Chpli Kabaab Sardiyoon Ki Khaas Soghaat

چپلی کباب سردیوں کی خاص سوغات

Chpli Kabaab Sardiyoon Ki Khaas Soghaat Recipe In Urdu

محمد شہباز
وطن عزیز میں موسم سرما کا آغاز ہو گیا ہے اور سردی کا توڑ گرم گرم کباب ہی تصور کیا جاتا ہے ۔دنیا کے ہرعلاقے میں اپنی ثقافت اور روایات کے مطابق مختلف ناموں سے کباب بنائے جاتے ہیں ۔برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایک ترک باشندے نے بڑی مہارت کے ساتھ دنیا کا سب سے مہنگا اور منفرد کباب تیار کرکے تہلکہ مچادیا ہے ۔


اس مشہور زمانہ کباب کو اس نے ”رائل کباب“کا نام دیا ہے بہترین ،مقوی اور گراں قیمت اجزاء سے تیار کردہ کباب کی ایک پلیٹ کی قیمت 925برطانوی پاؤنڈ مقررکی ہے جو یقینا چونکا دینے والی ہے مگر کہتے ہیں کہ ”شوق داکوئی مُل نئیں ”ایران کے چلو کباب کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ جس نے ایران جا کر چلو کباب نہیں کھایا اس نے کچھ نہیں کھایا۔
یہی شہرت بنگلا دیش کے تنا کباب کی ہے ۔مسلمان فاتحین کی آمد سے قبل بر صغیر میں سبزی خوری ہوتی تھی ۔
گوشت خوری مسلمان فاتحین کی آمد کے بعد شروع ہوئی ۔مغلیہ دور کے باورچی بادشاہوں کیلئے انواع واقسام کے پکوان تیارکرتے ۔
شاہی باورچی خاص خاص مواقع پر انتہائی مقوی اجزاء ،مغزیات ،خشک میوہ جات ،زعفران ،پستہ اور خوش ذائقہ وخوشبو دار مصالحہ جات شامل کرکے شاہی دستر خوان کی زینت بنانے ،مغلیہ سپاہ میں جنگجو تمیّا کباب کے مشابہہ چپلی کباب بھینس کے گوشت سے تیار کرتے ۔

بھینس کے 100گرام گوشت میں 217کیو لریز ہوتی ہیں جبکہ پروٹین 26.1فیصد ہوتی ہے۔ بھینس کے گوشت میں فی ایک سوگرام میں 11.8فیصد چربی ہوتی ہے ۔وطن عزیز میں بھی بیشتر اقسام کے کباب تیار کئے جاتے ہیں ۔لیکن خیبر پختو نخوا کے چپلی کباب کا بھی ذائقے میں کوئی ثانی نہیں ،چپلی کباب یوں تو صوبہ بھر میں بنائے جاتے ہیں ،موسم سرما میں دار الحکومت پشاور کی نمک منڈی ،حیات آباد ،قصہ خوانی ،چوگ یادگار ،شعبہ بازار ،نوتھیا روڈ اور فردوس سینما روڈ کے چپلی کبابوں کا جواب نہیں ۔

جن کے بننے کے اشتہار انگیز خوشبو وہاں سے گزرنے والوں کو اپنے طرف کھینچتی ہے ۔موسم سرما میں پشاور کے کھابے بغیر چپلی کباب کے نامکمل ہوتے ہیں ۔پشاور کے بعد تخت بائی ،تارو جبہ، مردان میں مایار ،شنکر اور ضلع صوابی میں رشکئی ،شہباز گڑھی اور کالو خان کے چپلی کباب ذائقے میں اپنی مثال آپ ہیں ۔
کوئی ان مقامات پر جائے اور کباب کھائے بغیر واپس آجائے یہ ممکن نہیں ۔
یوں تو چپلی کباب سارا سال کھائے جاتے ہیں لیکن سردی کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی اسکی مانگ میں کئی گنااضافہ ہوجاتا ہے ۔صوبہ میں اس کی پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ عارضہ قلب کے مریض یاوہ لوگ جو کسی وجہ سے بڑا گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔
سردی کے موسم میں وہ بھی تھوڑی بہت بدپر ہیزی کرلیتے ہیں ۔صوبہ خیبر پختو نخوا جہاں کے پشتونوں کی مہمان نوازی رسم ضرب المشل کے طور پر مشہور ہے ،اپنے مہمانوں کی تواضع چپلی کباب سے کرتے ہیں ۔
مہمان کے کھانے میں چپل کباب نہ ہوں ،ایسا صرف ان مقامات پر ہی ہوسکتا ہے جہاں چپلی کباب دستیاب نہ ہوں ۔
متمول گھرانے ،شادی بیاہ اور مختلف تقاریب کے کھانوں میں چپلی کباب کو روائتی ڈش کے طور پر شامل کرتے ہیں۔ آجکل اعلیٰ سرکاری اور نجی ضیافتیں چپلی کباب کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں ۔
چپلی کباب اس وقت صرف خیبر پختونخوا تک ہی محدود نہیں اب پورے ملک میں پسند کیا جانے لگا ہے ۔
اس کی تیاری میں بھینس کی گردن ،ران اور دستی کے گوشت کا قیمہ استعمال کیا جاتا ہے ۔قیمہ اور پیاز جس قدر باریک ہوں گے کباب اتنا ہی عمدہ بنے گا۔چپلی کباب کا دوسرا بڑا جزومکئی کا آٹا ہوتا ہے جس کو شامل کرنے سے ایک تو قیمہ کم استعمال ہوتا ہے ،دوسرے یہ کہ اس کو شامل کرنے سے کباب سکڑ تا یا ٹوٹتا نہیں ۔
اس کے علاوہ انار دانہ ،خشک دھنیا ،پسا ہوا گرم مصالحہ ،ادھ پسی سرخ مرچ اور ٹماٹر وغیرہ شامل کئے جاتے ہیں ۔
سپیشل آرڈر پر تیار کئے جانے والے کبابوں میں مغزساق یعنی مکھ ،ادرک ،لہسن ،سبز پیاز ،سبز دھنیا ،مصالحہ جات ،بکرے کا مغز اور انڈوں کا اضافہ کردیا جاتا ہے ،جس کے بعد اسے گائے یا بھینس کی چربی جسے پشتو میں ڈل کہا جاتا ہے اس میں تلا جاتاہے ۔

کباب بنانے والے چربی کو چپلی کباب کا جزو لانیفک قرار دیتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ چربی میں تلے جانے کی وجہ سے ہی کباب زیادہ ذائقے دار یا چٹخارے دار بنتا ہے ۔بعض حضرات انہیں اپنی پسند کے کوکنگ آئل میں تلوار کرنوشِ جان کرتے ہیں ۔

More From Features - مزید خصوصیات