بند کریں

مزید عنوان

لطیفے

لاہور کی آمد

آدمی اور اجنبی

ڈیپارٹمنٹل

جمیل اپنے دوست سے

منا امی سے

اداسی کی وجہ

خوش آمدید

گاہک دکاندار سے

میزبان مہمان سے

شاہراہ

مزید لطیفے

مزاحیہ ادب

ڈیزائنوں والا شاعر ۔۔ وسیم عباس

شاعر یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔جو نہیں ہوتا اسے زیادہ داد ملتی ہے کیونکہ اس کا کلام سننے والوں کو بھی بھلا کہاں اوزان کا علم ہوتا ہے ۔ وسیم عباس کے بارے میں ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ شاعر ہے یا نہیں ۔شعر کہنے کا فارمولا اس نے بھی وہی اپنا رکھا ہے جو ہم نے اپنایا ہے البتہ اس کا گلا ہم سے زیادہ صاف ہے لہذا اکثر اٹکے بنا آگے نکل جاتا ہے ۔شاعری بہتر بنانے کے لئے باقاعدگی سے مشق کرتا ہے ۔ اسی لئے روز صبح اٹھ کر دو گھنٹے مٹکے میں منہ ڈال کر شعر کا ردھم ٹھیک کرتا ہے ۔ ایک مشاعرے میں وسیم عباس ٹھسے سے بیٹھا شعر کہ رہا تھا

کتے کی کہانی گدھے کی سرگزشت

مدتوں سے بنی نوع انسان کا دوست اور مددگار ہونے کا فریضہ سرانجام دینے کے ناطے کتا ایک وفادار جانور کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ کئی شاعروں نے اس کی تعریف و توصیف میں بے شمار قصیدے بھی لکھے جب کہ بحیثیت مزاح نگار پطرس بخاری بھی۔۔۔

ایکٹومزاح نگاراوربیویوں کے لطیفے

عطاء الحق قاسمی اس وقت اردو کے سب سے بڑے ”ایکٹو“ مزاح نگار ہیں کیونکہ․․․ مشتاق احمد یوسفی (اللہ اُن کی بھی عمر دراز کرئے) آجکل الیکٹرونکس میڈیاپر ”ایکٹو“ ہیں اور ۔۔۔

مکالمہ

آج کل علم تاریخ یہ بحث چل نکلی ہے کہ اس کاانسان کوبالکل کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔دوسرانظریہ یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعے سے حال اور مستقبل کوسنواراورماضی سے ایک سبق حاصل کیاجاسکتا ہے۔

کالے کبوتر سفید کبوتر

جہاں میں بیٹھا ہوں۔ اس عمارت کی چھت کے شہتیروں میں کالے کبوتر رہتے ہیں اور کبوتر چاہے کالے ہوں یاسفید وہ بیٹ ضرور کرتے ہیں اور یہ بیٹ ہرآدھ پون گھنٹے کے بعد چھپک سے میرے کوٹ یاسویٹرپربرس پڑتی ہے۔

بحث وتکرار

جب کتے آپس میں میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگاہ سے آنکھیں بد ل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔۔۔

سیاسی و سوشل قربانیاں!

فی الحال تو قربانی کے جانور ہیں جو تماش بینوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ بھی سیاست کا ہی کرشمہ ہے کہ خریدنے والے کم اور تماشا دیکھنے والے زیادہ ہوگئے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے ، جانور لوگوں کی بے بسی کا تماشا دیکھتے ہیں اور لوگ ، جانوروں کی زیب و زینت اور قیمتوں سے دل بہلاتے ہیں
🌄

” احمد فراز کے اصلی اشعار اور نقلی حسن کے تذکرے “

میں صبح سویرے لوڈ شیڈنگ کے زیر سایہ شیو کر کے منہ دھو کر دفتر روانہ ہوا۔۔گیلے بال اور سونے پر سہاگہ ہمارے علاقہ پر ترقیاتی کام نازل ہوئے دوسرا سال ہے
مزید مزاحیہ ادب

مزاحیہ کالم

🌄

نیا اینگل

ہم نے ایک صاحب کو دیکھا جو یوٹیلٹی اسٹور کے باہر لمبی لائن کو دیکھ کر رو رہے تھے، وجہ پوچھی تو بھڑک اٹھے”ہم پر حکومت کرنے والوں کی سمجھ نہیں آتی، پہلے کے حکمرانوں نے ہمیں ترغیب دی تھی
🌄

حضور کو عادت ہے بھول جانے کی۔شوکت علی مظفر

ملک صاحب کی عادت ہے وہ کسی کام کے سلسلے میں جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں اب یہ کام ہونے کا نہیں، کیونکہ ان کے وعدے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے ”بھول جاؤ!“
🌄

ابتر اشتہارات۔دل آویز

آوارگی میں تمام دن جوتے چٹخانے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ کسی امیر زادی سے شادی کا ڈھونگ رچا کے نہ صرف گھر دامادی جیسی فرمانبردار نیز منافع بخش آفر قبول کریں
🌄

ہم ایک رسالہ نکالیں گے

ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی صا حبو چند دنوں پہلے بدن کی بالائی اور نسبتا ویران منزل میں ایک عجیب طرح کا سودا سمایا کہ ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔
🌄

شادی سے پہلے۔قسط نمبر 4 ۔مخزن علی

🌄

طنزو مزاح ایک معاشرتی ضرورت

اس دنیا میں کیا فلسفی ، کیا ادیب کیا دانشور سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے دار المحسن ہے۔مجمعوعہ آلام ہے۔
🌄

مرد بھی بیویوں سے پٹتے ہیں۔

🌄

ہم ایک موٹر خریدیں گے

مزید مزاحیہ کالم

مزاحیہ مضامین

چ

پیارے بچو یہ جو سہیل عباس خان میں ”خان“ ہے، یہ بلوچ کی وجہ سے ہے۔ بلوچ کے پیچھے اور چور کے آگے جو ”چ“ آتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جدّی پشتی چور ہیں۔ غریب چور کے پیچھے چور چور کہہ کے بھاگتے ہیں اور امیر چور کے پیچھے نعرے لگاتے ہیں کہ---- دے نعرے وجن گے۔ پہلے علی بابا اور چالیس چور مشہور تھے، اب وہ چالیس خود علی بابا بن گئے ہیں۔

ج

”ج“ سے جوتا ہوتا ہے، جسے جاپان میں سائن بورڈ پہ اور پاکستان میں ٹرک، رکشے یا چلنے والی دیگر چیزوں سے لٹکاتے ہیں۔ چلنے والی چیزوں پہ برساتے بھی ہیں۔

الف

یہ پہلا قاعدہ کہ جو ہم نے ب سے شروع کیا، کیونکہ سنتے آئے ہیں کہ الف خالی ب کے نیچے ایک نقطہ۔
اب اس میں کیا نکتہ ہے یہ تو کوئی سمجھ دار ہی بتا سکتا ہے۔

ب

ب سے بکری ہوتی ہے، پہلے وہ دودھ میں مینگنیاں ڈال کر دیا کرتی تھی، اس کے علاج کے لیے بکرا منڈی تیار کی گئی جہاں اس کی خوب بکری ہوئی۔ آج کل بکرا اسے کہتا ہے بک ری، اب کیا بکتی ہے۔

ث

”ث“ سے ثبوت ہوتا ہے، یہ ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں اس کا تعلق آپ کی کلاس سے ہے، میری مراد طبقے سے ہے، آپ اسے جماعت نہ سمجھ لیں، وہ جماعت جسے اقبال کہتے تھے:

تھوڑا سا کراچی

کراچی میں یوں تو کھانے پینے کی سبھی چیزیں اچھی ہوتی ہے۔لسی کی سب سے بری خوبی یہ ہے کہ اس کے لئے گلاس خاص سائز کے بنتے ہیں۔ باہر سے آنے والے لوگ دو تین منٹ خالی گلاس کو ہی دیکھتے رہتے ہیں ۔اور اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔اتنے برے گلاس میں اگر آدمی چائے یا سادہ پانی ہی پی لے تو بے ہوش ہوجائے،لیکن اتنی لسی پی کر آدمی ہوش میں آجاتا ہے۔

ٹ

”ٹ“ سے ہوتا ہے ٹکڑا، اسے پنجابی میں ٹوٹا بھی کہتے ہیں۔ اس کا استعمال پاکستان میں بہت ہوتا ہے۔ یہ چاول میں بھی ہوتا ہے اور فلموں میں بھی ہوتا ہے۔ پاکستانی مائیں اپنے جگر کے ٹکڑے کو دھمکی دینے کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں کہ ابھی تمہارا باپ آئے گا تو تمہارے ٹوٹے کرواوٴں گی۔ آپ جسے جاپانی میں ”ہین“ کہتے ہیں۔

ت

پیارے بچو ”ت“ سے ”تو“ ہوتی ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ”پھر“، تو پھر یعنی مجھے کیا۔ ”ت“ سے تُو بھی ہوتی ہے، جو تُو تُو مَیں مَیں میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ پاکستان میں عام ہوتی ہے لیکن اس کا استعمال سامنے والے کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ پاکستانی قوم اس معاملے میں جاپانیوں سے زیادہ سمجھ دار ہے، جاپانی اس معاملے میں ٹھنڈے گھڑے ہیں، گھڑا پہلے گھڑی ہوتی تھی، ایک پہر میں آٹھ گھڑیاں ہوتی تھیں، اس کی وجہ سے آٹھ پہر چونسٹھ گھڑیاں مشہور ہیں۔

ایک سوال

دس محاورات یاد کرنے کے لیے میں نے بڑے پاپڑ بیلے خوب ایڑی چوٹی کا زور لگایا دن رات ایک کردیامگر شاید محاورات اور میرے دماغ کے درمیان چھتیس کا آنکڑا تھا کہ اوّل تو کوئی محاورہ دماغ کی گرد کو بھی نہ پہنچ پاتا لیکن اگر قدم رنجہ فرماتا بھی تو جمعہ جمعہ آٹھ دن

پ

’پ‘ سے پکی ہوتی ہے پیارے بچو، یہ کچی کا متضاد ہے، اسے اُلٹ بھی کہہ سکتے ہیں، جسے سمجھ نہ آئے اُسے پاکستان میں اُلٹا لٹکاتے ہیں، خاص طور پر قربانی کے بکرے کو۔ کچی سٹرک بھی ہوتی ہے، الیکشن پہ مضبوط امیدوار پکی اور کمزور امیدوار کچی سڑک، اپنے اپنے طریقے سے بنواتے ہیں، کامیاب امیدواروں میں سے دو امیدواروں نے پکی پکی تازہ روٹی بھی بنوانے کی کوشش کی، ایک کا تو لوگوں نے پکا پکا انتظام کر دیا تھا، دوسرے کی ابھی پکے پہ ٹانگیں ہیں۔

ٹماٹر

عدالت کتنی سٹرانگ ہوتی ہے اس کا اندازا آپ ٹماٹر سے لگالیجئے ۔ ٹماٹر10مارچ 1893ء تک پوری دنیا میں فروٹ تھا۔ سپریم کورٹ کا ایک حکم آیا اور ٹماٹر پوری زندگی کیلئے سبزی بن گیا۔

پولیس آوے ہی آوے

مجھے لگتا ہے آصف زرداری کی طرح میں بھی ایک مضبوط اعصاب کا مالک ہوں … آپ کہیں گے یہ مثال تو میں نے اپنی اوقات سے بڑھ کر دے دی ہے، بندہ ”عام“ ہو تو خود کو ”خواص“ سے کیوں ملائے لیکن ایک بات اگر دل و دماغ میں سمائی ہو تو آپ اُسے نکال نہیں سکتے … بچے بڑوں کی نکل کرتے ہیں غریب امیر آدمی بن جانے کی خواہش رکھتا ہے …

بد پرہیزی کے صارفین کے نام

خرابی بسیار برطرف، بدپرہیزی ایک ”گناہِ بالذت“ ہونے کے ساتھ ساتھ مسیحانہ حکم عدولی کی ایک تفریحی سرگرمی بھی ہے۔ یہ بیماری کے دوران حملہ آور جراثیم کے تواضع کی مساعی جمیلہ بھی ہے اور معصوم معدے سے اظہار یک جہتی اور لذت کام و دہن کے ساتھ شانہ نشانہ کھڑے ہونے کی ایک حقیرانہ کوشش بھی ہے۔

شوہر برائے فروخت

حکیم چرغا

آج زرق برق لدھیا نوی المعروف حکیم چرغا کی برسی ہے ۔ حکیم چرغا کی وضاحت آگے آئے گی ۔

"زیرِ تعمیر آدمی"

یادِ عہدِ یوسفی میں قبلہ یوسفی صاحب کی معیت (ع پر زور دے کر) میں اپنا مختصر سا خاکہ تو نہیں خاکہ نما کہہ لیں۔
مزید مضامین