بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریخوردنی اشیا کے اجزائے ترکیبی

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین -
خوردنی اشیا کے اجزائے ترکیبی
بند پیکٹوں پر ان کے اجزائے ترکیبی بھی چھاپے جاتے ہیں جس کا مقصد خریدار کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ اس میں فلاں فلاں چیزوں کو شامل کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اس طرح نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ خریدی گئی چیز کی اصل حقیقت آپ کو معلوم ہوگی
خوردنی اشیا کے اجزائے ترکیبی:
کھانے پینے والی چیزیں آب بند پیکٹوں میں دستیاب ہونے لگی ہیں اور بعض مرکب اشیاء کے بند پیکٹوں پر ان کے اجزائے ترکیبی بھی چھاپے جاتے ہیں جس کا مقصد خریدار کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ اس میں فلاں فلاں چیزوں کو شامل کیا گیا ہے،لہٰذا یہ ضروری ہیں کہ آپ کوئی چیز خریدے یا استعمال کرنے سے پہلے ان کے اجزائے ترکیبی پر نظر ڈال لیں۔اگر تحریر سمجھ میں نہ آئے تو کسی اور سے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اس طرح نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ خریدی گئی چیز کی اصل حقیقت آپ کو معلوم ہوگی یعنی آپ کسی چیز کے اجزائے ترکیبی سے واقف ہوں گی،بعض اوقات ایک ہی چیز کے اجزائے ترکیبی بالکل یکساں ہوتے ہیں لیکن کوئی فرم ذراسی تبدیلی کرکے قیمت بڑھا دیتی ہیں حالانکہ ایک جزو کی کمی بیشی یا اس کی نوعیت تبدیل ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔مثال کے طور پرمصالحہ جات،مشروبات اور دوسری خوردنی اشیاء کرنے والے اجزائے ترکیبی میں معمولی سی تبدیلی کرکے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا مال دوسری فرموں سے بہتر ہے اور اسی بہتری کے دعوے کی بنیاد پر قیمت میں اضافہ کرلیتے ہیں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ خریدار عموماً مشہور برانڈز اور ناموں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ان کے مال کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں معلومات حاصل ہوں تو ان کی روشنی میں دوسری فرموں کے تیار کردہ مال کو بھی پرکھا جاسکتا ہے اس طرح قیمتوں کے فرق کا بھی پتہ چل سکتا ہے اوریوں زائد قیمت ادا کرنے کے نقصان کا اندیشہ نہیں رہتا۔چیزوں کی اجزائے ترکیبی پڑھنے کے کئی ایک فائدے ہیں اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے آپ کسی خریدی ہوئی چیز کی قدروقیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگاسکتی ہیں آج سے کچھ عرصہ پہلے چیزوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے فارمولوں کو چھپا کر رکھا جاتا تھا لیکن اب صنعتی و تکنیکی ترقی نے اس راز کو کھول دیا ہے لہٰذا چیزیں خریدتے وقت فارمولوں یعنی اجزائے ترکیبی کو بھی نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔
اپنی خدمت کا اصول: آج کے دور میں انسان کے آرام اور سہولت کا انحصار اشیاء پر ہے اور آرام کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی انسان کا بنیادی حق ہے لیکن زیادہ آرام حاصل کرنے کے لیے آمدن سے زیادہ اخراجات ذہنی بے سکونی کا سبب بنتے ہیں اس لیے بچت کی عادت ایک ایسا رویہ ہے جو رقم خرچ کرکے آرام حاصل کرنے سے زیاد ہ سکون دیتاہے۔اس عادت کو اپنا کر آپ آرام اور سکون کو مستقل صورت دے سکتی ہیں۔اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اپنی آمدن کے دائرے میں رہ کر خریداری کا سلیقہ حاصل کیا جائے او ر یہ سلیقہ مختلف چیزوں کی تیاری کے طریقوں سے واقفیت سے ملتا ہے آج کل ہر چیز تیار شدہ حالت میں ملتی ہیں اور لوگ ان کے بنانے کے طریقوں سے بہت کم واقف ہوتے ہیں،تجربے میں آیا ہے کہ اگر کوئی چیز تیار حالت میں دس روپے کے عوض ملتی ہیں تو اسے خود تیار کرنے میں پانچ روپے کے خرچ آتے ہیں لیکن انجانے پن میں لوگ وہ چیز دس روپے میں حاصل کرنے پر مجبورہیں اگر تھوڑی سی محنت اور اپنے آرام کا وقت صرف کرکے وہ چیز خود بنالی جائے تو یقینا پانچ روپے بچائے جاسکتے ہیں۔لہٰذا یہ اصول ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ اگر تھوڑی سی تکلیف اٹھالی جائے اور ضرورت کی چیز خود بنالی جائے تو فالتو رقم کا بوجھ کم ہوجاتا ہے یہ اپنی خدمت آپ کرنے کا سنہری فائدہ ہے آپ جتنی اپنی خدمت کریں گی اتنی ہی سہولت آپ کو ہوگی اوریہ سہولت چیزوں کی تیاری کے طریقوں سے واقفیت سے ہی مل سکتی ہیں۔
زیادہ مقدار اور بڑئے سائز کا مسئلہ: ماہرین کا کہنا ہے کہ خریداری ہمیشہ زیادہ مقدار میں کریں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی ضرورت سے زیادہ مقدار یا چیز کے مطلوبہ سائز سے بڑے سائز کی خریداری کریں۔اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ استعمال کی چیزیں اکٹھی خریدیں مثال کے طورپر آپ اگر روزانہ ایک ماچس استعمال کرتی ہیں تو روزانہ ایک ماچس کی بجائے مہینے بھر کی ضرورت کی ماچس اکٹھی خریدیں اس طرح وہ سستی پڑیں گی۔کیونکہ چیزیں اکٹھی خریدنے پر پرچون کے نرخ لاگو نہیں ہوتے اوروہ ہول سیل نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں اس طرح جو اشیاء دیر تک محفوظ ہوسکتی ہیں انہیں بھی ہول سیل نرخوں پر خریدکر محفوظ کرلینا چاہیے۔یہی قانون بعض پیک شدہ چیزوں پر بھی لاگو ہوتا ہے آپ کے تجربے میں ہوگا کہ روزانہ استعمال کی چیزیں منی سائز اور فیملی سائز میں بھی تیار ہونے لگی ہیں اور عام طور پر فرمیں اور کمپنیاں تیار ہونے لگی ہیں اور عام طور پر فرمیں اور کمپنیاں بڑئے سائز کی پیکنگ کی قیمت کم مقرر کرتی ہیں اور منی سائز کی پیک شدہ اشیاء کی قیمت قدرے زیادہ ہوتی ہیں۔خریدار کے لیے یہ کشش موجود ہوتی ہیں کہ اگر وہ بڑئے سائز میں کسی چیز کی خریداری کرئے گا تو لامحالہ اس میں رعایت حاصل ہوگی اگر آپ کوئی چیز بڑئے سائز اور زیادہ مقدار میں خریدسکتی ہیں تو ایسا ضرور کریں یوں آپ کچھ نہ کچھ بچت کرسکتی ہیں اور وقت بھی بچا سکتی ہیں بڑئے سائز اور زیادہ مقدار میں ضرورت کی چیزیں خریدنے سے بار بار مارکیٹ اور بازار جانے کی جھنجھٹ سے بھی نجات مل سکتی ہیں۔
اشیاء کے لیے نئے اور پرانے ماڈل: اس صنعتی دور میں اشیاء کے ماڈل تبدیل ہونا ایک معمول بن گیا ہے اور اس سلسلے میں مقابلہ بازی کی کوئی حد موجود نہیں رہی۔جس کی وجہ سے عام خریدار اشیاء کے پرانے اور نئے ماڈل کے چکر میں پھنسا ہوا ہے اور نئے نئے ماڈل آنے سے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ماڈل بدلنے سے کارخانے قیمتیں بھی بڑھا دیتے ہیں،دیکھا گیا ہے کہ کسی چیز کا کوئی نیا ماڈل مارکیٹ میں آتا ہے تو خریداروں کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے لہٰذا پرانے ماڈل اپنی دلچسپی کھودیتے ہیں اور ان کی قیمتوں میں کمی واقع ہوجاتی ہیں حالانکہ نئے اور پرانے ماڈل میں صرف ڈیزائن اور رنگ و روغن کا ہی فرق ہوتا ہے لیکن ان کی کار گزاری ایک سی ہوتی ہیں اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیے نئے ماڈل کی چاہت میں فالتو قیمت ادا کرنے سے بچنا چاہیے اور پرانے ماڈل ہی کو اہمیت دینا چاہیے۔دوسری فرمیں اور دکان دار نئے ماڈل آنے سے پرانے ماڈل کی چیزوں کو جلد از جلد فروخت کرنا چاہیے وہ نیلامی اور کلیرنس سیل کا بندوبست کرتے ہیں یہ دکاندار اور فرم کی مجبوری ہوتی ہیں اور اس مجبوری کے تحت وہ قیمتیں بھی گرادیتے ہیں اس لیے عقلمندی کا تقاضا ہے کہ نیلامی اور کلیرنس سیل کے مواقع سے فائدہ اٹھا کر بچت کرنی چاہیے اور پرانے ماڈل کی چیزوں کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ پرانے ماڈل کی چیزیں اگرچہ رنگ و روغن اور ڈیزائن میں گو پرانی ہوتی ہیں لیکن ان کی کارکردگی ویسی ہوتی ہیں۔نیلامی اور کلیرنس سیل کے مواقع بچت کا ذریعہ ہیں اور اس طرح قیمت پر اچھی چیزیں مل جاتی ہیں خواہ وہ پرانے ماڈل ہی کیوں نہ ہوں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے