میرے پاس تم ہو

Mere Pas Tum Ho

Usama Chaudhary اسامہ چوہدری اتوار 26 جنوری 2020

Mere Pas Tum Ho
دوسرے تمام نوجوانوں کی طرح ڈرامہ’میرے پاس تم ہو‘ نے مجھے بھی بہت زیادہ متاثر کیا۔ اسکی وجہ اس ڈرامے کی کہانی سے کہیں زیادہ ایک احساس تھا جسکو ہم ختم کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ خوشی چاہتا ہے۔ کچھ انسان اس خوشی کی باداش میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ وہ انسان ہی نہیں رہتے بلکہ ایسے درندے بن جاتے ہیں جو کہ ساری خوشیاں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اعتبار کے قابل نہیں رہتے۔

آخر کیا ایسی وجہ تھی کہ اس ڈرامے کو اتنی مقبولیت ملی؟اگر کوئی آپکو چھوڑ کر چلا جائے تو اسے واپس بلانا چاہیے؟ یہ کچھ ایسے موضوعات ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے۔ 
خواتین کے متعلق کہا جاتا ہے کہ’اگر ایک عورت ہاتھ چھڑائے تو یہ مت سمجھیں کہ وہ جا رہی ہے سمجھیں کہ وہ جا چکی ہے‘۔

(جاری ہے)

ایک عورت اپنی ذات کے معاملے میں ایک مرد سے کہیں گنازیادہ ذہین ہوتی ہے۔

وہ اپنے متعلق فیصلے کر بھی لیتی ہے اوران فیصلوں پر کھڑی بھی رہ سکتی ہے خواہ حالات کیسے بھی ہوں۔ ایک عورت اپنا فیصلہ بہت پہلے ہی کر لیتی ہے لیکن اس پر عمل بعد میں کرتی ہے اور جب کرتی ہے تو ہر طرح کے نتیجے کے لیے تیار بھی رہتی ہے، بات اگر تعلق توڑنے کی ہوتو وہ آپکو چھوڑنے کا ناصرف ارادہ کر چکی ہوتی بلکہ وہ آپکو عملًاچھوڑ دیتی ہے، اس لیے کسی عورت کو روکنا بے سود ہے۔

یاد ررہے کہ کسی کوچھوڑ کر جانے والا شخص ایک ایسے شیشے کی مانند ہوتا ہے جوکہ گرکر ٹوٹ گیا ہواور اسکو دوبارہ جوڑا گیا ہو لیکن اس میں دراڑ ابھی بھی باقی ہو۔ وہ اپنے خوبصورتی سے فضا کو چار چاند لگا دیتا ہو لیکن اسکی وہ ایک دراڑ اسکے گرنے اور اسکی قدر کھونے کا سارا حال بیان کر دیتی ہو۔ ہم جتنا بھی اسکی خوبصورتی کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوں لیکن اس ایک داغ سے اپنی نظر کونہ چرا سکتے ہوں۔

اس لیے بہتر یہی ہوتا ہے کہ مان لیا جائے کہ شیشہ ٹوٹ گیا ہے اور اب آپکو صرف دیکھنے پر اذیت دے سکتا ہے۔ اگر ایک عورت آپکو چھوڑنے کا ارادہ کر چکی ہو تو اسکو اسی پیار کے ساتھ الوداع کہیں اور اسے یہ بات کہہ دیں کہ اگر آج سے تم میری نہیں، تو جاوٴ کل سے میں بھی تمہارا نہیں۔ 
’میرے پاس تم ہو‘پاکستانی کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ تصور کیا جا رہا ہے۔

اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ڈرامے کی قسط نشر ہونے کے بعد ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا تھا۔ اس کی آخری قسط کو تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا۔اگر ہم ایشیا کی بات کریں تو یہاں پر لوگ نسبتاً زیادہ جذباتی ہوتے ہیں اس لیے ان کے احساس کو بدلنا بہت آسان ہوتا ہے۔ میں ا ن تمام لوگوں کو یہ بات واضع کردینا چاہتا ہوں کہ یہ ڈرامہ صرف ایک منصف کے خیالات پر تشکیل دیا گیاہے۔ اس ڈرامے کا موازنہ اپنے زندگی کے ساتھ نہ کریں کیونکہ ہر انسان کے حالات و واقعات دوسروں سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی کو معاف کرنا یا ایک نئی شروعات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجیئے کیونکہ آپکی زندگی بہت زیادہ قیمتی ہے اورکسی شخص کے خیالا ت آپکی زندگی پر اثر انداز نہیں ہونے چاہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :