میں مبتلا رہنے لگا۔ چاند بی بی نے اپنے شوہر کی بدلی ہوئی حالت دیکھی تو اس نے بادشاہ سے اس کا سبب دریافت کیا۔ جب اس نے بتایا کہ مجھے قتل کرنے کی سازش ہو رہی ہے تو بہادر چاند بی بی نے شوہر کو تسلی دی اور کہا کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ آج سے رات کو میں آپ کی حفاظت کروں گی ۔ آپ اطمینان سے سویا کیجئے۔
شوہر کی حفاظت کے خیال سے چاند بی بی بذاتِ خود شاہی خواب گاہ کی نگہبانی کرنے لگی۔ ایک رات اچانک بالا خانے پر کسی کے کودنے کی آواز آئی۔ پہریداروں یا شوہر کو جگانے کے بجائے چاند بی بی خود تلوار سونت کر تن تنہا بالا خانے پر چڑھ گئی۔ وہاں دونقاب پوش ہاتھوں میں برہنہ تلواریں لئے موجود تھے۔ دونوں چاند بی بی پر جھپٹے مگر وہ پھرتی سے پیچھے ہٹی اور پینترا بدل کر تلوار کا ایسا بھر پور ہاتھ مارا کہ ایک وہیں ڈھیر ہوگیا۔ دوسرا آگے بڑھا تو اس کا بھی وہی حشر ہوا۔ شور سن کر علی عادل شاہ جاگ اٹھا اور بھاگتا ہوا اوپر آیا۔ اس نے یہ منظر دیکھا تو اپنی بہاد ر ملکہ کی تلوار چوم لی اور بولا۔” چاند بیگم اگر تمام دنیا بھی میری دشمن ہو جائے تو تیرے ہوتے ہوئے مجھے کوئی ڈر نہیں۔“
987ھ/ 1580 میں علی عادل شاہ کی وفات کے بعد اس کا نابالغ بھتیجا ابراہیم عادل شاہ اس کا جانشین ہوا اور ملکہ چاند بی بی شوہر کی وصیت کے مطابق اس کی سر پرست مقرر ہوئی۔کئی سال تک وہ یہ فرض بحسن وخوبی انجام دیتی رہی لیکن کچھ وزیروں اور امیروں نے اس کے خلاف شازشیں شروع کر دیں۔ تنگ آکر چاند بی بی احمد نگر چلی گئی۔ اس کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد سازشی وزیروں میں پھوٹ پڑگئی۔ ابراہیم عادل شاہ نے اب کی بے اتفاقی سے فائدہ اٹھا کر ایک ایک کر کے سب ختم کر دیا اور چاند بی بی کو واپس بیجاپور بلا لیا۔ وہ بیجا پور آتو گئی لیکن اب وہ سیاسی جھمیلوں سے دور رہنا چاہتی تھی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
چاند بی بی کے والد حسین نظام شاہ نے 972ھ / 1565 میں وفات پائی تو مرتضیٰ نظام شاہ اپنی ماں خونزہ ہمایوں کی سرپرستی میں باپ کی جگہ مسند حکومت پر بیٹھا۔ چھ سال تو ماں حکومت سنبھالتی رہی لیکن اس کے بعد وزیروں نے اقتدار اس سے چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔مرتضیٰ نظام شاہ محض نام کا بادشاہ تھا اور دیوانہ کہلاتا تھا۔996ھ/ 1588 میں اس کی وفات کے بعد میراں حسین اسماعیل اور برہان شاہ یکے بعد دیگرے تخت پر بیٹھے۔ موٴخر الذ کرنے 999ھ/ 1594 تک حکومت کی۔ اس کے عہد حکومت میں اکبر بادشاہ نے شہزادہ مراد اور خانِ خاناں کو تسخیر دکن کے لئے روانہ کیا۔ برہان شاہ نے ان کو اپنی ملکیت کے ایک صوبے برار کی پیشکش کر دی لیکن ابھی یہ معاملہ طے نہیں ہوا تھا کہ برہان شاہ فوت ہو گیا۔1003ھ/ 1594 میں اس کی جگہ ابراہیم شاہ تخت نشین ہوا۔ وہ جلد ہی باغی امراء کے ہاتھوں مارا گیا۔ اب منجھو خان وکیل سلطنت آہنگ خان اور اخلاص خان تین سربرآوردہ امراء میں تخت نشینی کیلئے کشمکش شروع ہو گئی اور ملک کی حال بد سے بد تر ہوتی چلی گئی۔ چاند بی بی کو اس صورتِ حال کا علم ہوا تو وہ احمد نگر آگئی۔ اسی اثناء میں مراد اور خانِ خاناں بلغار کرتے ہوئے احمد نگر کے قریب آگئے۔ چاند بی بی نے تہیہ کر لیا کہ وہ ہر صورت اپنی آبائی حکومت کو بچائے گی۔
چاند بی بی نے سب سے پہلے تو مخالف امراء کو قلعے سے باہر نکالا اور باقی کو حسن تدبیر سے اپنے ساتھ ملالیا۔ پھر اس نے محمد قلی قطب شاہ اور ابراہیم عادل شاہ سے مدد طلب کی اور قلعے کے حفاظتی انتظامات کو مستحکم کرکے شہزادہ مراد کو خط لکھے۔
”اگر آپ دوست کی حیثیت سے احمد نگر آنا چاہتے ہیں تو بڑی خوشی سے تشریف لائیں۔ آپ ہمیں بے حدمہمان نواز پائیں گئے لیکن اگر آپ کا ارادہ احمد نگر پر بزورِ شمشیر قبضہ کرنے کا ہے تو سمجھ لیجئے کہ احمد نگر کا بچہ بچہ اپنے وطن پر قربان ہو جائے گا اور اپنے جیتے جی کسی کو اپنی سر زمین پر قدم نہیں رکھنے دے گا۔“
شہزادہ مراد نے اس تنبیہ کی کچھ پروانہ کی اور 23 ربیع الثانی 1004ھ/ 1595 کو اپنے لشکر کے ساتھ قلعہ احمد نگر کی طرف بڑھا۔ چاند بی بی نے اپنی فوج کے ساتھ ذاتی نگرانی میں مغل افواج پر اپنی توپوں سے ایسی شدید گولہ باری کی کہ حملہ آور ایک قدم آگے نہ بڑھ سکے۔ دوسرے دن مراد نے خانِ خاناں اور دوسرے سردارانِ فوج سے مشورہ کرنے کے بعد چاروں طرف سے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ اس دوران مغل فوج نے کئی بار بڑے جوش وخروش سے حملے کئے لیکن ہر بار منہ کی کھائی۔ چاندبی بی کی درخواست پر ابراہیم عادل شاہ نے پچیس ہزار سوار اور قطب شاہ سے پانچ ہزار سوار اور کچھ پیادے چاند بی بی کی مدد کے لئے روانہ کئے۔ شہزادہ مراد کو اس لشکر کے روانہ ہونے کی اطلاع ملی تو اس نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ لشکر کے آنے سے پہلے ہر صورت قلعے پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو۔ چنانچہ قلعہ کے برج تک پانچ سرنگیں کھو دی گئیں اور ان میں بارود بھری گئی تاکہ اس میں آگ لگا کر قلعے کو اڑا دیا جائے۔
مگر چاند بی بی بھی غافل نہیں بیٹھی تھی۔ دشمن کی نقل و حرکت پر اس کی کڑی نظر تھی۔ اسے ان بارودی سرنگوں کا علم ہوا تو راتوں رات سرنگوں میں پانی بھروانا شروع کر دیا۔ ابھی دو یا تین سرنگیں بیکار ہوئی تھی کہ شہزادہ مراد نے آگ لگانے کا حکم دے دیا۔ اس زور کا دھماکہ ہوا کہ کانون کے پردے پھٹ گئے اور قلعے کی دیوار میں پچاس گز چوڑا شگاف پڑگیا۔قلعے میں محصور سپاہ کے ہاتھ پیر پھول گئے لیکن چاندبی بی ذرانہ گھبرائی ۔ وہ ہاتھ میں تلوار لئے گھوڑے پر سوار ہو کر پردہ سر اسے باہر نکل آئی اور اپنی فوج کو حکم دیا کہ زیادہ سے زیادہ توپوں کو شگاف میں کھڑا کر دو۔ فوج نے حکم کے مطابق علم کیا اور پھر مغل فوج پر بے پناہ گولہ باری شروع کردی۔ حملہ آور فوج نے آگے بڑھنے کیسر توڑ کوشش کی اور بار بار قلعے پر خوفناک حملے کئے لیکن چاند بی بی نے اسے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھنے دیا۔ وہ اس ہمت و استقلال سے فوج کو لڑاتی رہی کہ شام تک قلعہ کی خندق حملہ آور سپاہیوں کی لاشوں سے پٹ گئی اور ناچار شہزادہ مراد کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
رات کو چاند بی بی نے اپنی نگرانی میں گری ہوئی دیوار کو دوبارہ بنوادیا بلکہ اس کو پہلے سے تین گز بلند کر دیا اور صبح شہزاد مراد نے دیکھا تو پہلے سے بھی بلند دیوار اس کی راہ میں حائل تھی۔
کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پرجب چاند بی بی کو فوج کے پاس سیسہ کی گولیاں ختم ہوگئیں تو چاند بی بی نے فوراََ تانبے کی گولیاں ڈھالنے کی حکم دیا۔ جب وہ بھی ختم ہو گئیں تو سونے چاندی کی گولیاں تیار کر لیں اور اس مقصد کے لیے شاہی حرم سرا کے طلائی ونقرائی برتین، زیورات اور ہزاروں طلائی اور نقرئی روپے فوج کے حوالے کر دئیے لیکن شکست قبول نہ کی۔
اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہزادہ مراد نے صلح کے لئے ہاتھ بڑھا دیا۔ چونکہ قلعے کے لوگ بھی اتنے عرصے کی محصوری سے گھبرا گئے تھے۔ چنانچہ صلح کی درخواست قبول کر لی گئی اور چاند بی بی نے حسب معاہدہ برار کا صوبہ شہزادہ کے حوالے کر دیا۔
شہزادہ مراد کی واپسی کے بعد چار سال تک احمد نگر کے لوگ امن وچین سے رہے لیکن پھر امراء میں خود غرضی اور نااتفاقی نے سرابھارا۔ اکبر اسی موقع کی تلاش میں تھا۔ اس نے 1008ھ/ 1599 میں شہزادہ دانیال کی سرکردگی میں ایک جرار لشکر احمد نگر کی تسخیر کے لئے بھیج دیا۔ اب کے بادشاہی فوج کا پلہ بھاری تھا کیونکہ احمد نگر کی طاقت کو خانہ جنگیوں نے کمزور کر دیا تھا تاہم چاند بی بی اپنے جاں نثاروں کو لے کر مقابلہ کے لئے کمر بستہ ہوگئی۔ اس نازک گھڑی میں چیتہ کان خواجہ سرا اور بعض دیگر امراء نے غداری کی اوریہ کہہ کر فوج کو ملکہ کے خلاف کر دیا کہ وہ تم سے دغا کر کے قلعہ کو دشمنوں کے حوالے کرنا چاہتی ہے چنانچہ مشتعل سپاہی ان غدار امراء کے ساتھ چاند بی بی کے کمرے میں گھس گئے اور اس کو قتل کر ڈالا۔ اس بہادر خاتون کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے