بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریخواتین کے لیے زیورات اور آرائشی مصنوعات

مزید رہنمائے خریداری

- مزید مضامین
خواتین کے لیے زیورات اور آرائشی مصنوعات
آج کے دور میں بھی زیورات کے نت نئے ڈیزائن وجود میں آتے رہتے ہیں انہیں خوبصورت بنانے کے لیے طرح طرح کے پتھروں اور موتیوں سے مینا کاری کی جاتی ہے
خواتین کے لیے زیورات اور آرائشی مصنوعات:
قدرت نے سجنے سجانے کا شوق عورت کو کچھ زیادہ ہی فراخدلی سے عطا کیا ہے ابتدائے آفرینش سے عورت اپنے اس شوق کی تکمیل کرتی چلی آرہی ہے آج کے دور میں بھی زیورات کے نت نئے ڈیزائن وجود میں آتے رہتے ہیں انہیں خوبصورت بنانے کے لیے طرح طرح کے پتھروں اور موتیوں سے مینا کاری کی جاتی ہے پاکستان زیورات کی خوبصورتی اور دلکشی کی بدولت ان کی مانگ تو اب غیر ممالک میں بھی بڑھ گئی ہے۔نقلی اور ادنیٰ قسم کے زیورات ویسے تو ورائٹی میں متنوع ہوتے ہیں لیکن دیرپا نہیں ہوتے آپ ایسے زیورات کی پائداری کی توقع رکھ بھی نہیں سکتے سونے کے زیورات بنواتے یا خریدتے وقت ڈیزائن نہایت احتیاط اور ہوشیاری سے منتخب کریں صرف وہی ڈیزائن پسند کریں جو آپ کے خیال میں آپ پر ہی جچے گا۔سونا خالص بھی ہوتا ہے اور آمیزش والا یعنی ملاوٹی بھی 24 کیرٹ اور 22 کیرٹ کے سونے زیورات میں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں 24 کیرٹ کا سونا خالص ترین ہوتا ہے 22 کیرٹ میں 10 فیصدی تک کھوٹ ملا ہوتا ہے ان کی قیمتوں میں بھی اس لحاظ سے اختلاف ہوتا ہے 22 کیرٹ کا سونا نفیس قسم کے اور جڑاؤ زیورات کے لیے خالص کی نسبت بہتر رہتا ہے،گھڑیاں بھی بیسیوں اقسام کی دستیاب ہوتی ہیں کوالٹی کی بھی ہوتی ہیں اور گھٹیا کوالٹی کی بھی اور درمیانہ کوالٹی کی گھڑیاں بھی موجود ہوتی ہے روزمرہ استعمال کے لیے درمیانہ درجے کی گھڑیاں مناسب رہتی ہیں کسی مشہور اور قابل اعتبار کمپنی کی بنی گھڑی کو ہمیشہ ترجیح دیں۔
بچوں کے لئے کھلونوں خریداری: ایک خاص عمر تک ہر بچہ کھلونوں سے کھیلنا پسند کرتا ہے عمر کے مختلف مراحل میں بچوں کی دلچسپیاں بھی بدلتی جاتی ہے اس لیے کھلونوں کا انتخاب کرتے وقت بچے کی عمر کا لحاظ کرنا چاہیے ایک ڈیڑھ سال کی عمرہی سے بچے کا تخیل نشوونما پانے لگتا ہے بچوں میں تجسس کا مادہ بھی فطری طور پر پایا جاتا ہے اسی شوق تجسس کی تکمیل کے لیے بچہ کھلونوں کی فرمائش کرتاہے اور ان سے کھیلنا پسند کرتا ہے ہر بچہ اس دنیا میں کچھ نہ کچھ صلاحیتیں لے کر اتا ہے ان صلاحیتوں کو ظاہر ہونے اور بڑھنے کا موقع دینا والدین کا کام ہے بچے کی صلاحیتیں اسی صورت میں اُجاگر ہوسکتی ہے جب کہ والدین اور دیگر افراد اس کے لیے ایک خاص ماحول پیدا کریں ایک ایسا ماحول جو کہ بچے کی طبیعت کے موافق ہو اس ماحول میں کھلونے بھی شامل ہیں جوکہ بچے کا دل بہلانے کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی اور جسمانی نشوونما بھی کرتے ہیں،ایک خاص عمر میں