Katharine Hepburn

کیتھرین ہیپ برن

Katharine Hepburn
کیتھرین ہیپ برن دورِ حاضر کی وہ اداکارہ ہے جسے بلا مبالغہ ایک لیجینڈ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس سے عظیم اداکارہ ہالی وڈ فلم انڈسٹری نے آج تک پیدا نہیں کی۔ کیتھرین کی شہرت صرف اس کی اداکارانہ صلاحیتوں کی بناء پ نہیں بلکہ اس کے شاہانہ حسن کا بھی اس میں بڑا عمل دخل ہے اور کیتھرین کا حقیقی کمال یہ ہے کہ ایسے پُرکار حسن کے باوجود اس کی اداکاری میں ایک خاص طرح کی سادگی اور چلبلاپن ہے جو عام وخاص کو یکساں متاثر کرتا ہے۔

اس شہرہٴ افاق ادا کارہ نے چار اکیڈمی ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز بھی اس کے حصے میں آیا۔ ہیپ برن کو بارہ دفعہ اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا۔ اتنی مرتبہ یہ اعزاز آج تک کسی اور اداکار یا اداکارہ کے حصے میں نہیں آیا ۔

(جاری ہے)


کیتھرین ہیپ برن امریکی ریاست کنکٹی کٹ کے ایک امیر کبیر اورمعزز خاندان میں 12 مئی 1907 کو پیدا ہوئی۔ اس کا باپ ایک مشہور سرجن تھا اور اس کی والدہ تحریک حقوق نسواں کی بانی کارکنوں میں شامل تھی۔

کیتھرین نے 1928 میں برن مارکالج سے گریجویشن کی اور سٹیج اداکارہ کے طور پر اپنے شوبز کیریئر کا آغاز کیا۔ اس نے نیو یارک کے براڈوے تھیٹر اور دیگر مقامات پر منعقد ہونے والے کئی ڈراموں میں چھوٹے بڑے کردار ادا کئے۔ اس وقت کی سٹیج کی دنیا میں کیتھرین کو ایک ایسی خاتون کے طور پر جانا جاتا تھا جو نہایت شوخ اور بے تکلف مزاج رکھنے کے باوجود نہایت خود مختار طبیعت کی مالک تھی۔


1932 میں کیتھرین کو اپنی پہلی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کا نام اے بل آف ڈائیورسمنٹ تھا اور اس کی ہدایت کاری کے فرائض مشہور زمانہ ہدایت کار جارج کیو کرنے انجام دئیے۔ اس ہدایت کار کے ساتھ کیتھرین ہیپ برن کا فنی تعلق طویل عرصے تک قائم رہا اور کیتھرین نے اس کی فلموں میں اپنی زندگی کے چند بہترین کردار ادا کئے۔
اپنی ابتدائی فلموں میں ہیپ برن نے ایسی خواتین کے کردار ادا کئے جو بنیادی طور پر مضبوط شخصیت کی مالک ہونے کے ساتھ ساتھ حقوقِ نسواں کی حامی ہیں اور ضرورت پڑنے پر نسوانی رول چھوڑ کر مردانہ کام بھی بخوبی سنبھال سکتی ہیں۔

اپنے پورے کیریئر کے دوران ہیپ برن نے ایسی فلموں میں مسلسل کام کیا۔ فلموں کے معاملے میں اس کا انتخاب دیکھ کر جہاں ہمیں کیتھرین کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے وہیں اس امر کی تصدیق بھی ہوتی ہے کہ امریکی فلم انڈسٹری میں خواتین کو ان کا حقیقی مقام دلانے میں کیتھرین ہیپ برن کی پُر اثر شخصیت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ہیپ برن نے اپنا پہلا اکیڈمی ایوارڈ 1933 میں فلم مارننگ گلوری کے لئے حاصل کیا۔

اس کے پانچ سال بعد اسے آرکے اوفلم کمپنی کے ساتھ، جس نے اسے پہلی دفعہ فلم ایکٹنگ کا موقع فراہم کیا تھا۔ اپنا معاہدہ ختم کر دینا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کمپنی کے سرکردگان اسے ایک ایسی فلم میں کام کرنے کے لیے مجبور کر رہے تھے جسے ہیپ برن اپنے لئے موزوں نہیں سمجھتی تھی۔ ہیپ برن کا پورا کیریئر ایسے فیصلوں سے بھرا پڑا ہے۔ وہ ایک انفرادیت پسند خاتون ہونے کے حوالے سے وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں سے اچھی طرح واقف تھی اور جانتی تھی کہ کون سا کردار اس کے لیے موزوں ہے اور کون سا غیر موزوں۔

یہی وجہ ہے کہ دمِ آخر تک اس نے کرداروں کے انتخاب کے معاملے میں اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اور شاید اسی لیے اتنی کامیاب رہی۔ صرف یہی نہیں اسے سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے آزمائے جانے والے گروں سے اور سٹوڈیوز کی طرف سے اپنے فنکاروں کو پروموٹ کرنے کے لئے استعمال کئے جانے والے ہتھکنڈوں سے سخت نفرت تھی اور وہ ہمیشہ ایسی تمام سرگرمیوں میں حصہ لینے سے انکار کرتی رہی۔


1938 میں ہیپ برن نے فلپ بیری کے لکھے ہوئے ڈرامے پرمبنی فلم ہالیڈے میں کام کیا اور اس کے فوراََ بعد براڈوے میں فلپ بیری کے لکھے ہوئے ڈرامے فلاڈلفیا سٹوری میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ فلپ بیری نے یہ ڈرامہ خاص طور پر ہیپ برن کے لئے لکھا تھا۔ ڈرامے میں کام کرنے کے بعد ہیپ برن نے اس فلم بنانے کے حقوق خریدے، جارج کیو کر کو ہدایت کاری کے لئے منتخب کیا اور کیری گرانٹ اور جیمزسٹیورٹ کو اپنے مقابل مرکزی کرداروں میں سائن کرکے فلاڈلفیا سٹوری کے نام سے ایک ایسی فلم تخلیق کی جسے ہالی وڈ کی کلاسیکی فلموں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

بیسویں صدی کی سو بہترین فلموں میں اس فلم کو 51واں نمبر دیا گیا۔
ہیپ برن کی کامیابیوں کا سفر کبھی رکا نہیں۔ اس کے پورے کیرئیر میں ایسا کوئی مقام نہیں آیا جب اسے پلٹ کردیکھنے پر مجبور ہونا پڑا ہو۔ابتداََ پے درپے چند ناکامیوں سے دوچار ہونے کے بعد جب اس نے کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں تو پھر کبھی اس تسلسل کو منقطع نہیں ہونے دیا۔ ایک اداکارہ کی حیثیت سے اس کا انفرادی تشخص جو اس نے ابتدائی دور میں ہی بنا لیا تھا وہ نہ صرف اس کی موت تک بر قرار رہا بلکہ ہمیشہ بر قرار رہے گا۔


کیتھرین نے اپنے دور کے ہر نمایاں اداکار کے ساتھ کام کیا لیکن اس کی سب سے مشہور جوڑی سپنرٹریسی کے ساتھ بنی۔ سپنسر ٹریسی وہ پہلا اداکار تھا جس نے مسلسل دو اکیڈمی ایوارڈ حاصل کئے۔ یہ اعزاز بعد ازاں صرف ٹام ہینکس کے حصے میں آیا ہے۔ سپنسر کے ساتھ کیتھرین ی جوڑی صرف سکرین تک محدود نہ رہی بلکہ آف دی سکرین بھی ان کے درمیان محبت کا سلسلہ چل پڑا۔

اگرچہ یہ سلسلہ شادی پر منتج نہ ہو سکا لیکن کیتھرین اور سپنسر کی محبت کی داستان آج بھی ہالی وڈ کے حلقوں میں سنی اور سنائی جاتی ہے۔
کیتھرین نے اپنا دوسرا اکیڈمی ایوارڈ 1962 میں یوجین اونیل کے مشہور زمانہ ڈرامے پر مبنی فلم لانگ ڈیز جورنی ان ٹونائٹ میں حاصل کیا۔ تیسرا ایوارڈ 1967 میں گس ہواز کمنگ ٹو ڈنر پر حاصل کیا اور چوتھا ایوارڈ گولڈن پونڈ میں اپنی لازوال کردار نگاری پر اس وقت حاصل کیا جب اس کی عمر 74 برس تھی۔

1991 میں اس کی خودنوشت سوانح عمری ”می“ (Me) شائع ہو کر عامتہ الناس میں بے پناہ مقبول ہوئی۔
کیتھرین ہیپ برن کا طویل اور کامیاب کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ ”مردوں کی دنیا“ میں ایک خاتون بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ کیتھرین ہیپ برن کی طرح خود مختار اور مضبوط شخصیت کی مالک ہو۔
کیتھرین ہیپ برن نے 30جولائی کو 2003 کو 96 برس کی عمر میں وفات پائی۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-02

Your Thoughts and Comments

Special Famous Artist Ladies Of The World article for women, read "Katharine Hepburn" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.