بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریچائنا اورروزمرہ کی دیکھ بھال اور احتیاط

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چائنا اورروزمرہ کی دیکھ بھال اور احتیاط
کراکری سٹور کرنے سے پہلے دیکھیں کہ الماری کے شیلف مضبوط ہوں کیونکہ چائنا کے برتن وزن میں بھاری ہوتے ہیں اسی وجہ سے بہت سی پلیٹوں کے اوپرتلے ڈھیر کی صورت میں نہیں رکھنا چاہیے
چائنا اورروزمرہ کی دیکھ بھال اور احتیاط
چائنا کے برتن بالکل خشک کرکے رکھنے چاہیں ورنہ ان میں بساند سی پیدا ہوجاتی ہے یکساں قسم کے برتن اکٹھے اور صاف ستھری الماریوں میں رکھیں بہتر ہے کہ پیالیوں اور جگہ وغیرہ کو گول کھونٹیوں پر لٹکا کر رکھیں کراکری سٹور کرنے سے پہلے دیکھیں کہ الماری کے شیلف مضبوط ہوں کیونکہ چائنا کے برتن وزن میں بھاری ہوتے ہیں اسی وجہ سے بہت سی پلیٹوں کے اوپرتلے ڈھیر کی صورت میں نہیں رکھنا چاہیے اس سے نچلی پلیٹوں کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے ڈونگوں کے ڈھکنون کو الٹا کرکے رکھنا چاہیے نازک چائنا یعنی گلدان اور دوسری قیمتی اشیا کو علیحدہ خانے میں رکھیں۔
شیشے کے برتن: شیشے کے برتن مختلف کوالٹی کے شیشے سے تیار کیے جاتے ہیں اسی لحاظ سے ان کی قیمتو ں میں بھی فرق ہوتا ہے عام شیشہ تیز حرارت اور حرارت کی اچانک تبدیلیوں کو برداشت نہیں کرسکتا اور ٹوٹ جاتا ہے حرارت پروف(Heat Proof) شیشہ تنور میں اور تیز حرارت میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور برتن ٹوٹنے نہیں پاتا کٹ گلاس(Cut Glass) کے برتن مہنگے اور خوبصورت ہوتے ہیں شیشے کے گلاس اور جگ ایسے ہونے چاہیں جن کے اندر آسانی سے ہاتھ چلا جائے ورنہ دھونے اور صاف کرنے میں مشکل پیش آئے گی شیشے کے برتن شفاف اور چمکدار اور اندر سے سطح ہموار ہونی چاہیے موٹے شیشے کے بنے ہوئے برتن بہ نسبت باریک شیشے سے بنے برتنوں کے جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔شیشے کے برتنوں کو استعمال کرنے اور سٹور کرنے میں بھی خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً گرم برتنوں کو ٹھنڈی سطح یا جگہ پر نہیں رکھناچاہیے اس طرح ٹھنڈے برتنوں کو گرم جگہ پر نہیں رکھنا چاہیے،برتنوں کو سٹور کرتے وقت ایک دوسرے کے اوپر یا اندر نہ رکھیں تمام برتنوں کو صاف اور خشک کرکے رکھنا چاہیے دھونے کے لیے نیم گرم پانی اور صابن استعمال کرنا چاہیے زیادہ گندے برتن نمک اور سرکے سے اچھے صاف ہوجاتے ہیں،شیشے کے ڈنر سیٹ بھی اب ملنے لگے ہیں اس کے علاوہ اوون ڈش اورپکانے کے برتن بھی بنتے ہیں جو گاہک کی توجہ کا خاص مرکز بنتے ہیں کیونکہ یہ دیکھنے اور استعمال میں خوبصورت معلوم ہوتے ہیں شیشے کے برتن آسانی سے صاف ہوجاتے ہیں اس لیے وقت اور قوت کی بچت کرتے ہیں کھانا پکتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور اگر مناسب حفاظت کی جائے توبہت دیر تک چلتے ہیں۔
کٹلری(چھریاں چمچے اور کانٹے):
ہر قسم کی کٹلری منتخب کرتے وقت اچھی کوالٹی کو ترجیح دیں اگرچہ معمولی کوالٹی کی کٹلری سستی ہوتی ہے لیکن بہت جلد خراب ہو کر ناقابل استعمال ہوجاتی ہے پہلے پہل صرف عام سٹیل کی بنی ہوئی چھریاں ہی دستیاب ہوتی تھیں لیکن اب سٹین لیس سٹیل کی بنی ہوئی چھریاں اور دوسری کٹلری ان کی جگہ لے رہی ہیں اچھی قسم کی چھریوں کا سٹیل مضبوط ہوتا ہے اور بہت زیادہ پختہ بنادیا گیا ہوتا ہے دراصل سٹین لیس سٹیل عام قسم کے سٹیل میں کاربن ملا کرتیار کیاجاتاہے تیز حرارت میں گرم کرکے یکدم ٹھنڈا کرلیا جاتا ہے اس عمل سے لوہا نہ صرف سخت اور مضبوط ہوجاتا ہے بلکہ اس میں ایک خاص لچک بھی پیدا ہوجاتی ہے جس کی بدولت اس کو کسی بھی پسندیدہ شکل میں بہ آسانی ڈھالا جاسکتا ہے اس قسم کے سٹیل سے تیز دھار چھریاں بنائی جاسکتی ہیں اور ان پر بہت چمکدار اور عمدہ پالش ہوسکتی ہے۔