بند کریں
خواتین مضامینقیادت و سیادتقلو پطرہ

مزید قیادت و سیادت

- مزید مضامین
قلو پطرہ
مصر کی سحر انگیز تاریخ قلو پطرہ کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے ۔قلو پطرہ کو حسن کی دیوی، بے وفائی کی علامت اور زہریلی ناگن جیسے القابات دئیے جاتے رہے ہیں
مصر کی سحر انگیز تاریخ قلو پطرہ کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے ۔قلو پطرہ کو حسن کی دیوی، بے وفائی کی علامت اور زہریلی ناگن جیسے القابات دئیے جاتے رہے ہیں لیکن جدید تحقیق نے ان میں اسے اکثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ لوگ روایات کو تاریخ میں خلط ملط کرتے رہے ہیں جس کی بناء پر کئی طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ اس کے متعلق مشہور تمام باتوں میں صرف ایک بات صحیح ہے۔ وہ یہ کہ نہایت حسین تھی۔
قلوپطرہ مصر پر حکمرانی کرنے والے 33ویں خاندان کی آخری فرمانروا تھی۔ اس کا جد امجد سکندرِ اعظم کا جرنیل ٹولیمی تھا۔ اس نے سکندرِ اعظم کے مرنے پر خود مختاری کا اعلان کر کے مصر پر اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ ان خاندان نے مصر پر تین سو سال حکومت کی۔
51 قبل مسیح میں جب قلوپطرہ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس وقت سترہ سال کی تھی۔ مصر کے رسوم و روج کے مطابق خاندان کی بڑی لڑکی تخت کی وارث بن سکتی تھی لیکن رواج کے مطابق اسے اپنے چھوٹے بھائی سے شادی کرنا پڑتی چنانچہ قلوپطرہ کے اپنے بارہ سالہ بھائی ٹولیمی دوازدہم سے شادی کرنا پڑی اور دونوں مل کر مصر کے تخت نشین ہوئے۔
حکومت کے تیسرے سال دیگر امرائے سلطنت کے بھڑکانے پر ٹولیمی نے حکومت کا کلی اختیار اپنے ہاتھ میں لے کر قلوپطرہ کو جلاوطن کر دیا۔ اس دوران روم کا مشہور سپہ سالار جولیس سیزر اپنے حریف کے تعاقب میں سکندر یہ تک آپہنچا تھا اور سکندریہ کے شاہی محل میں قلو پطرہ کا بھائی اس کی چاپلوسیاں کر رہا تھا۔
قلوپطرہ نے شام جا کر اپنی سلطنت کی واپسی کے لیے فوج اکٹھی کی لیکن وہ جانتی تھی کہ جب تک اس کی پشت پر کسی بڑی طاقت کاہاتھ نہ ہو، وہ مصر کی حکومت واپس حاصل نہیں کر سکتی۔اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے اس دور کی سب سے بڑی جنگی قوت روم کے شہنشاہ جولیس سیزر سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
قلوپطرہ کوکسی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ جولیس سیزر حسن کا دلدادہ ہے۔ قلو پطرہ خود نہایت حسین تھی۔ اس نے ایک جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اس جوئے میں اگر قلو پطرہ ہار جاتی تو اپنی جان سے جاتی اور اگروہ اس جوئے میں جیت جاتی تو مصر کا تخت وتاج اس کا ہوتا۔
اس نے ایک ترکیب نکالی۔ اس نے اپنے آپ کو ایک قالین میں لیپٹا اور وہ قالین اپنے خاص آدمی کے ذریعے جولیس تک پہنچا دیا۔ ایسا عین ممکن تھا کہ جو لیس سیزر اس کو پکڑ کر اس کے بھائی کے سپرد کر دیتا اوروہ اس کو قتل کر دیتا لیکن قلوپطرہ کو اپنے حسن اور جولیس سیزر کی حسن پرستی پر اتنا اعتماد تھا کہ اس نے اپنا یہ آخری پتہ کھیلنے کافیصلہ کر لیا۔
جولیس سیزر کے سامنے قالین کھولا گیاتو اس میں قلوپطرہ برآمد ہوئی ۔قلوپطرہ کی توقع کے عین مطابق جولیس سیزر اس کی زلف کا سیر ہو گیا او اس نے قلو پطرہ کے بھائی کے مقابلے میں قلوپطرہ کی حمایت کا اعلان کردیا۔ جولیس سیزر مصر میں اپنے حریف پومپائے کے تعاقب میں آیا تھا۔ اسے ختم کر کے اب وہ روم کا طاقتور ترین شخص بن چکا تھا۔ اسے فوری طور پر روم پہنچ کر وہاں کے معاملات سنبھالنے چاہئیں تھے لیکن اس نے اپنے آپ کو قلوپطرہ کی چاہت میں گم کر دیا۔ قلوپطرہ نے موقع پاکر اپنے بھائی کو بھی ٹھکانے لگوا دیا۔ اب اس کے راستے میں کوئی دیوار نہ تھی۔
مصرکی ملکہ بننے کے بعد رواج کے مطابق اس مرتبہ قلو پطرہ کے اپنے گیارہ سالہ بھائی ٹولیمی چہار دہم کے ساتھ شادی کرنا پڑی۔ حکومتی معاملات کو ایک ڈھرے پرلانے کے بعد وہ جولیس سیزر کے پاس روم پہنچی اور اس کے دل کی رانی بن گئی۔ جولیس سیزر سے قلو پطرہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جو آگے چل کر ٹولیمی پانزدہم بنا۔
44قبل مسیح میں چند قریبی رفقاء نے سازش کر کے جولیس سیزر کو قتل کر دیا۔سیزر کے قتل کے بعد قلوپطرہ مصر واپس لوٹ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ مصر واپس پہنچے کے بعد اس نے ٹولیمی چہار دہم کو بھی زہر دلوا کر مار ڈالا۔
جولیس سیرز کی موت کے بعد روم میں خانہ جنگی شروع ہوگئی اور جولیس سیزر کا قریبی دوست مارک انطونی اس میں فریق کی حیثیت سے سامنے آیا۔ قلوپطرہ نے اس جنگ میں کسی ایک فریق کی حمایت کرنے سے احتراز کیا جس پر مارک انطونی نے اسے اپنے پاس طلب کر کے اس کے روئیے کی وضاحت مانگنا چاہی لیکن جب قلوپطرہ اپنے حسن وجمال کی حشر سامانیوں کے ساتھ اس کے سامنے جلوہ گرہ ہوئی تو وہ بھی اس کی محبت میں مبتلا ہو گیا اور اسے لے کر مصر آپہنچا۔
قلوپطرہ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد مارک انطونی کو روم واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا ۔ اس کے جانے کے بعد قلوپطرہ نے اس کے جڑواں کو جنم دیا۔
32 قبل مسیح میں آکٹوین، جو آگے چل کر سیزر آگسٹس بنا، نے مارک انطونی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔قلوپطرہ اس جنگ میں مارک انطونی کے شانہ بشانہ رہی۔ 31 قبل مسیح میں جب مارک انطونی کی شکست صاف نظر آنے لگی جس پر قلوپطرہ نے مارک انطونی کو قائل کر لیا کہ وہ اس کے ساتھ مصر واپس لوٹ چلے لیکن اس سے پہلے کہ اس ارادے کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا، مارک انطونی تک یہ جھوٹی اطلاع پہنچائی گئی کہ قلوپطرہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ دل گرفتا ہو کر انطونی نے خود کشی کر لی۔
آکٹوین روز بروز مصر کے قریب پہنچتا گیا۔ قلوپطرہ کو اطلاع ملی کہ آکٹوین مصر پر قبضہ کر کے اپنی فتح کی یادگار کے طور پر روم کے بازاروں میں اس کی نمائش لگانا چاہتا ہے تو اس نے خود کو سانپ سے ڈسوا کر خود کشی کر لی۔
یوں مصر کی تاریخ کا ایک باب بند ہو گیا۔ قلو پطرہ اپنی ہنگامہ خیز زندگی کی بدولت نہ صرف تاریخ کے صفحات میں زندہ جاوید ہو گئی بلکہ کئی مشہور مصنفین نے اسے اپنی تحلیقات کا حصہ بنایا۔ قلو پطرہ کو موضوع بنانے والی مشہور تصنیفات شیکسپئر کاڈامہ انطونی اینڈ قلوپطرہ، جان ڈرائیڈن کا ڈارمہ آل فارلو اور جارن برنارڈ شا کا ڈرامہ سیزر اینڈ قلو پطرہ شامل ہیں۔

(2) ووٹ وصول ہوئے