بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریالیکڑونک اشیا

مزید رہنمائے خریداری

- مزید مضامین
الیکڑونک اشیا
کچن میں استعمال ہونے وایل چیزیں بجلی سے چلتی ہے مثلاً الیکڑک فرائی پان،الیکڑک کیتلی،گرائینڈر اور بلینڈر وغیرہ،ان چیزوں کے استعمال کے دوران غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے
الیکڑونک اشیا :
آج کل کچن میں استعمال ہونے وایل چیزیں بجلی سے چلتی ہے مثلاً الیکڑک فرائی پان،الیکڑک کیتلی،گرائینڈر اور بلینڈر وغیرہ،ان چیزوں کے استعمال کے دوران غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور حفاظت تو پہلا کام ہے ان کو گرد وغبار سے بچا کر رکھیں ہوسکے تو ان پر پلاسٹک کے زپ والے گور چڑھائیں ان کے بجلی کے نظام کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کریں اور معلومات کی روشنی میں ان کو استعمال کریں استعمال کرنے سے پہلے ٹیسٹر سے ضرور چیک کریں کیونکہ بعض اوقات معمولی سا کوئی تار اند ہی اندر ادھر سے اُدھر ہوجاتا ہے اور اس میں کرنٹ اجاتا ہے ایک چھوٹا سا ٹول بکس جسے کٹ بکس بھی کہتے ہیں کچن میں موجود ہونا چاہیے اس میں ٹیسٹر ہتھوڑی ہر قسم کے چھوٹے بڑے پیچ کس پلاس،کیلیں چھوٹی سی آری وغیرہ ہونے چاہییں یہ ٹول بکس بڑے کام کی چیز ہے یہ الیکڑک اشیا کے ساتھ ساتھ گھر کی دوسری اشیا کے ساتھ ساتھ گھر کی دوسری چیزوں کو بھی درست حالت میں رکھنے میں مدد دیتا ہے اور ذر ا ذرا سے کام کے لیے کسی مستری وغیرہ کی ضرورت سے بے نیاز کردیتا ہے کچن میں استعمال ہونے والی بہت سی چیزوں کو الگ یا چھپا کر رکھنے کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے اس کے لیے دروازے کے پیچھے ہک یا کیل لگاکر ان چیزوں کو کسی برتن یا تھیلے میں رکھ کر انہیں ڈوری کے ساتھ کیل یا ہک پر لٹکا دینا چاہیے اس طرح بہت سی چیزیں محفوظ رہ سکتی ہے اور خاص طورپر بچوں سے اس کے علاوہ گھروں کی بلیاں بھی ان چیزوں کو چھیڑ نہ سکیں گی اس کے لیے دروازوں میں سوراخ کرتے وقت اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ یہ سوراخ آر پار نہ ہو کیل یا پیچ کے لیے تو معمولی سے سوراخ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پیچ سوراخ میں داخل ہوکر کھانے سے اپنی جگہ خود بنالیتا ہے۔کچن کی دیکھ بھال اور صفائی کے لیے کچن میں ایک استفنج یا فوم کے ٹکڑے کا ہونا بڑا ضروری ہے اس کی مدد سے سالن،دودھ،چائے کافی وغیرہ کے معمولی چھینٹے اور دھبے فوراً صاف کیے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ استفنج کو فریج میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جن خانوں میں پانی کے ٹپکنے کا خطرہ ہو وہاں استفنج ٹپکتے ہوئے پانی کو فوراً جذب کرے گا اور پانی دوسرے خانوں تک نہیں جائے گا۔کچن میں چمچوں کا عام استعمال کرنا پڑتا ہے اور کچن میں مختلف سائز کے چمچ ہونے چاہییں عام طور پر کچن میں کام کرنے والی خواتین ایک ہی سائز کے چمچ کو مختلف مسالوں اور چیزوں کے لیے استعمال کرتی ہے اس سے چیزوں کے استعمال کا اندازہ غلط ہوجاتا ہے لہٰذاچائے کی پتی کا چمچ 1/4 ہونا چاہیے آٹے کو نکالنے کے لیے بڑا کپ استعمال کریں چینی کے لیے 1/2 سائز کا چمچ ہونا چاہیے نمک کے لیے انتہائی چھوٹا چمچ استعمال کرنا چاہیے چمچوں کے مختلف سائز آپ کو بہت الجھنوں سے بچاسکتے ہیں ویسے بھی ہر چیز کے لیے الگ چمچ ہونا ضروری ہے اور ایک چیز کا چمچ کسی دوسری چیز میں استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
آگ بجانا:
چولھے پر فالتو گرا ہوا تیل عموماً آگ پکڑلیتا ہے اس آگ کو بجھانے کے لیے پھونکیں مارنا درست نہیں بلکہ اس کے شعلوں پرتھوڑا سا دودھ ڈالنے سے آگ فوراً بجھ جاتی ہے اگر فرائی پان کے اندر گھی آگ پکڑ لے تو اسے بجھانے کے لیے نمک یا آٹے کی چٹکی ڈال لیں اور فرائی پان فوراً چولھے سے اتار لیں اگ فوراً بجھ جائیں گی اگر آگ دوسری چیزوں تک پہنچ جائے تو اس کے اوپر کمبل یا دری وغیرہ ڈال دیں پانی ڈالنا درست نہیں اس سے بعض اوقات آگ اور بھڑک اٹھتی ہے۔آگ کے سلسلے میں بجلی کی تاروں کا بھی دخل ہے اگر بجلی کی تاریں کسی وجہ سے آگ پکڑلیں تو مٹی یا ریت پھینک کر آگ بجھائی جاسکتی ہے اس کے علاوہ لکڑی یا ربڑ پر کھڑے ہوکر کمبل مار مار کر آگ بجھانا بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اگر اس وقت مٹی یا ریت پاس موجود نہ ہو تو ایک مٹھیہ میٹھا سوڈا ڈالنے سے بھی آگ جلدی بجھ جاتی ہے کیونکہ سوڈا ڈالتے ہی دھواں اُٹھنے لگتا ہے جس میں کاربن ڈائی اکسائڈ گیس ہوتی ہے جو آگ کو فوراً بجھا دیتی ہے اس لئے کچن میں ایک خشک بوتل میٹھا سوڈا رکھنا ضروری ہے جو نہ صرف آگ بجھانے کے کام آتی ہے بلکہ اس کے کئی اور فائدے بھی ہیں اس بوتل کا ڈھکنا مضبوطی سے بند رکھیں تاکہ اس کے اندر ہوا کے ذریعے نمی داخل نہ ہوسکے اور سوڈا خشک رہے ایک بار پھر یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ بجلی کی تاروں میں آگ لگ جانے پر پانی ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے پانی ڈالنے والے کو سخت بجلی کا جھٹکا لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے