بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریخریداری کے لیے مناسب قیمتوں کا مسئلہ
خریداری کے لیے مناسب قیمتوں کا مسئلہ
گھریلو خواتین کو چاہیے کہ خریداری کے دوران مناسب قیمت کو اشیاء کی طرف توجہ دیں۔پیکنگ کی نزاکت و خوبصورتی اور اشتہاری الفاظ سے متاثر نہ ہوں
خریداری کے لیے مناسب قیمتوں کا مسئلہ:
چیزوں کی قیمت یا تو سستی قرار پاتی ہے یا مہنگی۔لیکن بازاروں مارکیٹوں اور منڈیوں میں چیزوں کی سستی اور مہنگی قیمتوں کے علاوہ ایک درمیانی قیمت بھی وجود میں آچکی ہیں اور اسے مناسب قیمت کا نام دیا جاتا ہے۔ان دنوں آپنے دیکھا ہوگا کہ مہنگے داموں فروخت ہونے والی چیزوں کی پیکنگ پر ڈیلکس سپر ڈیلکس،سپریم اور اعلیٰ ترین جیسے خوبصورت لفظ چھاپے جاتے ہیں اور ان کی قیمتیں بھی سپر ڈیلکس ہوتی ہیں۔یہ مال بیچنے کے بہت سے اشتہاری طریقوں میں سے ایک انتہائی پرکشش طریقہ ہے،اکثر صنعتی اور تجارتی ادارے اپنے مال کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔پرکشش اور خوبصورت شاعرانہ لفظوں سے سجے ہوئے اشتہارات بھی خریدار کی جیب سے زیادہ پیسے نکالنے کا ذریعہ ہیں۔ لیکن ایک ہوشیار خریدار ذرا غور کرے تو اسے پتہ چل جائے گا کہ جس چیز کو ڈیلکس اور سپر ڈیلکس کہہ کر فروخت کیا جارہا ہے وہ درحقیقت مناسب قیمت والی چیز سے ذرا بھی مختلف نہیں اور فرق صرف اتنا ہے کہ اس پر سپر ڈیلکس ہونے کا لیبل نہیں لگا ہوا۔گھریلو خواتین کو چاہیے کہ خریداری کے دوران مناسب قیمت کو اشیاء کی طرف توجہ دیں۔پیکنگ کی نزاکت و خوبصورتی اور اشتہاری الفاظ سے متاثر نہ ہوں اور اس حقیقت کوہی اعلیٰ اور خوشنما لفظوں کی رینکنگ میں پیش کرکے زیادہ دام وصول کیے جارہے ہیں جب کہ چیز کی خاصیت اور معیار دونوں کا ایک ہے۔اگر کوئی فرق ہے تو صرف ڈیلکس کہہ کر پیش کرنے کا فرق ہے چنانچہ ماہرین یہ تجویز کرتے ہیں کہ گھریلو خواتین مناسب قیمت والی چیزیں خرید کر زائد ادائیگی سے بچ جاتی ہیں اب ذرا سستی اشیاء پر بھی نظر ڈال لیں۔بعض مقبول و معررف اور روزانہ استعمال کی گھریلو اشیاء بہت ہی گھٹیا وسائل اور ناکافی ذرائع سے تیار کی جاتی ہیں جیساکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ سستی ترین آئس کریم بھی بنتی اور مہنگی ترین آئس کریم بھی تیار کی جاتی ہیں اس طرح اور بھی کئی چیزیں سستی بنتی ہیں اور سستی فروخت ہوتی ہیں یہ سستی چیزیں اپنی سخت ا ور مال کی کوالٹی میں بھی کم درجے کی ہوتی ہیں وہ پائدارنہیں ہوتی ان کا معیار گھٹیا ہوتا ہے اور ان کے استعمال کے دوران کسی چیز کے استعمال کرنے سے جو خوشی ہوتی ہیں وہ بالکل حاصل نہیں ہوتی۔پھر پیسوں کے ضائع ہونے کاملال بھی ہوتا ہے لیکن ماہرین کے نزدیک خوشگوار خریداری یہی ہے کہ مہنگی اور سستی قیمتوں کے جادو کا اثر نہ لیا جائے بلکہ مناسب قیمتوں والی اشیا خریدی جائیں۔
چیزوں کے برانڈ کامسئلہ: آج کل چیزوں کے برانڈ کا دور ہے ہر چیز کی افادیت اور خاصیت اس کے برانڈ سے پرکھی جاتی ہیں بڑی بڑی کمپنیاں،ادارے،سٹورز اور گھریلو انڈسٹریز بھی اپنے اپنے برانڈز مقرر کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ان کی تیار کردہ اشیا اسی برانڈز سے پہچانی جائیں،برانڈز کو مقبول عام بنانے کے طریقے سوچے جاتے ہیں،ظاہر ہے جتنا برانڈز کی پبلسٹی پر خرچ ہوتا ہے وہ اس کی قیمت میں شامل کیا جاتا ہے اس لیے مشہور برانڈز والی چیزوں کی قیمتیں بھی زیادہ ہوں گی۔لیکن برانڈز کی شہرت خریدار کی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہیں اس لیے خریدار مشہور برانڈ کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں لیکن یہ خریداری کا کوئی صحت مند اصول نہیں ہے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ برانڈز والی اشیاء کے ساتھ ساتھ وہی اشیاء بغیر برانڈز کے بھی تیار ہوتی ہیں اور بازاروں میں عام دستیاب ہیں۔بغیر برانڈز کے تیار کرنے والے اپنی پبلسٹی ڈیزائننگ،پیکنگ اور پرکشش پیشکش کے طریقوں پر کچھ خرچ نہیں کرتے اور ظاہر ہے وہ قیمتیں بھی کم مقرر کریں گے۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ کم خرچ یا بالکل ہی شہرت نہ رکھنے والے ادارے اپنے مال کی کوالٹی اور پائداری پر زیادہ توجہ دیتے ہیں تاکہ اگر ایک بار خریدار کے تجربے میں وہ چیز آجائے تو وہ اس کی خاصیت کی بنیاد پر دوبارہ اس کی طرف توجہ دیں کسی چیز کا بغیر برانڈز کے ہونا اس کے گھٹیا یا خراب ہونے کا سبب نہیں ہوسکتا۔لہٰذا زائداخراجات اورمہنگے پن سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بغیر برانڈز کے اعلیٰ معیار کی جو چیزیں دستیاب ہیں انہیں خریداری کی فہرست میں شامل کیا جائے

(0) ووٹ وصول ہوئے