برصغیر کی نامور گلوکارہ اقبال بانو کی آٹھویں برسی منائی گئی
UrduPoint Android Application

برصغیر کی نامور گلوکارہ اقبال بانو کی آٹھویں برسی منائی گئی

جمعہ اپریل 5:18 pm
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2017ء) برصغیر کی نامور گلوکارہ اقبال بانو کی جمعہ کو آٹھویں برسی منائی گئی۔ ان کے گائے ہوئے لازوال گیت کئی دہائیاں گزرنے کے باوجودآج بھی شوق سے سنے اور گائے جاتے ہیں۔ ان کے گائے ہوئے گیت فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ اپنے ابتدائی دور میں انہوںنے فلم ’’گمنام، قاتل، انتقام، سر فروش، عشق لیلیٰ اور ناگن‘‘ جیسی سپرہٹ فلموں میں گیت گاکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

اقبال بانو1935ء میں بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئیں۔ان کو بچپن سے ہی موسیقی سے لگائو تھا جسے پروان چڑھانے میں ان کے والد نے اہم کردارادا کیا اور انہیں استاد چاند خان جیسے استاد کے سپردکیا۔ استاد چاند خان نے اقبال بانو کے اندر چھپے ہوئے فن کو آسمان کی بلندیوں پرپہنچادیا اوراقبال بانو کو آل انڈیا ریڈیو پر متعارف کرایا۔

(خبر جاری ہے)

اقبال بانو کو کلاسیکل و نیم کلاسیکل کے علاوہ موسیقی کے دیگر سروں پر بھی مکمل عبور حاصل تھا مگر ان کی فن کی وجہ شہرت

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

غزل گائیکی بنی۔

1952ء میں شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ بھارت چھوڑ کر انہیں پاکستان آنا پڑا اور وہ ملتان میں رہائش پذیر ہوگئیں۔شوہر کی وفات کے بعد وہ ملتان سے لاہورمنتقل ہوگئیں۔اقبال بانو کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 1974ء کو تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازاگیا۔انہوںنے فارسی میں بھی گیت گائے۔اس لیے ان کے مداحوں کی بڑی تعداد افغانستان اور ایران میں بھی موجودہے۔21اپریل 2009ء کو اقبال بانو مختصر علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