Pak Nagri By Muhammad Saleem Butt

پاک نگری - محمد سلیم بٹ

Pak Nagri in Urdu
کچھ اپنے قلم سے
ہوش سنبھالنے سے آج تک میری جسمانی اور ذہنی کیفیت کچھ عجیب سی رہتی ہے شکرانے اور احسان مندی کی گرفت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ساتھ ہی بے فکری اور فکر مندی کا ملاجلا رجحان کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ قومی بینک کے ایک بہت بڑے عہدے پر پہنچے کے باوجود میرا یہ تاثر ہے کہ بااثر، طاقتور، خونخوار، ظالم، بے رحم معاشرے کے سرکردہ لوگ نہ تو ہماری حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ہماری عزت نفس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔
معاشرتی ناہمواریاں اتنی زیادہ ہیں، ناانصافی کا دور دورہ کچھ ایسا ہے کہ اٹھارہ کروڑ سے چند ہزار لوگوں کو نکال کر باقی سب لوگ بے حیثیت، بے وقت ، تنکے جیسا وزن اور کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔
کہتے ہیں مسلمان تو اس دنیا کے باسی نہیں یہ تو ہر وقت اگلی دنیا کی تیاری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کی پسماندگی، جہالت اور موجودہ دنیا سے پیچھے رہ جانے کی۔
اس دنیا کی عیش و عشرت، آرام، مال و دولت پاکستان کے چند ہزار لوگوں کے لیے ہے۔ باقی لوگوں کے دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے کہ تمہاری قسمت ہی ایسی ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن کو نہ تو ہم نے کبھی تسلیم کیا ہے، نہ قبول کیا ہے، نہ اتفاق کیا ہے، نہ کسی کو برتر مانا ہے، نہ اپنے آپ کو حقیر ہونے دیا ہے۔ اسی جدوجہد، اسی کشمکش اور ان رویوں کے خلاف جنگ کا نام ہے پاک نگری۔ جو اچھے دنوں کی امید کی کرن بھی ہے۔ زندگی میں کن کن لوگوں نے کیا کیا ہم پر مہربانیاں کیں، زیادتیاں، دُکھ، تکلیفیں دیں اُن سب کا شکریہ کیونکہ کہتے ہیں ماضی کے دُکھ آج کی راحتیں ہیں یہی حال کچھ اپنا ہے۔

محمد سلیم بٹ

Chapters / Baab of Pak Nagri

قسط 1

قسط 2

قسط 3

قسط 4

قسط 5

قسط 6

قسط 7

قسط 8

قسط 9

قسط 10

قسط 11

قسط 12

قسط 13

قسط 14

قسط 15

قسط 16

قسط 17

قسط 18

قسط 18

قسط 19

قسط 20

قسط 21

قسط 22

قسط 23

قسط 24

قسط 25

قسط 26

قسط 27

قسط 28

قسط 29

قسط 30

قسط 31

قسط 32

قسط 33

قسط 34

قسط 35

قسط 36

قسط 37

قسط 38

قسط 39

قسط 40

قسط 41

قسط 42

قسط 43

قسط 44

قسط 45

قسط 46

قسط 47

قسط 48

قسط 49

قسط 50

قسط 51

آخری قسط