بچہ توڑ پھوڑ کی عادت کا شکار ہوجاتا ہے اس لیے اس عمر میں کھلونوں کا انتخاب اس کی موافقت سے کرنا چاہیے دراصل بچہ جیسے ہی ڈیڑھ سال کا ہوتا ہے اس کی طبیعت میں کچھ آزادی آجاتی ہے اور وہ اپنے طور پرگھرداری کرنا چاہتا ہے کچھ کچھ پریشان بھی رہتا ہے کیونکہ وہ نہ تو چیزوں کے بارے میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اور نہ اپنے طور پر اس کا صحیح استعمال جانتا ہے اس طرح اس کی طبیعت میں ایک کھیچاؤ سا پیدا ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ بے ارادہ یا دانستہ توڑ پھوڑ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے والدین کی فنکارانہ تربیت خوش دلی اور قوت برداشت بچوں کو تخریبی کاروائیوں سے روکنے کا ذریعہ بن سکتی ہے اور کھلونوں کا موزوں انتخاب بھی اس سلسلے میں ممد ثابت ہوسکتا ہے ننھے بچوں کے کھلونے نرم ساخت کے ہونے چاہییں خریدتے وقت خریدتے وقت دیکھ لیں کہ ان کے کنارے یا بعض حصے سخت تیز اور نوکیلے نہ ہوں کیونکہ ننھے بچے کھلونوں کو منہ میں ڈال لیتے ہیں اس لیے ان کا محفوظ ہونا نہایت ضروری ہے،بچوں کی تربیت میں جوڑنے والے کھلونے ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں مثلاً مختلف تعمیری سیٹ(Construction Sets) ان کے مختلف حصوں کو جوڑ کر بچے چیزیں بناتے رہتے ہیں تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تخلیقی مواد مہیا کرنا بھی ضروری ہے مثلاً پینٹس(Paints) رنگدار پنسلیں چاک پلاسٹر اور مٹی وغیرہ ایسی اشیا بچے کی تخلیقی نشوونما کرتی ہیں اور بچے ان کے استعمال سے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرسکتے ہیں پہیوں والے کھلونے مثلاً سائیکلیں موٹریں گاڑیاں ویگن وغیرہ جن میں کہ بچے سوار ہوکر کھیلتے ہیں بچوں کی جسمانی نشوونا کرنے میں مدد دیتے ہیں ایسی چیزوں کی ساخت نہایت مضبوط ہونی چاہیے کیونکہ بچے ان کو بہت درشتی اور تندی سے استعمال میں لاتے ہیں ان میں نشستیں(Seats) آرام دہ ہونی چاہییں اور باقی حصے بھی مضبوط اور محفوظ ساخت کے ہونے چاہییں۔بچوں کے لیے کتابیں کھیل کا اہم حصہ ہیں آپ بچوں کے لیے ایسی کتابوں کا انتخاب کریں جن میں شروع رنگوں کے ساتھ ساتھ مشرقی ماحول کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہوں اور بچہ کتاب سے کوئی اجنیبت محسوس نہ کریں تین سے پانچ سال کی عمر تک بچہ کتابوں کی بیشتر چیزیں پہنچانے لگتا ہے اس عمر میں بچوں کو جن دو باتوں کا شعور پیدا ہوتا ہے وہ رنگوں سے دلچسپی اور پھر کہانیوں سے شوق ہے عمر کے انہیں ابتدائی ایام میں بچہ اپنے آپ کو بے سہارا محسوس کرتا ہے اس لیے ایسی تصویریں اور کہانیاں اس کے لیے مفید ہوتی ہیں جو اسے ڈھارس پہنچائیں اور اس میں ہمت اور قوت ارادی پیدا کریں بھیانک تصاویر اور ڈراونی کہانیاں بچوں کو خوفزدہ کرتی ہے اور ان کی ذہن پر دہشت بٹھاتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے