بند کریں
خواتین مضامینقیادت و سیادتملکہ وکٹوریہ

مزید قیادت و سیادت

- مزید مضامین
ملکہ وکٹوریہ
برطانیہ کی تاریخ میں ملکہ وکٹوریہ سے طویل عہد حکومت کسی اور حکمران کا نہیں ہے۔ ملکہ وکٹوریہ نے تاج برطانیہ اس وقت سر پر سجایا جب انگلینڈ محض ایک مضبوط ریاست تھا لیکن۔۔۔
برطانیہ کی تاریخ میں ملکہ وکٹوریہ سے طویل عہد حکومت کسی اور حکمران کا نہیں ہے۔ ملکہ وکٹوریہ نے تاج برطانیہ اس وقت سر پرسجایا جب انگلینڈ محض ایک مضبوط ریاست تھا لیکن جب ملکہ وکٹوریہ کی وفات ہوئی تو اس وقت انگلینڈ کی سلطنت میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔
ملکہ وکٹوریہ 24 مئی 1819 کو اپنے والد ڈیوک آف کینٹ ایڈورڈ آکسٹس کی شادی کے دو سال بعد پیدا ہوئی ۔ اس کی والدہ کانام وکٹوریہ میری لوئسا تھا۔ اس کانام الیگزینڈرینا وکٹوریہ رکھا گیا۔اس کے والد بادشاہ جارج سوئم کے چوتھے بیٹے تھے۔ ڈیوک آف کینٹ عوامی زندگی کے شور شرابے سے دور کنگسٹن پیلس میں خاموشی کے ساتھ زندگی گزارنا زیادہ پسند کرتے تھے اور سماجی مصروفیات سے انہیں کوئی زیادہ دلچسپی نہ تھی۔
وکٹوریہ اپنی کم عمری میں ہی جان جانے کے خطرے سے دو چار ہوئی لیکن قدرت کو اس کی زندگی منظور تھی اس لئے وہ بچ گئی۔ کسی لڑکے نے پیلس سے کچھ دور شکار کھیلتے ہوئے فائر کیا تو نشانہ خطاہو گیا اور گولی کھڑکی توڑتی ہوئی ننھی وکٹوریہ جو کہ سوئی ہوئی تھی اس کے سر کے قریب سے گزر گئی۔ اس لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا لیکن چونکہ واقعہ حادثتاََ ہوا تھا اس لیے ڈیوک آف کینٹ نے اسے معاف کر دیا۔
وکٹوریہ جب تھوڑی بڑی ہوئی تو اس کی والدہ نے گھر پر ہی اس کی ابتدائی تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا۔ کچھ عرصہ تک یہ فرائض خود سنبھالے رکھے، اس کے بعد گھر کی ایک گورنس کے سپرد کر دیئے۔ گورنس نے شہزادی وکٹوریہ کو سربراہی مملکت کے اسرارورموز سکھائے اور یہ سوچ کر اس کی تربیت کی کہ آگے چل کر اس بچی کو انگلینڈ کا تخت وتاج سنبھالنا ہے۔ وکٹوریہ کو البتہ اس بات سے بے خبر رکھا گیا تاکہ کہیں اس میں احمقانہ قسم کے تفخر کا احساس پیدا نہ ہو جائے۔مناسب ذہنی پختگی حاصل کر لینے کے بعد جب وکٹوریہ کو اس کے متعلق بتایا گیا تو اپنی ذمہ داریوں کے احساس سے نوجوان وکٹوریہ کی آنکھوں میںآ نسو آگئے۔ تاہم اس نے اپنی زندگی کے مبنی برسادگی معمولات جاری رکھے۔ ذمہ داری کے احساس نے اس کے اندر مزید سنجیدگی اور گہرائی پیدا کر دی۔ اس نے کسی قسم کے بے جا فخر و غرور کا مظاہرہ نہ کیا۔
1830 میں جارج چہارم کا انتقال ہو اتو اس کے بھائی ولیم چہارم نے تخت سنبھالا ۔ چونکہ ولیم کی کوئی اولاد نہ تھی اس لئے اس کے بعد وکٹوریہ کی تخت نشینی یقینی تھی۔ ولیم چہارم کا بڑھاپا عروج پر تھا۔ اس نے ولی عہدی کامسئلہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا اور یہ طے پایا کہ اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے پر شہزادی کو لی عہدی کیلئے اہل قرار دے دیا جائے۔ اس عمر تک کے لئے اس کی والدہ کو اس کی نگران مقرر کر دیاگیا۔
24 مئی1837 کو وکٹوریہ کی عمر18 سال ہوئی اور 30جون 1837 کو بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح اٹھارہ سا ل اور26 دن کی عمر میں وکٹوریہ انگلینڈ کی ملکہ بن گئی۔ 27 جون داریوں سے باقاعدہ آگہی حاصل کرتی رہی۔ ملک کی دورپیش مسائل اس کے مسائل اس کے سامنے پیش کئے جاتے رہے اور وہ ان میں دلچسپی لیتی رہی۔
تخت نشین ہونے کے فوراََبعد اسے ایک مخلص ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس مقصد کی خاطر اس نے اپنے کزن پرنس البرٹ کے ساتھ شادی کر نے کا فیصلہ کر لیا۔ البرٹ کا اس سے ننھیالی رشتہ تھا اور چونکہ وکٹوریہ کی والدہ کا تعلق جرمنی سے تھا، اس لئے البرٹ بھی جرمن ہونے کی بناء پر برطانوی شاہی خاندان کا رکن نہ گنا جاتا تھا۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد پرنس البرٹ کو ہزرائل ہائی نیس کا خطاب دے دیا گیا اور 1840 میں وکٹوریہ سے اس کی شادی ہو گئی۔
شادی کے بعد وکٹوریہ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سیر کے لئے باہرنکلی تھی کہ ایڈورڈ آکسفورڈ نامی ایک شخص نے اس پر فائرنگ کردی۔ اس کے فائر کے جواب میں البرٹ نے بھی گولی چلائی لیکن دونوں کے نشانے خطا ہوگئے اور ایڈورڈ آکسفورڈ کو گرفتار کر لیاگیا۔ اس کی ذہنی حالت کو درست قرار نہ دیتے ہوئے اسے پاگل خانے بھجوا دیا گیاجہاں وہ کئی سال تک رہا اور بعد میں آسٹریلیا چلے جانے کے وعدے پر اسے رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھی وکٹوریہ پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔
1849 میں لندن میں دنیا بھر کی صنعتی قوموں کی مصنوعات کی شاندار نمائش ہوئی جس میں ساٹھ ملکوں نے مختلف اوقات پر شرکت کی ۔ نمائش کے کچھ ہی عرصہ بعد کریمیا کی جنگ شروع ہوگئی اور 1854 میں ملکہ وکٹوریہ نے بھی روس کے خلاف اعلانِ جنگ پر رسمی دستخط کر دیئے۔ برطانوی فوجوں نے بڑی تعداد میں اس جنگ میں حصہ لیا۔ یہ جنگ 1853 میں شروع ہوئی تھی۔برطانوی فوجیں1856 میں جنگ کے اختتام تک لڑتی رہیں اور کامیاب ہو کر لوٹیں۔ ان کی فتح میں ملکہ وکٹوریہ کے آہنی عزم اور اپنے سپاہیوں کو مسلسل حوصلہ افزائی کو بھی بڑا دخل تھا۔ اس دور میں ملکہ وکٹوریہ کر اس کااجراء کیا جو آج بھی برطانیہ میں بہادری کا سب سے بڑا تمغہ ہے۔
ابھی ملکہ وکٹوریہ کریمیا سے فارغ ہوئی ہی تھی کہ اسے علم ہواکہ انڈیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف جنگ آزادی شروع ہو گئی ہے۔یہ اس کے لئے ایک او رمسئلہ تھا تاہم یہ مسئلہ بھی ایک سال کے اندر اندر 1857 کی جنگ آزادی کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو گیا۔ ملکہ وکٹوریہ نے برصغیر کی حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی سے اپنے ہاتھ میں لے لی اور وہاں پر وائسرائے کاتقررکر کے اس کے ذریعے حکومت کرنے لگی۔
1861 کا سال ملکہ وکٹوریہ کے لیے غم والم کا پیغام لے کر آیا۔ سال کے اوائل میں اس کی والدہ انتقال کر گئی اور ملکہ وکٹوریہ نے اس کی موت کا گہرا اثر لیا۔ ابھی وہ صدمے میں سے سنبھلی نہ تھی کہ اس کا شوہر بیمار پڑگیا۔اس ک طبیعت گذشتہ سال سے ٹھیک نہ تھی۔وہ بے خوابی کے مرض کا شکار تھا پھر اسے بخار کی شکایت رہنے گلی۔ علاج معالجے کے باوجود یہ بخار کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا گیا اور 14 دسمبر کو پرنس البرٹ کا انتقال ہو گیا۔ ملکہ وکٹوریہ کو اتنا گہرا صدمہ ہوا کہ اس کی صحت تباہ ہو کر رہ گئی اور کا کہنا تھا کہ اب کوئی بھی ایسا فرد باقی نہیں رہا جو اسے یورہائی نس کہنے کے بجائے صرف وکٹوریہ کہہ کر پکار سکے۔
البرٹ اور وکٹوریہ کا ساتھ 21 سال کا تھا۔ اس دوران ان کے ہاں نو بچے پیدا ہوئے۔ دیگر شاہی افراد کے برعکس انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم وتربیت میں ذاتی دلچسپی لی اور انہیں آیاوٴں کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا۔ ان کی باہمی محبت اور اپنائیت گذشتہ ادوار کے برطانوی بادشاہوں اور ملکاوٴں کے لئے ایک تازیانہ تھی جو محبت ویگانگت سے عاری ازدواجی زندگی گزار کر رخصت ہو گئے۔
1887 میں ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے پچاس سال پورے ہوئے تو انگلینڈ میں پورے زور وشور کے ساتھ گولڈن جوبلی منائی گئی۔ پورا لندن نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ بھی ان ہنگاموں سے خوب لطف اندوز ہوئی۔
وکٹوریہ کی زندگی کے آخری چند سال پریشانی کی حالت میں گزرے۔ اس کی پریشانی کا بڑا سبب جنوبی افریقہ میں شروع ہونے والی بوئر جنگ تھی۔ اس جنگ میں اس نے بذریعہ خطوط اور ٹیلی گرام ایک طرف تو اپنے سپاہیوں کو ہمیت بندھائی اور دوسری طرف ان کے گھر والوں کو تسلی کے خطوط لکھے۔ اس کی صحت پہلے سے بہت خستہ ہو چکی تھی اور روز بروز گرتی جا رہی تھی۔آخر 22 جنوری 1901 کو اس کا انتقال ہو گیا۔ برطانوی عوام نے کئی روز تک اپنی ملکہ کی موت کا سوگ منایا اور پوری دنیا سے اس کی وفات پر تعزیتی پیغامات آئے۔
ملکہ وکٹوریہ کو دوسرے بادشاہوں کے ساتھ ویسٹ منسٹر ایبے میں دفن نہ کیا گیا بلکہ اس کے محبوب شوہر کے ساتھ اس کی قبر بنائی گئی۔ اس کی وفات کے وقت انگلینڈ کی سلطنت دنیا کے تقریباََ تمام براعظوں میں پھیل چکی تھی۔ جنوبی افریقہ، کینیڈا ، انڈیا اور آسٹریلیا وغیرہ کے وسیع رقبوں پر اس کے مقبوضات تھے۔ اس نے 64 سال حکومت کی اور جس وقت اس کا انتقال ہو ا، اس وقت انگلینڈ دنیا کی واحد سپر پاور کے عہدے پر براجمان تھا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے