بند کریں

مزید عنوان

لطیفے

استاد شاگرد سے

جج چور سے

ہوٹل

ایک شخص

باپ بیٹے سے

گاہک درزی سے

عجیب واقعہ

کوڑا

میچ

گدھا

مزید لطیفے

مزاحیہ ادب

بیویاں

سسرال میں جو میکے سے آتی ہیں بیویاں
سوسو طرح سے دھوم مچاتی ہیں بیویاں

نکھٹّو کی بیوی

منشی جی کی بکری

آموں سے علاج

مرحوم کا انتقال ہیضے میںہوا تھا مگر آپ جانتے ہیں کہ سپاہی اگر گھوڑے پر گولی کھائے یا پیراک کا مزار دریا کی موجوں میں بنے تو اس پر کسی کو تعجب نہیں ہوتا چاہیے، بلکہ سچ پوچھیے تو سپاہی اور پیراک کے لیے یہ نہایت شرم نام بات ہے کہ چار پائی پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مریں۔بالکل اسی طرح مرحوم نے ہیضے میں جاں بحق ہو کر گویا اپنی مٹی ٹھکانے لگا دی

توپ اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی

حضرات بعض لوگ بڑے بڑبولے ہوتے ہیں مجھے ایسے لوگوں سے بڑی چڑ ہے ایک فرانسیسی نواب بیرن ڈی ٹاٹ نے ایک کتاب میں اپنا ایک معرکہ یوں بیان کیا ہے ۔

میں نے قیدی کیسے چھڑائے

اب سنیئے کہ میں نے کیسے انگریزی قیدیوں کو فرانسیسوں کی قید اور ظلم کے پنجے سے نکالا ۔ جبرالٹر سے انگلستان واپسی کا سفر میںنے فرانس کے راستے کیا میں چونکہ غیر ملکی تھا لہٰذا مجھے کوئی تکلیف نہ ہوئی۔

چل میرے غبارے

ایک بار میںنے ایک اتنا بڑا غبارہ بنا یا کہ آپ یقین نہ کریں گے لندن اور گردو نواح کے شہروں میں جتناریشمی کپڑا بھی موجود تھاوہ سارا لے کر میں نے اس کے بنانے میںخرچ کر دیا۔

کریکٹر کی قیمت!

کل کی غیر منصفانہ بارش کے دوران ایک قلندر کی بات ہمیں پانی پانی کر گئی اس بارش کو ہم نے غیر منصفانہ اس لیے کہا کہ یہ کہیں ہوئی اور کہیں نہیں ہوئی۔
مزید مزاحیہ ادب

مزاحیہ کالم

شوہر نامہ

شوہر جی اُٹھو گھر سے نکلو شادی کاسوگ منانا کیا
جو ہونا تھا وہ ہو کے ربا اب دل کو اور جلانا کیا

شوہر کی فریاد

ہم اپنے کمرے میں بے یارومددگار بیٹھے ہیں
کہ ڈرائنگ روم میں بیوی کے رشتہ دار بیٹھے ہیں
یہاں ہم بیٹھ کر چائے کے اک کپ کو ترستے ہیں
وہاں سب لے کے بسکٹ کیک کے انبار بیٹھے ہیں

اچھی سی سواری

آج تو دفتر میں کام کرکر کے کمر ہی ٹوٹ گئی تھی ہماری بڑی مشکل سے جسم کے باقی حصوں کو اٹھائے ہوئے ہم کسی اچھی سواری کی تلاش میں تھے۔ویسے تو ہم روزانہ بس میں ہی جایا کرتے تھے، مگر آج بس میں جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی سوچا کوئی اچھی سی سواری ہونی چاہیے، مگر،مگر، کون سی؟

بیوی سے لڑنے کے فوائد

غور فرمائیے !! آج تک آپ نے بیوی سے جھگڑے کے نقصانات پڑھے ہونگے تو آئیے آپ کو فوائد سے متعارف کراتے ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی سے ملاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر

یُوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ہیں

تلاش گمشدہ

ایک روز ایک مُنہ بولی شاعرہ بھی ہمارے در پَے آزار ہوگئیں کہ ناچیز کی تازہ غزل سُنئے۔ غزل سُن کر ہمیں تو کچھ کچھ شک ہونے لگا کہ یہ اپنی غزلیں بھی ناچیز ہی سے لکھواتی ہیں کیونکہ ایسی گھٹیا غزلیں یہ خود لکھ ہی نہیں سکتیں۔
🌄

نیا اینگل

ہم نے ایک صاحب کو دیکھا جو یوٹیلٹی اسٹور کے باہر لمبی لائن کو دیکھ کر رو رہے تھے، وجہ پوچھی تو بھڑک اٹھے”ہم پر حکومت کرنے والوں کی سمجھ نہیں آتی، پہلے کے حکمرانوں نے ہمیں ترغیب دی تھی
🌄

حضور کو عادت ہے بھول جانے کی۔شوکت علی مظفر

ملک صاحب کی عادت ہے وہ کسی کام کے سلسلے میں جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں اب یہ کام ہونے کا نہیں، کیونکہ ان کے وعدے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے ”بھول جاؤ!“
مزید مزاحیہ کالم

مزاحیہ مضامین

دست زلیخا

بابائے انگریزی ڈاکڑسمویل جانسن کا یہ قول دل کی سیاہی سے لکھنے کے لائق ہے کہ جو شخص روپے کے لالچ کے علاوہ کسی اور جزبے کے تحت کتاب لکھتا ہے،اس سے بڑا احمق روئے زمین پر کوئی نہیں۔

اپنا تو بن!

اگر کوئی ہمیں دبلے اور موٹے آدمی میں فرق پوچھے تو ہم بغیر کسی تمہید کے کہہ دیں گے کہ ان میں وہی فرق ہے ،جو ایک سردوگرم چشیدہ پہلوان اور اس کے نوخیز پٹھے میں ہوتا ہے ۔

ولیمہ دنگل

پچھلے دنوں ہمیں ایک رجسٹری موصول ہوئی ۔کھول کر دیکھا تو اس میں سے ایک ولیمہ کا اشتہار برآمد ہوا۔جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔”

خود ہنسائی

چار جماعتیں آٹھ مرتبہ پڑھی ہیں ۔پرائمری سکول میں پڑھتے ہوئے میرے آئیڈیل وہ اساتذہ کرام تھے ،جو صبح دس بجے تبدیلی آپ وہوا کی خاطر سکول آتے تھے ۔

ملفو ظات گفتار غازی علیہ ماعلیہ

”خانگی جھگڑوں میں غلطی میاں کی ہو یا بیوی کی معافی
ہمیشہ میاں کو ہی مانگنا پڑتی ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟“

بارہ برس بعد

مثل مشہور ہے کہ بارہ برس کے بعد گھوڑے کے دن بھی پلٹتے ہیں ۔مثالیں تو بہت سی مشہور ہیں سوال یہ ہے کہ ان میں سے صداقت کتنی آتی ہیں ۔

آخری موقع

آخر آج گھر کی بڑی بوڑھی محترمہ نے اپنا تکیہ اڈھیرا۔اس کی روئی نکا لکر چار پائی پر ڈھیر کی اور اس میں سے ایک پوٹلی نکا لکر ہمارے سامنے رکھدی کہ لو میاں پیسہ پیسہ دو دو پیسے جوڑ کر یہ رقم میں نے اپنے کفن دفن کے لئے جمع کی تھی

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے

عبدالرحمن

ایک اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی ہے ۔دن بھر کی تھکن دور کرنے کے لیے ناولٹی سینما کا آخری شو دیکھنے والے سید مٹھا بازار کے محنت کش عبدالرحمن کو یہ تفریح انتہائی مہنگی پڑی ۔

ڈاکٹر بیوی

مجھ کو ہے دل کا عارضہ اور میری بیوی ڈاکٹر
پھر بھلا ہر مزے کی چیز مجھ سے نہ دور جائے کیوں

”خوشبو “ والی شاعرہ

کہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کو وقت سے پہلے بالغ کرنے میں تین چیزوں کا ہاتھ ہے۔گرمی ‘غربت اور پروین شاکر۔اور انہیں دیر تک جوان رکھنے میں صرف

ملکہ غزل

ان دنوں والد محترم ہمیں لاہور لائے اور مقبرہ جہانگیر کی سیرکروائی۔واپسی پروہ ہمیں مقبر ہ نور جہاں لے گئے تو ہم زارو قطاررونے لگے۔ والد صاحب نے پوچھا”تمہیں نور جہاں کی کیا بات پسند تھی؟

خواجہ سگ پرست

پیپلز پارٹی کے خواجہ نصر الدین یعنی شیخ رفیق کو ہم نے جب بھی دیکھا ‘کھاتے دیکھا یا بولتے ہوئے۔ان کی باتیں باسر وپا ہوتی ہیں یعنی ان میں بھی سری پایوں کی لذت ہے

وزیر بیان

اخبار پڑھ کر ہمیں تو لگتا ہے ہر وزیر ہی وزیر بیان ہے ۔ایک سیاست دان کی سانس اکھڑ رہی تھی۔آکسیجن لگا نے سے بھی بہتر نہ ہوئی تو اس کا پی سے ایک صحافی کو پکڑ لایا۔سیاست دان موصوف نے بیان دیا تو ان کی سانس میں سانس آئی ۔

انتظاریہ

انتظاریہ صاحب ہمارے وہ افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں کا انتظار ہوتا ہے ۔ایسے ادیب کہ بندہ ان سے آلوؤں کا بھاؤ پوچھے تو اس کا جو جواب دیں گے ‘وہ ادب ہو گا

ضرورت سر رشتہ

آپ ضرورت رشتہ کے اشتہار دیکھیں جن میں اکثر یہ لکھا ہوتا ہے کہ کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر یاسرکاری ملازم کا رشتہ درکار ہے ۔یہ نہیں لکھا ہوتا کہ سرکاری ملازم گریڈ 17کا ہویا نیچے کا کیونکہ انہیں پتہ ہے گریڈ جو بھی ہوگا اوپر کی آمدنی کافی ہو گی اور لڑکی خوش رہے گی
مزید مضامین