Pyaz Ki Khasosiyat Ka Jaiza

پیاز کی خصوصیات کا جائزہ

Pyaz Ki Khasosiyat Ka Jaiza Recipe In Urdu

پیاز کی خصوصیات کا جائزہ کڑوے کریلے اور جامن کی طرح پیاز میں بھی بلڈ شوگر کو کم کرنے کے خواص موجود ہوتے ہیں اور اس سے ذیابیطس کے معاون علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے پیاز خون کی نالیوں میں عمرر سیدگی کے باعث ہونے والی تبدیلیوں کو روکتی ہے اور اس طرح دل صحت مند اور متحرک رہتا ہے پیاز کا وافر مقدار میں استعمال کرنے والے افراد میں پیٹ کے کینسر کے امکانات 50فیصد کم ہو جاتے ہیں کرن سلطانہ: پیاز صرف آپ کے کھانوں کی لذت کو ہی دوبالا نہیں کرتی ، بلکہ اس کے اندر بے شمار معالجاتی خصوصیات بھی پائی جاتی ہے۔

امریکہ میں جڑی بوٹیوں کو دواؤں کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان بڑی تیزی کے ساتھ فروغ پار ہا ہے اور طبی جڑی بوٹیوں اور ان سے متعلقہ اشیاء کی فروخت کی مالیت اب دو بیلن امریکی ڈالر سے زیادہ پہنچ چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او)نے اندازہ لگایا ہے کہ دنیا میں 80%لوگ صحت کے دیکھ بھال کے لئے روایتی دواؤں پر انحصار کرتے ہیں۔
پیاز کو کاشت کی جانے والی قدیم ترین بوٹی سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں زمانہ قدیم سے پیاز کو ایک دوا کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ انسانی جسم پر پیاز کے اثرات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ پیاز زخموں کو مند مل کرنے کی خصوصیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔
اس کا ذکر تقریباََ تمام قوموں کی لوک داستانوں ، اساطیر اور روایات میں موجود ہے۔ پیاز کو انگریزی میں اونین (oninon)کہتے ہیں۔ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ ” انس“ ّ(unus)سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ”ایک “ قدیم مصری اس پر ت دار گانٹھ کو کائنات کی علامت سمجھتے تھے اور ان کا یہ خیال تھا کہ پیاز بدروحوں کو بھگا دیتی ہے۔
وہ جب کوئی قسم کھاتے تھے وہ اپنا ایک ہاتھ پیاز پر رکھتے تھے۔ یونانی مور خ ہیروڈوٹس کے مطابق پیاز ان غلاموں کو کھلائی گئی تھی جہنوں نے اہرا مِ مصر تعمیر کئے تھے۔ پیاز کے حیرت انگیزخواص کے باعث ایک بار حکمرانوں نے پیاز کے عوض نوٹن سونا دیا تھا۔
لیکن چینی سیاح ہیون سانگ کا کہنا ہے ہندوستان کے لوگ پیاز سے پر ہیز کرتے تھے۔ ایک اور چینی سیاح آئی سنگ نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ہندوستان کے لوگ پیاز کو کیوں ناپسند کرتے تھے۔ اس نے لکھا ہے”ہندوستانیوں کا خیال یہ ہے کہ پیاز کو کسی طرح سے بھی کھانے سے درد پیدا ہوتا ہے۔
نظر کمزور ہوتی ہے اور جسم کمزور ہوتا ہے۔ انسان لاغر ہوتا چلا جاتا ہے۔“ قدیم ناریخ ہندوستان میں پیاز کا امیرانہ استعمال صرف مغلوں کے دور سے شروع ہوا اور اکبر کے زمانے میں یہ غریب مزدوروں اور کسانوں کی تھالی سے اٹھ کر امرا کے باورچی خانوں میں جاپہنچی ، اس کے بعد سے یہ باورچی خانوں اور دواؤں کی الماریوں کا ایک لازمی حصہ بن گئی۔
ایک انگریز میڈیکل آفیسر انڈور ڈبالفور نے انیسویں صدی کے وسط میں لکھا” ہندوستان کے مقامی لوگوں کے لئے پیاز ایک پسند یدہ سبزی ہے اور یہ سارے سالنوں کا ایک لازمی جزو ہے۔“ بیسویں صدی کے دوران پیاز کو کھانوں کے ایک لازمی جزو اور سبزی کی حیثیت حاصل رہی اور اب نئے ملینیم میں بھی اس کی اہمیت میں مزیداضافہ ہوا ہے۔
غریب آدمی کی اس سبزی کو سیاسی بدنظمی کے خلاف اور ذخیرہ احتجاج کی علامت کے طور پر استعما ل کیا گیا ہے۔ پیاز مغربی ایشاکے مقامی پیداوار ہے۔ یہ ایک مستقل طور پر اگتی رہنے والی بوٹی ہے اور اس کی گانٹھوں کی جسامت الگ الگ ہوتی ہے۔
اس کی شکل رنگ اور بوبھی الگ الگ ہوتی ہے۔ یہ چپٹی بھی ہوتی ہے، گول بھی اور نکیلی بھی اور اس کا رنگ سفید، پیلا ، ہرا اور سرخ بھی ہوسکتا ہے۔ برمودا اور اٹلی کی پیاز چپٹی اور بڑی ہوتی ہے اور ذائقے میں بھی ذراہلکی ہوتی ہے۔ اسپین کی پیاز میں مٹھاس ہوتی ہے اور یہ رسیلی اور بڑی ہوتی ہے۔
پیاز کا تعلقLilaceaeخاندان سے ہے اور اس کا سائنسی نام Allium Capraہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ خشک پیاز پیدا کرنے والے ملکوں میں چین ، ہندوستان، امریکہ، روس، جاپان اور تر کی شامل ہیں۔ مغربی ممالک میں پیاز بہت سی پروسیس کی ہوئی (processed)شکلوں میں دستیاب ہے۔
یہ ابلی ہوئی مصالحہ لگی ہوئی اور پاؤڈر کی شکل میں دستیاب ہے۔علاوہ ازیں پیاز کا بوتلوں میں بندجوس بھی ملتا ہے، پیاز میں 80% پانی،11.6%کاربو ہائیڈریٹس ،1.2%پروٹین، 0.7%لیپڈ، 0.18%کیلشیم ، 0.7%فولاد اور 0.5%فاسفورس پایا جاتا ہے۔ غذایت سے بھر پور کھانا پیاز حیران کن سلفر کمپاؤنڈرز کاایک زبردست ذریعہ ہے۔
پیاز الرجی اور سوزش میں بھی فائدہ کرتی ہے۔ پیاز ایک نہایت عمدہ گھریلو ڈاکٹر ہے اور تقریباََ ہربیماری کے علاج میں مدد کرتی ہے۔ سلفر کمپاؤنڈرز پیاز کو نہ صرف اینٹی بیکٹیریل بناتے ہیں بلکہ اسے اینٹی سیپٹک بھی بناتے ہیں۔
قدیم چین میں اسے نزلہ ،زکام، کان کے درد، جانوروں کے کاٹنے، بارود سے جل جانے وغیرہ کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ پیاز کو ایک اچھا ٹانک بھی سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ تحقیقات نے پیاز کی پرانی معالجاتی خصوصیات کی توثیق کر دی ہے۔
ذیل میں کچھ ایسی بیمایوں کی تفصیل دی جا رہی ہے جب کے علاج کے لئے پیاز کو استعمال کیا گیا۔ ۔ پروسٹیٹ چھوٹے چھوٹے غدود کا ایک گچھا ہوتا ہے۔ پینتا لیس سال سے زیادہ کی عمر کے تقریباََ ہر آدمی کا پروسٹیٹ کسی کسی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
ایسا ہونا عمر رسیدگی کے عمل کا ایک قدرتی نتیجہ ہے۔ بڑھ جانے کے بعد پرسٹیٹ سخت ہوجا تا ہے اور پیشاب کی رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ بالآخر مریض کو آپریشن کے لئے سرجن سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ مزیدبر آں، پروسٹیٹ میں کینسر ہوجانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔
مردوں کے لئے پروسٹیٹ کے مسائل ویسے ہی ہیں جیسے کہ عورتوں کے لئے پستان کے کینسر کے مسائل ۔ یہ ایک بہت حقیقی نوعیت کا خطرہ ہیں لیکن ایک اچھی خبر یہ ہے کہ آپ اس کو روک بھی سکتے ہیں ۔ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ ایسی سبزیوں کے کھانے سے جن میں پیاز، لہسن اور ہری پیاز وغیرہ شامل ہیں پروسٹیٹ کینسر سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
صرف یہی نہیں پیاز پیٹ کے کینسر کے امکانات کو بھی کم کرتی ہے۔ ایک ڈچ اسٹڈی کے مطابق ان لوگوں کے درمیان جو کہ پیاز کی کافی مقدر استعمال کرتے تھے، پیٹ کے کینسر کے امکانات 50%کم پائے گئے۔ ذیابیطس کا مرغ بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود انسان ۔
لیکن اس وقت تو ذیابیطس نے دنیا میں ایک وبا کی سی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ 2000ء میں دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد ایک سوپچاس ملین تھی اور خدشہ ہے کہ اگلے پچیس سال میں یہ تعداد دوگی ہو جائے گی۔ ذیا بیطس میں مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید کے باعث اضافہ ہو ر ہا ہے۔
Gestationalذیابیطس حاملہ عورتوں کو متاظر کرتی ہے اور اس کے لئے بلڈ شوگر کے فوری اور زیادہ بہتر کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ کنٹرول نہ کئے جانے کی صورت میں یہ ماں اور بچہ دونوں کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کے ماہر ین کا خیال ہے کہ ذیابیطس کا علاج باورچی خانے میں موجود ہے ، کڑوے کریلے اور جامن کی طرح پیاز میں بھی بلڈ شوگر کو کم کرنے کے خواص موجود ہوتے ہیں اور اسے ذیابیطس کے معاون علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر آپ ذیابیطس سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو پیاز کا استعمال زیادہ کیجئے۔ ۔پیاز ہاضمے میں مدد یتی ہے اوریہ پیٹ کے دور کو اور ہاضمے کی تکلیف کو دور کرتی ہے۔ ان نکالیف سے بچنے کے لئے ایک چھوٹا چمچہ پیاز کے عرق میں چٹکی بھر ہینگ اور نمک ملا کر استعمال کیجئے۔
یہ سادہ سی ترکیب آپ کے نظام ہضم پر حیران کن اثر ڈالے گی۔ مزید برآں کھانے کے ساتھ کچی پیاز کا استعمال قبض سے بچاتا ہے۔ پیاز کے اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خواص ، فوڈپوائرزننگ کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ گرمیوں میں خاص طور سے پیاز کا استعمال زیادہ کیجئے۔
اس موسم میں پیاز آپ کو اور آپ کے خاندان والوں کو اسہال اور ہیضے سے محفوظ رکھے گی۔ لوگوں میں ایک عام خیال یہ ہے کہ کولیسٹرول ہارٹ اٹیک کا واحد سبب ہے۔ کولیسٹرول چربی کی طرح کا ایک مادہ ہوتا ہے جو ہمیں دو ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ جگر کے ذریعے بنتا ہے اور اس غذا سے بنتا ہے جو ہم کھاتے ہیں۔ ہمارا جگر کولیسٹرول کو Lipidsاور پروٹین سے بنے ہوئے پیکیجز میں رکھتا ہے جنہیں لیپوپروٹین کہتے ہیں۔ یہ لیپو پروٹین تین اقسام کے ہوتے ہیں۔ وی ایل ڈی ایل ، ایل ڈی ایل اور ایچ ڈی ایل۔
ان میں سے ایل ڈی ایل خراب کو لیسٹرول ہے کیونکہ یہ خون کی نالیوں کی دیواروں کے ساتھ بآ سانی چپک جاتا ہے۔ بہت سی اسٹڈ یز سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پیاز میں اس خرابی کو روکنے کی کافی صلاحیت موجود ہے۔ پیاز ایک ڈی ایل کو مستقل طور پر کنٹرول میں رکھتی ہے اور اسے خون کی نالیوں میں رکاوٹ نہیں پیدا کرنے دیتی۔
پیاز میں دل کو تقویت پہنچانے والی دوسری خصوصیات بھی موجود ہیں ۔ یہ خون میں گانٹھوں کے بننے کو روکتی ہے اور خون کو پتلا اور رواں رکھتی ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں عمر رسیدی کے باعث ہونے والی تبدیلیوں کو روکتی ہے اور اس طرح دل صحت مند اور متحرک رہتا ہے۔
پیشاب میں اگر فاسد مادوں کو جمع ہونے کا موقع ملے تو وہ پیشاب کی نالی میں مائیکروبس (Microbes)کے پیدا ہونے کے لئے ساز گار حالات کو جنم دیتے ہیں۔ عورتیں اپنی حیاتیاتی ساخت کی بنا پر مردوں کے مقابلے میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا زیادہ شکار ہوتی ہے۔
پیاز پیشاب کے فاسد مادوں اور جراثیم کو باہر نکال دینے میں مدد کرتی ہے اور مثانے کی سوزش کو کنٹرول کرتی ہے۔ پیاز اینٹی بیکٹریل خواص پیشاب کی نالی کے انفیکنش کو کنٹرول کرنے کی اس کی حلاحیت میں اور زیادہ اضافہ کرتے ہیں۔ یورک ایسڈ جسم کے فاسد مادوں میں سے ایک ہے۔
یہ عام طور سے گردوں کے ذریعے نکل جاتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے اس کی مقدار اتنی زیادہ بڑھ جائے کہ گردے اس کو سنبھال نہ سکیں تو یہ جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے اور کرسٹلز کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ جب یورک ایسڈ کے کرسٹلز جوڑوں کے درمیان کی جگہوں میں پھنس جاتے ہیں تو ایک متاثرہ جوڑ کے آس پاس کے ٹشوز میں سوزش ہونے لگتی ہے۔
پیازکو جوڑوں کے درد سے نجات کے لئے روایتی طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ پیاز کے عرق اور سرسوں کے گرم تیل کو مساوی مقدار میں آپس میں ملائیے اور اسے متاثر ہ جوڑپر لگائیے۔ آپ نتائج دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ مکھی یا بھڑ جیسا حقیر کیڑا جس کا وزن ایک اونس کے سویں حصے سے بھی کم ہوتا ہے ، ایک بھاری بھر کم انسان کو چند منٹ کے اندر اندر ہلاک کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کیڑے کے زہر میں جو بعض اجنبی پروٹین موجود ہوتے ہیں ان پر ہمارے جسم میں الر جک ری ایکشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کے برعکس بڑی عمر کے لوگ شہد کی مکھی کے کاٹے سے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔ وہ اطمیان کے ساتھ یہ کہتے ہوئے سنائی دیں گے”ایک پیاز کاٹ کر اس کے ٹکڑے کو ڈنگ سے متاثرہ جگہ پر ملو۔
“ ۔ پیاز جنسی خواہش میں اضافہ کرتی ہے۔ روزانہ پیاز کا استعمال مردوں کے مادہ تو لید میں اضافہ کرتا ہے۔ ایک شخص نے جس کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکاڈز میں شامل کیا گیا ۔ اپنی جنسی توانائی کا سبب پیاز کے روزانہ استعمال کو قرار دیا۔
۔ وہ لوگ جن کے جسم میں سیلینیم کی مقدر ناکافی ہوتی ہے، وہ تفکرات کی زد میں رہتے ہیں اور ڈپریشن اور تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے لئے ایک آسان راستہ موجود ہے۔ پیاز اور لہسن کا زیادہ استعمال کیجئے۔ تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پیاز اور لہسن جیسی سبزیوں میں موجود سیلینیم مزاجی کیفیات کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
۔ جب موسم میں تبدیلی رونما ہوتی ہے اور گرمی کی جگہ سردی یا سردی کی جگہ گرمی لے لیتی ہے تو ہم میں سے بہت سے لوگ نزلہ زکام کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ نزلے اور ز کا م کاوائر س ناک گلے، نرخرے اور حتیٰ کہ پھیپھڑوں تک کو متاثر کرتا ہے۔
اس کا ایک آسان علاج ہے۔ پیاز کا عرق اور شہد مساوی تعداد میں لیجئے اور انہیں اچھی طرح آپس میں ملا کر دم میں تین یا چار بار استعمال کیجئے۔ یہ جادوئی مکسچر آپ کی کھانسی کو روکتا ہے۔ حتیٰ کہ دمے میں سانس کی تکلیف کو بھی آرام دیتا ہے۔
علاوہ ازیں پیاز کے عرق اور شہد کا مکسچر آپ کے جسم سے فالتو وزن کو بھی کم کرتا ہے۔ ۔ فری ریڈی کلز (Free Redicals) دباؤ‘ فضائی آلودگی ‘تمبا کو نوشی اور تلے ہوئے کھانوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، وہ نارمل خلیوں پر حملہ کرتے ہیں‘ ان میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں اور انہیں تباہ کردیتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں ہائپرٹینشن‘ فالج اور کینسر جیسی تباہ کن بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ پیاز ان خراب سالموں (Molecules) کے خلاف عمل کرتی ہے، ہماری کے مقابلہ کرنے والے ان ہتھیاروں کو تیز کرتی ہے جو قدرت نے ہمیں دئیے ہیں اور عمر رسیدگی کے دھکوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
۔ پیاز زخموں اور دانوں وغیرہ کے علاج میں بھی مدد کرتی ہے۔ دھوپ میں زیا دہ دیر تک رہنے کے باعث جسم کی حرات کو کنٹرول کرنے والے نظام میں خلل واقع ہو جاتا ہے اورجسم کا درجہ حرات 37Cسے بڑھ کر‘ جو کہ نارمل درجہ حرارت ہے‘ 40Cتک یا اس سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔
اس صورت حال میں آدمی خود کو جلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس کی جلد گرم اور خشک ہو جاتی ہے اور نبض تیز ہو جاتی ہے۔ کنپٹیوں ‘ پیٹ‘ ہتھیلیوں اور تلووں پر پیاز ملنے سے سن اسٹوک کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دباؤیا اسٹریس(stress) جو کہ آج کل بہت عام ہے بھوک پر بھی خراب اثر مرتب کرتا ہے۔
اپنی غذا میں پیاز کا زیادہ استعمال کیجئے۔ پیاز بھوک بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ روزانہ ایک سیب کے استعمال سے آپ بہت ساری بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ اوریہی بات پیاز کے بارے میں بھی درست ہے اور آپ اپنے جسم کو بہت فائدہ پہنچائیں گے اگر آپ پیاز کو اپنی غذا میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیں ۔
کھانوں میں ذائقے اور فلیور کااضافہ کرنے کے لئے پیاز کا کوئی مقابلہ نہیں ہے اور اسے بجا طور پر”فلیور ماسٹر“ کیا جاتا ہے۔ پیاز ایک ایسی سبزی ہے جو دنیا کے تقریباََ ہر باورچی خانے میں پائی جاتی ہے۔ اسے نہ صرف اسٹو‘ روسٹ ‘سالن‘سوپ اور سلاد میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ بعض ممالک میں اسے ایک پکی ہوئی سبزی کے طور پربھی کھایا جاتا ہے۔
کھانے پکانے کے ماہرین پیاز کو دسترخوان کا شاہ کارر قرار دیتے ہیں۔ پیاز کے استعمال کے ذریعے بے شمار چٹ پٹے کھانے تیار کئے جاتے ہیں۔ ان کھانوں سے لطف اندوز ہوئیے اور پیاز کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیجئے۔ پیاز کی خریداری اور اسٹور کرنا جب بھی پیاز خریدیں اس بات کاخاص خیال رکھیں کہ وہ سخت اور پکی ہوئی ہو ‘ایسی پیاز کبھی مت خریدیں جو نرم ہویا اس میں سے چھوٹی چھوٹی سبز شاخیں پھوٹ رہی ہوں ۔
پیاز کو پوری گرمیوں میں اسٹور کیا جاسکتا ہے اگر اسے ٹھنڈی خشک جگہ پر رکھا جائے۔ پیاز کا بطور غذا استعمال روٹی کے ساتھ کھائی جانے والی سادہ Mezzeڈش کے طور پر پیاز کو بعض اوقات چاپ کر کے تازہ ترش انار دانے اور ایک عدد لیموں کے جوس کے ساتھ مکس کر دیا جاتا ہے یا پھر تھوڑے سے سرکہ اور کٹے ہوئے تازہ پودینے میں میری نیٹ کر دیا جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کوکنگ میں اس کے اہم ترین کرداروں میں سے ایک پیاز کے جوس کی شکل میں ہے جسے گرلڈ مچھلی یا پھیڑ کے گوشت کے لئے بہ طور میری نیڈ استعمال کیا جاتا ہے۔ پیاز کا جوس بنانے کے لئے پیاز کو کدُوکش کر کے یا پیس کر گودا بنا لیا جاتا ہے اور پھر اس پر نمک چھڑک کر اسے لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ قطرہ قطرہ رس ٹپکتا رہے، پھر گودے کو کسی چھلنی میں دبا کر اس کا رس نچوڑ لیا جاتا ہے۔
کچی پیاز اکثر سلاد بنانے میں استعمال کی جاتی ہے۔ ترکی اور شام میں سلاد، پیاز، زیتون ،لیموں اور اور نج سے تیار کیا جاتا ہے۔ کسان اور خانہ بدوش ،تازہ جڑی بوٹیوں اور پیاز کا سلاد بناتے ہیں اور اکثر اس پر اوپر سے پنیر کو چورا چورا کر کے ڈال دیتے ہیں۔
بڑی میٹھی پیاز کو کھوکھلا کر کے اس میں گوشت یا چاول کی فلنگ کی جاتی ہے اور پھر اسے بیک کر لیا جاتا ہے ۔ ثابت میٹھی پیاز کو اس کے چھلکے سمیت بریڈ اوون یا گرم راکھ میں بیک کیا جاتا ہے اور پھر نرم پکی ہوئی پیاز کو کاٹ کر اسی پرزیتون کے تیل ،لیمن جوس اور پارسلے کی ڈریسنگ کی جاتی ہے۔
چھوٹی پیاز کو اکثر سالن ہی اسٹو میں پکا لیا جاتا ہے یا انگیٹھی میں گرم کرلی جا تی ہے۔ بہت ہی چھوٹی پیاز یا پرل پیاز کو کشمش اور پودینے کے ساتھ پکا کر کھٹی میٹھی ڈش تیار کی جاتی ہے۔ پیاز کو چوپ کر کے یا سلائس کر کے اسٹو میں شامل کیا جاتا ہے جسے کہ ترکی کی Yahniڈشز اور اسے سوپ میں بھی ڈال جاتا ہے جیسے ایرانی سوپ ایشکنے۔
جوکہ پیاز اور انڈے کا سوپ ہوتا ہے جس میں خشک روٹی کو توڑ کر ڈالا جاتا ہے۔ خستہ فرائی کی ہوئی پیاز بہت سی ایرانی ڈشوں کا اہم ترین حصہ ہوتی ہے جن میں اسے فلیور سوس کو گاڑھا کرنے اسٹفنگ اور گارنش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پیاز کے بیجوں کو تل کے ساتھ روٹی پر یا بسکٹوں کے اوپر چھڑ کا جاتا ہے

More From Features - مزید خصوصیات