بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریمشترکہ پیسوں سے خریداری

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین -
مشترکہ پیسوں سے خریداری
آپ چند خریدار ساتھ ملائیں اور رقم اکٹھی کرکے مطلوبہ چیز ہول سیل نرخوں پر خریدیں۔اس میں دوستوں ،رشتہ داروں اور ہمسایوں کو آسانی سے شامل کیا جاسکتا ہے
مشترکہ پیسوں سے خریداری:
یہ تو آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ تھوک میں مطلوبہ چیزیں خریدنے سے چیزیں سستی پڑتی ہیں اور اگر آپ میں تھوک کے بھاؤ چیزیں خریدنے کی ہمت نہیں ہے توایک راستہ یہ بھی ہے کہ آپ گروپ کی شکل میں تھوک کے بھاؤ پر خریداری کریں اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ چند خریدار ساتھ ملائیں اور رقم اکٹھی کرکے مطلوبہ چیز ہول سیل نرخوں پر خریدیں۔اس میں دوستوں ،رشتہ داروں اور ہمسایوں کو آسانی سے شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ روزمرہ استعمال کی ان گنت چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہول سیل نرخوں پر خریدا جاسکتا ہے اور اس مشترکہ خریداری سے یہ آسانی ہوگی کہ آپ کو اور آپ کے ساتھ مشترکہ خریداری کرنے والوں کو چیزیں سستی ملیں گی۔مثال کے طور پر کراچی کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والے کارکنوں کو ایک جیسے جوتوں کی ضرورت تھی انہوں نے ایک کارکن کو اپنا نمائندہ بنایا اور جوتے کی دکان پر ایک ساتھ پہنچے اور اس طرح ایک پرائیویٹ ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو جرابوں کی ضرورت تھی انہوں نے بھی مشترکہ خریداری کے اصول کے تحت ہول سیل خریدار ی میں 20 فیصد رعایت حاصل کی،گھریلو خواتین بھی خریداری کے اس طریقے کو استعمال کرکے مہنگائی کے دباؤ کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔
ادھار اور قسطوں پر خریدای نہ کریں:
ادھار چیزیں ایک مجبوری تو ہوسکتی ہیں اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو یہ پریشانی خریدنے کے برابر ہے اور انتہائی مجبوری کی حالت میں تو ادھار خریداری کس حد تک جائز ہوسکتی ہیں اور وہ بھی بنیادی ضروری چیزوں کے لیے لیکن ظاہری شان و شوکت اور بڑائی کے لیے ادھار یا قسطوں پر چیزیں خریدنا کسی طرح بھی جائز نہیں اس طرح کی خریداری مسائل میں بے پناہ اضافہ کردیتی ہیں اور اس انداز سے خریدی گئی چیز اس قوت تک آپ کو پریشان کرے گی جب تک اس کی کل رقم ادا نہیں ہوجاتی۔آج کل مکان سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی آسان قسطوں پر بیچنے کی تجارت عام ہے اور لوگوں میں اس کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ قسطوں پر بیچی جانے والی اشیاء کی 30 سے 40 فیصد قیمت زیادہ رکھی جاتی ہیں بہت سارے گھرانے یہ اشیاء قسطوں پر خریدتے ہیں اورہر ماہ اپنی آمدن کا ایک خاص حصہ قسطوں کی ادائیگی کی نذر ہوجاتا ہے اس طرح وہ ایک تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہیں اور قرض کی زنجیر میں جکرے رہتے ہیں کسی دکان سے ادھارچیز اٹھا لینا تو بہت آسان ہیں لیکن اس کی قسط وار ادائیگی ایک مشکل بات ہے اورلوگ ادھار چیزیں خریدتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ تمام قسطوں کی ادائیگی تک انہیں ناخوش رہنا پڑے گا ،نقد خریداری پر ایک تو آپ زائد رقم دینے سے بھی بچ جائیں گے دوسرے حقیقی خوشی کی حقدار ہوں گی۔
فہرست بنائیں:ان سب باتوں کے متعلق سوچ بچار کرلینے کے بعد جو اشیاء خریدنی مطلوب ہوں ان کی فہرست مرتب کرنا بہت ضروری ہے خریداری کی فہرست آپ کو مطلوبہ اشیاء منتخب کرنے چننے اور خریدنے میں مدد دیتی ہے اپنی فہرست کو دوحصوں میں تقسیم کرلیں ایک حصے میں باقاعدہ خرید کی جانے والی اشیاء مثلاً کھانے پینے کی چیزیں گھر کی دیگر ضروریات اور ذاتی اشیاء شامل کرلیں اور دوسری فہرست ان چیزوں کی بنائے جو آپ کبھی کبھار خریدتی ہیں اور جو زیادہ روپیہ اوروقت ہونے کی صورت ہی میں خریدی جاسکتی ہیں۔عملاً وہ فہرست کارآمد ہوسکتی ہیں جس میں تمام اشیاء کی تفصیل درج ہو تاکہ ان کا انتخاب جلد اور آسانی سے ہوسکے۔اپنی خریداری کی فہرست کو اس طرح ترتیب دیں کہ جو چیز دکان سے خریدنا ہو وہ پہلے لکھی جائے اور ایک جیسی اشیاء کو ساتھ ساتھ لکھیں اس طرح آپ سارے بازار سے ترتیب وار سودا خریدتی چلی جائیں گی۔اگر اس چیز کو ملحوظ نہ رکھا جائے گا تو بازار میں کئی چکر لگانا پڑیں گے یوں آپ کا وقت بھی جائع ہوگا اور تھکن بھی محسوس ہوگی۔جب آپ اپنے خاندان کے ہمراہ خریداری کو جائیں تو مختلف افرادخانہ کے سپرد کردیں۔تاکہ سب لوگ بیک وقت خریداری میں مصروف ہوجائیں یوں بہت سا وقت بچ جائے گا اور دوسرے مختلف آرا سے چیزوں کے انتخاب میں بدمزگی پیدا نہ ہوگی،کثیر افراد والے خاندانوں میں آسانی کے وسائل محدود اور ضروریات غیر محدود ہوتی ہیں آج کے دور میں سائنسی شعور کے ارتقا کی بدولت اشیا کی دستیاب اور فراہمی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اور نئی طرز اور مختلف انواع اقسام کی اشیا نظر آنے لگی ہیں پہلے زمانے میں سارا لین دین”مال کے بدلے مال“ کی صورت میں ہونا تھا مگر اب دنیا کے ہر گوشے میں زندگی کے تمام شعبوں کا نظام پیسے کے دم سے قائم ہے ان تبدیلیوں اور ان کے علاوہ دوسری سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کے باعث بھی خریداری اور اشیاے ضرورت کا انتخاب ایک مسئلہ بن گیا ہے،عام طور پر مختلف اشیاء کی خریداری کسی نہ کسی طرح انسان کی تین بنیادی ضروریات سے وابستہ ہوتی ہیں اس لیے جو چیز بھی خریدی جائے اس کے متعلق اطمنیان کرلیں کہ:آپ کے پیسے کا ممکن حدتک بہترین بدل ہے متعلقہ ضروریات اور خواہشات کی تکملیل ہوتی ہیں۔چیز کے استعمال سے آپ کو فائدہ پہنچتا ہے تسکین ملتی ہے اور اطمنیان نصیب ہوتا ہے،زیر تحریر حصے کا مقصد آپ کو اشیاء کی خریداری میں راہنمائی مہیا کرناہے اس میں مختلف اشیاء ضرورت کے متعلق اہم ترین معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ آپ محافظ انتخاب اور دانشمندانہ خریداری کرسکیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے