Makeup Masnoaat Bhi Hui Giraan

میک اپ مصنوعات بھی ہوئیں گراں

ہفتہ جولائی

Makeup Masnoaat Bhi Hui Giraan
رابعہ عظمت
سجنا سنورنا خواتین کا شوق اور ضرورت بھی ،میک اپ کے بغیر خواتین خود کو ادھوراسمجھتی ہیں۔ عورت امیر ہو یا غریب خواتین خوبصورت نظر آنے کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق پیسے خرچ کرتی ہیں۔جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو خوب سے خوب تردکھائی دینے کیلئے میک اپ پر لاکھوں روپے اڑانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔میک اپ کے استعمال سے خواتین حسین ومنفرد نظر آنے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔

پاکستان میں کوئی بھی حکومت آئے وہ سب سے پہلے میک اپ مصنوعات کے ہی درپے ہوتی ہیں اور بناؤ سنگھار کی اشیاء پر ٹیکس نافذکردیا جاتا ہے ۔اب نئے بجٹ میں بھی میک اپ پروڈکٹس بھی نشانے پر رہیں اور بیوٹی پارلر سمیت سامان پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھادی گئی۔

(جاری ہے)


حالیہ بجٹ کے مطابق سرخی پاؤڈر،مسکارا،لپ سٹک،لپ گلاس ،آئی بروہو یا آئی لائنر میک اپ کی تمام آئٹمز کے داموں میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔

بیوٹی پراڈکٹس کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلرز کے ریٹ بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں بیوٹیشنز کو اپنے کام میں مندے کا دھڑکابھی لگ گیا ہے اور کیا خواتین بنا سنگھار چھوڑ دیں گی؟یا اپنے خاوندوں کی جیبیں خالی کریں گی ،یہ سوچ کر شوہروں کے دل بھی ہلکے ہونا شروع ہو گئے خواتین کا کہنا تھا کہ حکومت جب ہر چیز پر ٹیکس لگا رہی ہے تو ایسے میں میک اپ کو اگر معاف ہی رکھا جاتا تو کوئی بڑی بات نہ تھی خواتین کا کہنا ہے کہ مہنگا ئی جتنی بھی ہو میک اپ تو وہ کریں گی چاہے اس کیلئے انہیں مہنگا کاسمیٹکس ہی خریدنا پڑے خواتین نے میک اپ مہنگا ہونے کی ٹیشن دے دی ہے اپنے گھر والوں کو اب وہ جانیں اور مہنگائی ۔

ٹیکس کے اعلان کے بعد شہر میں قائم بیوٹی پارلرز کے خلاف شکایات موصول ہورہی ہیں کہ وہ ہوشرباریٹس وصول کررہے ہیں عام دلہن تیار کرنے کیلئے بیس سے 25ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں۔
کوئی شک نہیں کہ سجنا سنورنا نہ صر ف صنف نازک کی سرشت میں شامل ہے بلکہ اس کا ایسا بنیادی اور جائز حق بھی جس پر قدغن لگانا امر محال ہے ۔دنیا کی معلوم تاریخ میں مدفون لگانا امر محال ہے ۔

دنیا کی معلوم تاریخ میں مدفون تہذیبوں سے ملنے والے آثار یہ حقیقت آشکار کرتے ہیں کہ خواتین ہمیشہ سے آرائش جمال کے اپنے بنیادی حق کو استعمال کرتی آئی ہیں۔ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ جہاں ہر شے میں تبدیل آیا وہاں سنگھارکے انداز واطوارہی نہ بدلے بلکہ اس کے لئے مراکز کھل گئے جو بیوٹی پارلر کہلاتے ہیں۔ اب اُن سے بھی انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔


فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق بیوٹی پارلر لاکھوں روپے کما کر ٹیکس نہ ہونے کے برابر ادا کررہے ہیں ۔جہاں تک بیوٹی پارلرز کا تعلق ہے ۔ان کی آمدنیوں کے بارے میں قیاسات اپنی جگہ اس حقیت کو جھٹلا یا نہیں جا سکتاکہ یہ اگر گلی محلے کی سطح پر بھی چل نکلیں تو اچھی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ جو برانڈز بن چکے ہیں ان کی برانچوں میں کام کرنے والے اسٹاف کی تنخواہ ہیں تو خاصی معقول ہوں گی ۔

کوئی شک نہیں کہ معقول آمدن یاوہ آمدن جس کی حد مقرر کی جاچکی پر ٹیکس وصول کرنا حکومت کا حق ہے لیکن یہ ہو گا کیسے؟ان کی آمدنی کا تخمینہ کیسے لگایا جا سکے گا ،اس حوالے سے طریقہ کاروضع کرنا ہو گا۔
ملک بھرکے کیابڑے کیا چھوٹے،ہر شہر میں پارلروں کی بھرمارہے ۔منظم طریقے سے پیش رفت سود مند ثابت ہو سکتی ہے ۔اس حوالے سے ان کی رجسٹریشن ضروری ہے ،ہاں بلحاظ آمدن ان کی درجہ بندی بھی کی جاسکتی ہے کہ کروڑوں اور ہزاروں کمانے والے پر یکساں ٹیکس کا نفاذ انصاف کی ذیل میں نہ آئے گا۔


اس وقت لاہور کی فضا بیوٹیشنز اور’ہےئرڈریسرز الائنس‘کے کاسمیٹکس پر لگے ٹیکسز کے خلاف نعروں سے گونج رہی ہے۔کاسمیٹکس پر ٹیکس لگنے سے بیوٹی پارلر چلانے والی خواتین کاروزگار متاثر ہوا ہے اور اس کا روبار سے وابستہ کم آمدنی والی خواتین بیوٹی پارلرز پر لگائے جانے والے 16فیصد ٹیکس کو ظلم قرار دے رہی ہیں ۔معروف بیوٹیشن کے مطابق کہ اس پیشے سے انتہائی مجبور اور ضرورت مند خواتین منسلک ہیں، کوئی بیوہ ہے ،کسی کا شوہر کوئی کام نہیں کرتا تو کوئی اپنے خاندان کے لیے سہارا ہے ۔

کئی خواتین اپنے ایک کمرے کے گھرمیں ایک کرسی رکھ کے حلال روزی کمارہی ہیں ۔
یہ بم غریبوں پر ٹیکس بم گرایا گیاہے اس لیے حکومت کویہ فیصلہ واپس لینا چاہیے ۔ان ٹیکسوں سے جہاں کم آمدن والے چھوٹے بیوٹی پارلرز اور گلی محلوں میں کھلے ہےئر سیلونز سے منسلک افراد کو معاشی طور پر دھچکا لگا ہے وہیں بڑے اور پوش علاقوں کے مہنگے بیوٹی پارلرز بھی اس ٹیکس سے متاثر ہورہے ہیں ۔

بیوٹیشن کا کہنا ہے کہ پراڈکٹس بہت مہنگی ہو چکی ہیں ،مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے ،سیلون مالکان کہاں سے بہتر تنخواہ دیں جبکہ خود ان کی بچت ٹیکسوں میں جارہی ہے ۔ہر سال بجٹ میں کاسمیٹکس ،بیوٹی پارلز اور ہےئر ڈریسرز کی مصنوعات کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے ٹیکسوں کی بھرمار کر دی جاتی ہے تاہم لوکل اور امپورٹڈ آئٹمز پر لگے ٹیکس کو اس بار بیوٹیشنز اور ہےئر ڈریسرز خاموشی سے قبل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

امپور ٹڈ کاسمیٹکس آئٹمز کے قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں ۔
بیوٹی پارلرز میں کام کرنے والی خواتین کہتی ہیں کہ بجٹ کے بعد تنخواہیں بڑھنے کی امید تھی تاہم اب ایسا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ۔خواتین نے ٹیکسز کے حالیہ اضافے پر ناگوار ی کا اظہار کیا ہے ۔کاسمیٹکس پر ٹیکس سے خواتین کے ساتھ ساتھ ارکان پارلیمنٹ بھی ناخوش ہو گئی ہیں جبکہ کچھ خواتین نے دھرنا دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔

وفاقی بجٹ میں کاسمیٹکس پر دس سے پندرہ فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے ،خواتین نے حکومتی فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ،ایک خاتون کا کہنا تھا کہ میک اپ کے بغیر وہ باہر کیسے نکلے گی؟اعلیٰ عہدیدار خواتین نے بھی میک اپ کے سامان پر ٹیکس لگنے پر برہمی کا اظہار کیا ،ہر طبقے کی خواتین نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کا سمیٹکس پر اضافی ٹیکس فوری واپس لے۔

خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت کم ازکم خواتین کو تو خیال کرے ،میک اپ کے بغیر خواتین کیا کریں گی ۔دس سے پندرہ فیصد ٹیکس کے نفاذ سے سرخی ،نیل پالش ،مسکارہ،آئی لائنر ،لپ گلوس،بلش آن سمیت ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے حالیہ بجٹ میں ایک جانب تو میک اپ مصنوعات سمیت بیوٹی پارلرز پر ٹیکس میں اضافہ کرکے بجلیاں گرادی ہیں تو دوسری جانب لیڈیز ملبوسات کی قیمتوں میں بھی ہو شربا اضافہ ہو گیا ہے ۔

وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کایہ عالم ہے کہ ایک طرف دوکاندار رورہا ہے تو ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والی خاتون بھی تشویش کا شکار نظر آتی ہے ۔ایک عام لپ اسٹک جو 120روپے میں مل جاتی تھی۔اس کی قیمت150روپے سے بھی بڑھ گئی ہے ۔المیہ تویہ ہے کہ متعلقہ اداروں میں چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی بدولت تاجروں سے لیکر عام دوکانداروں نے بھی خود ساختہ قیمتیں کئی گنابڑھالی ہیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ۔


ڈیفنس کی کسی مارکیٹ کا تو ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کیونکہ وہ پوش علاقوں کی رہائشی خواتین کے پسندیدہ شاپنگ کے مراکز ہیں ۔جن کا لان سوٹ بھی کسی بڑے برانڈ کا ہوتا ہے اور ان کے ایک سوٹ کی قیمت کسی عام گھرانے کا پورا مہینے کا بجٹ بن جاتا ہے ۔اگرشفون لان وریشمی ملبوسات کی قیمتیں بڑھ بھی جائیں تو شاید انہیں کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔کیونکہ مہنگائی کا موضوع یا ایشو کبھی رہا ہی نہیں ۔

بجٹ کے گورکھ دھندے سے عام خاتون خانہ سے لیکر متوسط طبقے کی ملازمت پیشہ خواتین براہ راست متاثر ہوتی ہیں ۔مڈل کلاس کی خاتون کو ایک فکس ماہانہ آمدنی میں ہی نہ صرف اپنا کچن چلانا ہوتا ہے بلکہ غمی ،خوشی میں شریک ہونا پڑتا ہے۔
لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتاہے ہم اچھے لباس کے ذریعے ہی اپنی شخصیت کو پر کشش اور منفرد بناتے ہیں اس کے ساتھ لباس کا انتخاب بھی ایک فن ہے اور آج کل مقابلے کی دوڑ میں خواتین انتخاب سے زیادہ مقدار پر توجہ دیتی ہیں ۔

کیونکہ انہوں نے اپنی سہیلیوں اور حلقہ احباب میں فخر سے بتانا ہوتا ہے کہ اس بار اتنے ڈیزائزلان کے جوڑے خریدے۔ایک عام متوسط طبقے کی عورت بھی دوسے زیادہ لان کے سوٹ با آسانی خرید سکتی تھیں ۔عموماً بازاروں میں لان کا معیاری سوٹ پندرہ سو میں بھی دستیاب ہے ۔جن کو برانڈڈ لان پہننے کا کریز ہے ۔وہ انہی برانڈڈوکمپنیوں کی نقل پہن کر بھی اپنا شوق پورا کر لیتی ہیں لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حالیہ بجٹ میں ٹیکس کی بھر مانے ان سے یہ حق بھی چھین لیا ہے۔

خواتین کے ملبوسات ،آر ٹ فیشل جیولری اور لیڈیز شوز کی قیمتیں بھی آسمان تک پہچادی ہیں ۔جو ایک لان کا سوٹ دوہزار میں مل جاتا تھا ۔اب وہ 25سو سے 28سو میں مل رہا ہے ۔ایک سروے کے مطابق پہلے جو خاتون لان کے پانچ سوٹ خریدتی تھیں۔حکومت کی حالیہ معاشی پالیسیوں کی بدولت صرف اس کی قوت خرید بھی کم ہو کر دوسوٹوں پر آگئی ہیں۔
مزنگ بازار کے دوکاندار کا کہنا ہے کہ عیدالفطر پر بھی لان کے ملبوسات کی خریداری تسلی بخش نہیں ہوئی۔

حالانکہ ہر ایک لان کے جوڑے پر سیل بھی لگائی گئی تھی لیکن پھر خواتین کا یہ اصرار تھا کہ قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور کم کی جائیں۔دوکاندار نے مزید بتایا کہ ہر سال لان کے برانڈ سوٹ ہاتھوں ہاتھ بک جاتے تھے لیکن اس بار اس قدر مندے کا رجحان ہے کہ متعدد خواتین تو ونڈو شاپنگ کرنے پر ہی اکتفا کررہی ہیں اور بہت سی خواتین جو ہماری مستقل گاہک ہیں انہوں نے بھی صرف ایک دو سوٹ سے زیادہ خریداری نہیں کی۔

اب میں پریشان ہوں کہ لاکھوں روپے کا جومال میں نے دوکان میں رکھا ہوا ہے اگر اس بار سیزن نہ لگا تو کیا ہو گا؟۔میرا خسار اکون بھرے گا۔؟
ایک اور دوکاندار نے بتایا کہ ہم نے تو اس مرتبہ گرمی کے سیزن کے شروع میں ہی لان کے ملبوسات پر سیل لگادی تھی اور ایک جوڑے کے ساتھ دوسرا جوڑا مفت دینے کی آفر بھی لکھ کر لگان رکھی ہے ۔لیکن خلاف توقع ایسا رش دیکھنے میں نہیں آیا۔

جس کی ہم نے امید کررکھی تھی اور اب رہی سہی کسر حالیہ بجٹ نے نکال دی ہے ۔اب خواتین گھر کے اخراجات پورے کرے گی یا ہم سے آکر لان کے سوٹ خریدے گیں۔
خواتین وبچیوں کی ریڈی میڈ گارمنٹس کا کاروبار کرنے والے کے مطابق کالج کی طالبات دو تین لان کی شرٹس خرید کرلے جاتی تھیں ۔ورکنگ وویمن بھی شاپنگ کرتی تھیں ۔لیکن بجٹ نے تو کاروبار کا براحال کردیا ہے۔

خواتین نے تو لگتا ہے کہ شاپنگ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔”اب خواتین شاپ پر آتی ہیں ۔شرٹس دیکھتی ہیں اور قیمتیں پوچھ کر چلی جاتی ہیں۔
بازاروں میں شاپنگ کے لیے آنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی میں باورچی خانہ چلانا مشکل ہو گیا ہے ۔دال روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں ایسے میں کپڑے کون خریدے گے۔بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں نے تو ہوش اڑا کر رکھ دئیے ہیں ۔

گرمی کے موسم میں بجلی کابل ادا کرے یا گھر چلائے یا پھر اپنے لیے کچھ خریدے ۔اور اوپر سے میک اپ کے سامان پر ٹیکس میں دوگناہ اضافہ کرکے حکومت نے ہمارے ساتھ خوب دشمنی نبھائی ہے ۔بیوٹی پارلرز والوں نے بھی اپنے ریٹ بڑھا لیے ہیں۔ پہلے ہی گھر کے اخراجات میں سے پیسے بچا بچا کر بیوتی پارلر جاتی تھیں ۔
ہماری حکمت نے تو ہم سے سجنے سنورنے کی استطاعت بھی چھین لی ہے ۔

لان کے برانڈز سوٹوں کا کیا کہنا وہ تو پہلے ہی ایک عام عورت کی رینج سے باہر ہیں ۔انار کلی ،اچھرہ ورنگ محل،مزنگ کے بازاروں میں مشہورومعروف برانڈڈ کی نقل کے ڈیزائنزسوٹ دستیاب ہیں ۔لیکن اب ان کی خریداری میں بھی فرق آگیاہے ۔بازار میں شاپنگ کے لیے آئی ایک ورکنگ وویمن نے بتایا کہ میرے لیے اب خاصا مشکل ہو گیا ہے کہ میں اپنی تنخواہ سے گھر کا بجٹ ترتیب دوں۔ اب تو یہ نوبت آگئی ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی کی ضروری ولازمی اشیاء خریدتے وقت بھی کئی بار سوچنا پڑتا ہے ۔اخراجات اوپر جارہے ہیں اور تنخواہ میں صرف دس فیصد اضافہ غریب کی غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-06

Your Thoughts and Comments

Special Shopping Tips For Women article for women, read "Makeup Masnoaat Bhi Hui Giraan" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.