روتے ہوئے چہروں کو اپنے برجستہ جملوں سے ہنسا دینے والے کامیڈین ببو برال کی 7ویں برسی منائی گئی

روتے ہوئے چہروں کو اپنے برجستہ جملوں سے ہنسا دینے والے کامیڈین ببو ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) روتے ہوئے چہروں کو اپنے برجستہ جملوں سے ہنسا دینے والے کامیڈین ببو برال کی 7ویں برسی پیر کے روز منائی گئی ۔پاکستان کے اسٹیج، ٹی وی اور فلم کے مقبول مزاحیہ اداکار ببو برال گوجرانوالہ کے قصبے گھکھڑ منڈی میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام ایوب اختر تھا۔ببو برال نے سنہ 1982ء میں گوجرانوالہ سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور کچھ عرصہ کے بعد لاہور منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے باغ جناح میں اوپن ایئر تھیٹر میں کام شروع کیا۔

ببو برال ابتداء میں ون مین شو کیا کرتے تھے، تاہم انہیں اسٹیج ڈرامے ’’شرطیہ مٹھے ‘‘سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔تین عشروں پر محیط فنی زندگی میں ببو برال نے اداکاری کے علاوہ سٹیج ڈرامے لکھے اور ہدایات کاری بھی کی۔

(جاری ہے)

ببوبرال مزاحیہ فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقی و گائیکی سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔اس قدر گہری دلچسپی کہ وہ پاکستانی گلوکاروں مہدی حسن، نورجہاں، نصرت فتح علی، طفیل نیازی، عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی سمیت درجن گلوکاروں کی نقل کرتے ہوئے ان کے انداز میں آسانی سے گا بھی لیا کرتے تھے۔

اسی طرح بولی وڈ اور ہالی وڈ گلوکاروں کے انداز میں گانے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔پھر طبلہ، ڈھولک اور ہارمونیم بجانے کی بھی انہوں نے باقاعدہ تربیت لی تھی اور بطور گلوکار اپنا ایک البم بھی ریکارڈ کرایا۔ببو برال کی زندگی کی آخری فلم ’’چناں سچی مچی ‘‘تھی جبکہ ہندوستان جا کر بھی انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ببوبرال اور مستانہ کی جوڑی نے مل کر کئی لازوال اسٹیج ڈرامے کئے اور ایک مشترکہ فلم بھی کی۔

اتفاق سے دونوں سنہ 2011ء میں ایک ہی مہینے میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ایوب اختر المعروف ببو برال کو زندگی کے آخری ایام میں جگر کے کنیسر، گردوں اور شوگر کے امراض کا سامنا تھا۔جس کے باعث وہ 52 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد 16اپریل 2011ء کو لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے۔
وقت اشاعت : 16/04/2018 - 13:12:26

Your Thoughts and Comments