عام طور پر چھری کے دوحصے ہوتے ہیں سامنے کا حصہ یعنی پھل اور دستہ جوکہ عموماً لکڑی ،ہڈی،نقلی ہاتھی دانت یا پھر کسی دھات کا بنا ہوتا ہے،چھری خریدتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ہینڈل کس طرح چھری کے ساتھ پپوست ہے بعض چھریوں میں صرف ایک کیل کے ساتھ ہی دستہ چھری کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے بعض میں اگلے حصے کے ساتھ ایک لمبی میخ پپوست ہوتی ہے جوکہ پوری ہینڈل کے اندر جمائی ہوتی ہے،آخر الذکر قسم کی چھری بہترہوتی ہے اگر چھری کو میز کے اوپر رکھا جائے تو اسے اپنا وزن برقرار رکھنا چاہیے یعنی چھری کا پھل یا اگلا حصہ(بلیڈ) میز کو نہ چھوئے پالش چمکدار اور سطح ہموار ہونی چاہیے بلیڈ سخت اور بے لچک۔باورچی خانے میں استعمال کی چھریاں تیز اور مختلف سائزوں کی ہونی چاہیں مثلاً گوشت کے لیے ذرا بڑی چھری اور سبزی وغیرہ بنانے کے لیے قدرے چھوٹے سائز کی چھری بہتر رہتی ہے باورچی خانے کے لیے کالی لکڑی کے دستوں والی چھریاں پسند کریں،ہینڈل لمبا ہو تاکہ مضبوطی اور آسانی سے تھاما جاسکے ہینڈل کے جوڑ کا بھی مضبوطی کے لیے ضرور معائنہ کرلیں،چمچے اور کانٹے خریدتے وقت بھی اگر سٹین لیس سٹیل کو ترجیح دیں تو بہتر ہے ایسے چمچوں اور کانٹوں کی نہ قلعی اور پالش وغیرہ ہی اُترتی ہے اور نہ ہی رنگ آلود ہوتے ہیں صرف دھوئیے اور خشک کپڑے سے رگڑ دیجیے فوراً چمک اُٹھیں گے،کانٹے مختلف سائزوں میں دستیاب ہوتے ہیں بعض میں صرف دو شاخیں ہوتی ہیں اور بعض میں تین یا چار شاخیں ہوتی ہے بہر حال اس لحاظ سے آپ کا انتخاب ان کے استعمال پر منحصر ہوگا،لمبے ہینڈل والے کانٹے سلاد وغیرہ نکالنے کے لیے موزوں ہوتے ہیں چھوٹے کانٹے کھانے کی میز پر استعمال کے لیے ہوتے ہیں ان کے کانٹے مضبوط اور تیز ہونے چاہیں اگر کانٹے میں ہینڈل سٹیل کے علاوہ کسی دوسرے میٹیریل سے بنا ہو تو اس میں بھی وہ تمام خصوصیات دیکھیں جن کا ذکر چھریوں کے باب میں کیا گیا ہے،چمچے ملانے کے لیے کھانا ہلانے کے لیے کھانا نکالنے کھانا سرو کرنے اور کھانا کھانے کے لیے ہوتے ہیں یہ مختلف دھاتوں سے بنائے جاتے ہیں مثلا المونیم،پیتل،تانبا،سٹیل،سٹین لیس سٹیل اور لکڑی وغیرہ اس کے علاوہ نکل اور چاندی چڑھی ہوئی دھاتوں یعنی ململ شدہ دھاتوں سے بھی تیار کیا جاتا ہیں،المونیم کے چمچے عموماً کھانا چلانے کے لیے ہوتے ہیں یہ سخت لیکن ٹوٹنے والے ہوتے ہیں سٹیل کو عموماً زنگ لگ جاتا ہے لکڑی کے چمچ سے دیگچی یا ساس پین میں نشان نہیں پڑتے آسانی سے پکڑے جاتے ہیں اور حرارت سے گرم نہیں ہوتے لیکن لکڑی میں یہ خرابی ہے کہ پھٹ جاتی ہے بہر حال باورچی خانے میں ایک دو لکڑی کے چمچوں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے،کھانے کے لیے چمچے منتخب کرتے وقت دیکھ لیں کہ اعلیٰ کوالٹی کے سٹیل کے بنے ہوں ڈیزائن اور شکل اچھی ہو،کنارے تیز نہ ہوں ورنہ کھانا کھاتے وقت منہ کو زخمی کرسکتے ہیں کناروں پر انگلی پھیر کر دیکھیں کہ ہموار ہوں،جسامت متناسب ہو عموماً سٹیل ہی کے ہینڈلوں والے چمچے بہتر رہتے ہیں،پیتل یا نکل کے چمچے اگرلیں تو ان کی قلعی کچھ دیر استعمال کے بعد اتر جاتی ہے اور دوبارہ قلعی کروانا پڑتے ہیں،چمچ عام طور پر دو طریقوں سے بنائے جاتے ہیں ایک دھات کو ڈھال کر اور دوسرے دھات کی چادر میں سے کاٹ کر ان میں سے اول الذکر طریقے سے بنی ہوئی کٹلری بہتر ہوتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے