بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریرہائش سے متعلقہ خریداری

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رہائش سے متعلقہ خریداری
ایک صوفہ سیٹ دیکھنے میں تو خوبصورت اور نفیس معلوم ہوتا ہو اور لیکن ممکن ہے کہ بیٹھنے پر آرام دہ محسوس نہ ہو دوسرا صوفہ آرام دہ اور پائدار ساخت اور مناسب قیمت کا ہوسکتا ہے
فرنیچر کا انتخاب اور خریداری:
فرنیچر کے انتخاب میں اپنی اہلیت کو بڑھانے کے لئے نہ صرف علم اور واقفیت ہی درکار ہیں بلکہ چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کے شعور کی بھی ضرورت ہوتی ہے فرنیچر کی دوکانوں پر رسالے پمفلٹ اور کیٹالاگ(Catalouge )ہوتے ہیں ان میں مختلف ڈیزائنوں کی کرسیاں میزیں،پلنگ وغیرہ کے نمونے موجود ہوتے ہیں مختلف ڈیزائنوں کا موازنہ کرنے کے بعد اور تمام نقائص اور خوبیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی فرنیچر کا صحیح انتخاب ہوسکتا ہے ایک ہی فرنیچر پیس میں تمام خوبیوں کی موجودگی محال ہے مثال کے طور پر ایک صوفہ سیٹ دیکھنے میں تو خوبصورت اور نفیس معلوم ہوتا ہو اور لیکن ممکن ہے کہ بیٹھنے پر آرام دہ محسوس نہ ہو دوسرا صوفہ آرام دہ اور پائدار ساخت اور مناسب قیمت کا ہوسکتا ہے لیکن سائز میں زیادہ بڑا ہوسکتا ہے اسی طرح ہر چیز خریدتے وقت مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنے کے بعد ہی فرنیچر کا آرڈر دیں،فرنیچر خواہ بیٹھنے کے لیے ہو خواہ سونے کھانا کھانے کام کرنے اور کھیلنے کے لیے کفایت اور استعمال کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ،پائداری استعمال میں آرام اور آسودگی موزونیت اور ہم آہنگی وغیرہ بڑے قابل غور آمور ہیں،فرنیچر ایسا ہو کہ آسانی سے اٹھایا جاسکے کیونکہ گھر میں فرنیچر کو ادھر اُدھر تبدیل کرتے ہی رہتے ہیں کرسیاں اور پلنگ خاص طور پر آرام دہ ہونے چاہیں کیونکہ بیٹھنے اور سونے کے کام آتے ہیں ہفت رنگی سے مراد فرنیچر کی وہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر ایک فرنیچر کئی ایک مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتا ہے اس سے نہ صرف پیسے کی بلکہ جگہ کی بھی بچت ہوتی ہیں،فرنیچر خریدتے وقت جگہ کی موجودہ مقدار کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ایسا نہ ہوکہ آپ اتنے بڑے بڑے پیس خریدلیں کہ آپ کے گھر میں پورے ہی نہ آئیں فرنیچر کی پائداری کا انحصاراُس کی طبی مضبوطی پر ہے طبعی مضبوطی کا دارومدار میٹیریل کی قسم اور کوالٹی ساخت کے طریقے اور دوسرے تکمیلی مراحل پر ہوتا ہے مثال کے طور پر اچھی قسم کی لکڑی مضبوط ساخت اور بہتر تکمیلی عمل کے استعمال سے عمدہ اور دیرپا فرنیچر بنتا ہے مضبوط میٹیریل اورمضبوط ساخت کے فرنیچرکو جلد مرمت کروانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی پینٹ کیے ہوئے فرنیچر کو دوبارہ پینٹ کروانے کی ضرورت ہوگی اس کے برعکس ویکس پالش زیادہ دیرپا ہوتی ہے،
فرنیچر کی اقسام:
استعمال کے لحاظ سے فرنیچر کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے مثلاً پلنگ صوفے،کرسیاں،میزیں،ڈسک اور الماریاں وغیرہ۔
پلنگ: پلنگ بھی متعدد اقسام کے ہوتے ہیں مثلاً نواڑی شپرنگ والے اور فوم(Foam) میٹرس والے فوم کے علاوہ میٹرس دوسری اشیا سے بھی بھر کے بنائی جاتی ہیں مثلاً ناریل کے بال روئی اور ہوا وغیرہ روئی والے گدیلے سب سے زیادہ سستے ہوتے ہیں فوم ربڑ کا شمار عمدہ قسم کے میٹیریل میں ہوتا ہے فوم ربڑ کے بہت سے فوائد ہیں:صاف رکھنا آسان ہے وزن میں ہلکا ہوتا ہے اور اس میں کیڑے وغیرہ پرورش نہیں پاسکتے دیرپا اور لچکدار ہوتا ہے،پلنگ پوش بستر کا اہم حصہ ہیں،پلنگ پوش کے رنگ اور ڈیزائن کے انتخاب میں خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ ان سے پورے کمرے کی تزئین اور سجاوٹ متاثر ہوگی ہمیشہ کمرے سے ملتا جلتا اور اہم آہنگ رنگ اور ڈیزائن منتخب کریں کپڑا اس قسم کا ہو جو کہ آسانی سے دھویا اور استری کیا جاسکتا ہو وزن میں قدرے بھاری ہو تاکہ کپڑا اکٹھا نہ ہوجائے۔
صوفے: چسٹر فیلڈ کوچ،سیٹی،دیوان پورٹ اور صوفے ایک سے زیادہ لوگوں کے لیے بیٹھنے کی جگہ مہیا کرتے ہیں چسٹر فیلڈ سے مراد گدیلے والا صوفہ ہے جس کے بازوؤں پر بھی گدیلے لگے ہوں اور کپڑا چڑھا ہو،
کوچ: کوچ کی پشت درمیان سے نیچی ہوتی ہے اور ایک کنارے سے اونچی ہوتی ہے دیوان سے مراد ایسا صوفہ ہے جس کے نہ پشت ہوتی ہے اور نہ بازو اور جوبوقت ضرورت پلنگ میں تبدیلی کیا جاسکتا ہے،سیٹی صوفہ صرف لکڑی ہی کا بنا ہوتا ہے ایک مثالی اور اچھے صوفے میں مندرجہ ذیل خصوصیات موجود ہونی چاہیں خریدنے سے پہلے ضرور دیکھیں کہ:
۱۔ضرورت سے زیادہ وزنی نہ ہو لیکن مضبوط اور آرام دہ ہو،
۲۔چوڑائی اور لمبائی میں اس قدر ہوکہ تین افراد آسانی سے بیٹھ سکیں،
۳۔کافی نیچا اور گہرا ہو تاکہ اس میں آنسان آسانی سے سستا سکے،
۴۔بازو آرام دہ ہوں،
۵۔صوفے پر چڑھا ہوا کپڑا پائدار رنگوں اور ڈیزائن میں موزوں اور دیدہ زیب ہو،
کرسیاں:
کرسیوں کے انتخاب میں سب سے اہم چیز ان کی مضبوطی اور آرام دہ ہونا ہے لکڑی کی مضبوطی کا جائزہ لینے کے لیے کرسی پر بیٹھ کر یا کوئی بھاری چیز رکھ کر دیکھیں جوڑ مضبوط ہونے چاہییں اگر فرنیچر میں بیٹھنے سے کسی طرح کی چرچراہٹ کی آواز پیدا ہو تو اسے رد کر دیں،
۱۔کرسی کی اونچائی بیٹھنے والے کی پنڈلی کی لمبائی سے کم ہونی چاہیے،
۲۔سیٹ کی لمبائی ران کی لمبائی سے کم ہونی چاہیے ورنہ گھٹنے پر بوجھ محسوس ہوگا،
۳۔سیٹ کی چوڑائی کافی ہونی چاہیے تاکہ بیٹھنے والا ادھر اُدھر ہل جل سکے،
۴۔پشت اور سیٹ میں پیچھے بیٹھنے کی جانب جھکاؤ موجود ہو،
۵۔پشت اور نشت کا درمیانی زاویہ 95 درجے یا اس سے زیادہی ہونا چاہیے،
کرسی میں اگر سر اور بازو کو سہارا دینے کے لیے جگہ موجود ہو تو اس کے آرام دہ ہونے میں اضافہ ہوجاتا ہے،

(0) ووٹ وصول ہوئے