بند کریں
خواتین مضامینقیادت و سیادتملکہ الزبتھ اول

مزید قیادت و سیادت

- مزید مضامین
ملکہ الزبتھ اول
برطانوی تاریخ میں ملکہ الزبتھ اول کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کے زیر اقتدار برطانیہ نے خوب ترقی کی۔ برطانیہ پر طویل ترین عرصے تک حکمرانی کرنے والوں میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد ملکہ الزبتھ کا نام آتا ہے
برطانوی تاریخ میں ملکہ الزبتھ اول کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کے زیر اقتدار برطانیہ نے خوب ترقی کی۔ برطانیہ پر طویل ترین عرصے تک حکمرانی کرنے والوں میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد ملکہ الزبتھ کا نام آتا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ برطانیہ کی تاریخ میں وہ کامیابی سے تخت سنبھالنے والی پہلی خاتون تھی۔ اس نے پارلیمنٹ اور پرائیوی کونسل کو بڑے موٴثر انداز میں استعمال کیا اور انگلستان کی کاوٴنٹیز میں مقفنہ کے ادارے قائم کئے۔ برطانوی معیشت کو اس کے دور میں خوب ترقی اور استحکام ملا اور اس نے ہسپانیہ کی طرف سے ہونے والے بڑے حملہ ”سپینش آرمیڈا“ کے خلاف انگلستان کا کامیابی سے دفاع کیا۔ اس کے دور میں انگریزی ادب کی نشاة ثانیہ ہوئی اور ولیم شیکسپئر ، کرسٹو فرمارلو اور ایڈمنڈ سپنسر جیسے بڑے ڈرامہ نگار اور شاعر پیدا ہوئے جن کے کئے ہوئے کام کی انگلش ادب میں آج تک برابری نہیں کی جا سکی۔
الزبتھ کو اپنی زندگی میں بے پناہ مقبولیت حاصل رہی۔ موت کے بعد بھی اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کے وہ ایک اسطور (Legend) کی حیثیت اختیار کر گئی ۔
ملکہ الزبتھ شاہ ہنری ہشتم اور اس کی دوسری بیوی این بولین ک اولاد تھی۔ وہ 7ستمبر 1533 میں پیدا ہوئی۔اس کی پیدائش پر اس کا باپ خوش نہ ہوا۔ کیونکہ وہ اپنے تخت کے وارث کے طور پر ایک بیٹے کا حصول چاہتا تھا۔اسی پاداش میں اس نے اپنی ملکہ پر مختلف الزامات عائد کر کے اسے مروا دیا اور الزبتھ کو دربار سے نکلوادیا۔ اس وقت الزبتھ کی عمر صرف دو سال تھی۔
بعد ازاں ہنری کی چھٹی بیوی کیتھرین پار نے اس کی پرورش کی اور اس کی زیر نگرانی الزبتھ نے تعلیم حاصل کی۔ الزبتھ اعلیٰ درجے کی ذہانت کی حامل تھی۔ اس کا اتالیق اس دور کا مشہور دانشور راجر ایشام تھا اور اس نے الزبتھ کو ایک معمولی بچی سمجھ کر اس کی تربیت کرنے کی بجائے اسے تخت شاہی کا آئندہ حقدار سمجھ کر حکمرانی کے اسرار ورموز سے آگاہ کیا۔ نہ صرف راجر ایشام کا یہ خیال بالکل صحیح نکلا بلکہ بعد ازاں الزبتھ نے طویل عرصہ تک تخت برطانیہ پر راج کر کے اس کی محنت کا حق ادا کر دیا۔
الزبتھ کی عمر چودہ سال تھی جب اس کا باپ ہنری ہشتم مر گیا اور اس کی جگہ نوسالہ ایڈوڈ ششم تخت پر بیٹھا۔ نوعمر بادشاہ کے تخت پر بیٹھتے ہی اس کے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں اور درباری امراء نے الزبتھ کو بھی اس کے خلاف مہرے کے طور پر استعمال کرنے کوشش کی ۔ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے الزبتھ کو شادی کی پیشکش کی تاکہ بعد ازاں اس کی شاہی حیثیت کو تخت تک پہنچنے کا وسیلہ بنا سکیں۔
1553 میں الزبتھ کی سوتیلی بہن میری اول تخت پر بیٹھی۔ الزبتھ کے اس کے تخت نشین ہونے میں بھر پور کردار ادا کیا تھا لیکن تخت پر بیٹھنے کے بعد مذہبی بنیادوں پر میری اس کے خلاف ہو گئی۔ میری رومن کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتی تھی جبکہ الزبتھ کا تعلق پروٹسٹنٹ فرقے سے تھا۔ 1554 میں میری نے اسے ٹاورآف لندن میں قید کر دیا، کچھ عرصہ اسے قتل کروانے کے امکانات پر غور کیا جاتا رہا لیکن آخر کار اسے اس کے گھر میں نظر بند کر نے پر اکتفا کیا گیا۔ الزبتھ چار سال تک خاموشی سے یہ صعوبتیں سہتی رہی اور آخر کار1558 میں میری کی موت کے بعد اسے تخت پر بٹھا دیا گیا۔
اپنے ابتدائی تجربات کے زیر اثر الزبتھ بے پناہ سیاسی فہم وشعور حاصل کر چکی تھی۔ چنانچہ اس نے کچھ ایسی خوبی سے ملکی نظم و نسق چلایا کہ اس کے خلاف کھڑی ہونے والی تمام شورشیں خود بخود دب گئیں اور مفسدین نے خاموشی میں ہی بہتری جانی۔ الزبتھ نے 1558 سے 1603 تک 45 سال بڑی شان و شوکت سے برطانیہ پر حکمرانی کی۔
الزبتھ نے اس دور میں برطانوی عوام کی فلاح وبہبود اور بہتری کے لئے کیا کیا، اگر اس کا مختصر تذکرہ بھی کیا جائے تو بات بہت طویل ہو جائے گئی۔ ان کاموں کا کچھ احوال آپ ابتدائی سطور میں پڑھ چکے ہیں۔ اس کے دور حکومت کا تجزیہ کرتے ہوئے مختصر اََ اتنا کہاجا سکتا ہے کہ اس کی موت پر برطانوی تاریخ کا ایک سنہرا اور اختتام کو پہنچا ۔ اپنے دورِ حکومت میں الزبتھ نے جو جو اقدامات کئے ان کی بدولت برطانیہ کا مستقبل ایک طویل عرصے کے لئے درخشندہ وتابندہ ہو گیا۔ بعد ازاں انہی اقدامات کی بدولت برطانوی اپنی ننھے سے جزیریے سے تاجر بن کر نکلے اور حکمران بن کر پوری دنیا پر چھا گئے۔ الزبتھ نے شاہی دربار اور مقامی سرداروں کے درمیان بہتر تعلقات کو یقینی بنایا۔ پوری ملک میں امن اومان قائم کیا۔ 1588 میں اس نے سپینش آرمیڈا کو شکست دے کر برطانیہ کے تحفظ کو یقینی بنایا اور برطانوی آزاد پر آنچ نہ آنے دی۔
الزبتھ نے 23 مارچ1603 کو 72 سال کی عمر میں وفات پائی۔اس کی سالگرہ کے دن کو آج بھی برطانیہ میں ایک قوامی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے