اُردو پوائنٹ کتابیں ناولاے جنوں دشت ہے کہ منزل

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

کچھ اپنے بارے میں
”اے جنوں دشت ہے کہ منزل“ آپ کے ہاتھوں میں ہے یہاں تک آنے میں اسے کن مراحل سے گزرنا پڑا، یہ میں جانتی ہوں یا میرا رب۔ میں کبھی نہیں بھول پاؤں گی اُس سانحہ کو جو اس کی تخلیق کے دوران پیش آیا۔ تب میں نے دو ایسی ہستیوں کی جدائی کا کرب سہا جو شائد ہی میں لفظوں میں بیان نہ کر سکوں۔
پھر بھی یہ کہانی اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئی۔
میں نے جب اس کہانی کو لکھنا شروع کیا تھا تو میں بہت پرُجوش تھی۔ ابھی تین قسطیں ہی لکھیں تھیں سب سے بڑی بہن بے شک وہ عرصہ دراز سے علیل تھیں۔ مگر نوجوانی ہی میں ہم سے بچھڑ گئیں۔
ابھی چھٹی قسط پہ ہی پہنچی تھی کہ امی کی جدائی کا کرب برداشت کرنا پڑا۔
اور وہ چپکے سے ہم سے دور چلی گئیں اور ابدی نیند جا سوئیں… یہ سانحہ معمولی نہیں تھا۔ اس نے میرے اندر سب کچھ ملیامیٹ کر دیا۔ تخیل سے لے کر عمل تک سناٹا چھا گیا۔ یہ سناٹا ساری زندگی پہ غالب آ سکتا تھا اگر میں خود کو نہ سنبھالتی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتنا حوصلہ دیا کہ اپنے بچوں کی خاطر جینے کی امنگ کو پھر سے زندہ کیا۔ خود کو سنبھالنا مشکل تو تھا لیکن… یہ جان کر کوئی بھی تو اب ایسا نہیں جو اس خلا کو پرُ کر سکے… دل پھر سے بکھر گیا۔
انسان خود کچھ بھی نہیں ہوتا جو کچھ بھی ہے پیدا کرنے والا ہے۔ پھر وہ والدین جو ہماری شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں وہ نہیں رہتے لیکن ان کا نام زندہ رہ جاتا ہے۔ ماں… ٹھنڈی چھتنار، مشفق چہرہ، صبر اور برداشت کی دیوی، میٹھی مسکان لبوں پہ سجائے مشکل سے مشکل وقت پہ حوصلہ دینے والی ماں۔ آج کہیں بھی تو نظر نہیں آتی۔
زندگی میں سبھی کچھ ہے۔ مگر ماں باپ کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔ آج سے پانچ سال قبل میری پہلی کتاب ”تیری راہ میں رُل گئی وے“ کو اشاعت کا اعزاز حاصل ہوا۔ تب میں نے سب سے پہلے یہ خوشخبری امی کو سنائی۔ وہ سادہ لوح، سادہ مزاج خاتون تھیں۔ انھیں یہ نہیں پتا تھا کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہے اور ان کی بیٹی نے کیوں لکھا ہے۔ ہاں مگر وہ خوش ضرور ہوئیں تھیں۔ ان کے نزدیک بہت بڑی بات تھی بحیثیت مصنفہ میں ایک کتاب کی مالک و مختار بن گئی تھی۔
تب انھوں نے مجھے بہت سا پیار کیا تھا۔ ڈھیروں دعائیں دیں تھیں آج سب کی محبتوں کے باوجود یہ خلا پرُ نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالیٰ میرے والدین کی مغفرت فرمائے۔ وہ بہت نیک صفت اور درد مند دل رکھنے والے انسان تھے۔ میں جانتی ہوں میرے اس علم سے انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن میرے شخصی اوصاف میں جن خوبیوں کی پیوند کاری وہ کر گئے ہیں۔ وہی ان کے لیے توشہٴ آخرت ہوں گے۔ میں اپنے علم سے دنیاوی مشعل جلا رہی ہوں اور اس کی روشنی دور تک پھیلتی دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں۔ دنیاوی علم دنیا میں ہی رہ جاتا ہے۔ لیکن نیک نیتی کے ساتھ اچھی اور خیر کی بات کہہ دینا بھی صدقہ جاریہ ہے۔
کہانی من گھڑت لوازمات کا منبع ہوتی ہے۔ وہ صدقہ جاریہ نہیں ہو سکتی۔ مختلف مکتب ہائے فکر سے یہ شور اُٹھے گا اور مجھے کٹہرے میں لا کھڑا کرے گا۔ تب میرے پاس صرف ایک ہی جواب ہوگا۔
میں لوگوں کو تبلیغ نہیں کر رہی ہوں۔ لیکن اس برائی میں بھی حصہ دار نہیں ہوں جو فارغ و ذہن کا نتیجہ ہوتی ہیں اور جن سے کسی بھی منفی نتیجے کی امید کی جا سکتی ہے۔ میں تو جو دیکھتی ہوں اس کے مثبت پہلوؤں کو کاغذ پہ انڈیل دیتی ہوں۔ اس نیک نیتی کے ساتھ کہ اس بوجھل دور میں کوئی تو سکون کے دو لمحے چرا سکے۔
اس کے ساتھ ہی اس پیغام کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں جو میں نے اس کہانی میں دینے کی کوشش کی ہے، کیونکہ نیک نیتی ہی میں نیکی کا حصول پوشیدہ ہے۔ یہ کہانی ایسے کرداروں کے گرد گھومتی ہے جہاں ایک دوسرے کو برداشت کرنا محال ہے۔ ایسے ماحول میں معصوم اور ننھے ذہنوں کی کس طرح نشوونما ہوتی ہے اور ان کے نتائج کیا کیا نکلتے ہیں۔ پھر ان سب چیزوں کا ذمہ دار کون ٹھہرتا ہے۔ اکثر ایسے حالات میں ہم میں سے بیشتر لوگ اپنی قسمت کو ہی برا بھلا کہتے ہیں۔ اگر ہم تھوڑی سی اپنی سوچ کو بدل لیں تو ہرگز اپنی قسمت کو برا نہ کہیں کیونکہ کاتب تقدیر نے جہاں برے لوگوں سے ہمارا واسطہ ڈالا ہے۔ وہاں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے اور یہ ہماری ناشکری اور بے صبرا پن ہے کہ ہم برائی کو تو دیکھتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی قدر نہیں کرتے۔ جن کے نتائج اس کہانی کے کرداروں نے بھگتے ہیں۔
خود اعتمادی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جو نہ صرف شخصی وقار میں اضافہ کرتا ہے بلکہ زندگی کو بھی سہل بنا دیتا ہے۔ خصوصاً لڑکیوں میں خود اعتمادی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ بصورت دیگر ان کی زندگی اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے اور سہاروں کی تلاش انھیں زندہ درگور کر دیتی ہے۔ جیسا کہ اس کہانی کے مین کردار نے خفت و ذلت کا سامنا کیا۔ خود اعتمادی کا مطلب خود اعتمادی میں ہے ہٹ دھرمی نہیں کہ انسان خود کو عقل کل سمجھتے تھے۔ یہ تو اور بھی خطرناک صورتحال ہو سکتی ہے۔
بس اتنا ہی کہوں گی آج کے ٹینشن زدہ دور میں انسان کو تفریح کی ضرورت ہے۔ ایسی تفریح جو ریلیکس بھی کرے اور برائی سے بھی بچائے۔
محبت کرنے والے دلوں کے درمیاں اچھی کتاب بہترین تحفے کا سبب بنتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں۔
الیکٹرانک میڈیا کے وسیع تر نیٹ ورک کے باوجود کتاب کی اہمیت کو انھیں لوگوں کی پذیرائی اور محبت نے ختم نہیں ہونے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے بہن بھائیوں کی بھی ممنون و مشکور ہوں۔ جن کی محبتیں اور پذیرائی مجھے ہمیشہ تازہ دم رکھتی ہیں۔
اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیے گا۔
کسی بھی کتاب کو کامیاب بنانے کے لیے جتنی کوشش رائٹر کو کرنی پڑتی ہے۔ اتنی ہی کوشش پبلشر کو کرنی پڑتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں میری کتابوں کے حقوقِ اشاعت حاصل کرنے کے بعد ادارہ علم و عرفان نے اس ذمہ داری کو میری توقعات سے زیادہ بہتر طور پر ادا کیا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قارئین میری اس رائے سے اتفاق کریں گے۔
میمونہ خورشید علی

مصنف کا نام     :     میمونہ خورشید علی

میمونہ خورشید علی کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-