بند کریں

مزید عنوان

لطیفے

باپ بیٹے سے

قابل داد

ڈرئیوری کا امتحان

گاہک

استاد شاگرد سے

بھارت کے صوبہ بہار

ڈاکٹر مریض سے

نائی

وکیل

شیر ہے شیر

مزید لطیفے

مزاحیہ ادب

اقبال کے گانے کا عاشق!

میرا ایک لا ہور یا دوست حج کرنے گیا تو وہاں سخت بیمار پڑ گیا اس نے خانہ کعبہ میں بیٹھ کر اپنے والد کو خط لکھا کہ میں شدید بیمار ہوں‘ آپ داتا دربار جا کر میرے لیے دعا کریں

سنہء

اوروں کا حال معلوم نہیں، لیکن اپنا تو یہ نقشہ رہا کہ کھیلنے کھانے کے دن پانی پت کی لڑائیوں کے سن یاد کرنے، اور جوانی دیوانی نیپولین کی جنگوں کی تاریخیں رٹنے میں کٹی

پڑیے گر بیمار

اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں باعزت طریقے سے مرنا ایک حادثہ نہیں، ہنر ہے جس کے لیے عمر بھر ریاض کرنا پڑتی ہے

چارپائی اور کلچر

میرے نزدیک چارپائی کی دِلکشی کا سبب وہ خوش باش لوگ ہیں جو اس پر اُٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہیں
🌄

کافی

تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل لی جائے۔

ڈیزائنوں والا شاعر ۔۔ وسیم عباس

شاعر یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔جو نہیں ہوتا اسے زیادہ داد ملتی ہے کیونکہ اس کا کلام سننے والوں کو بھی بھلا کہاں اوزان کا علم ہوتا ہے ۔ وسیم عباس کے بارے میں ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ شاعر ہے یا نہیں ۔شعر کہنے کا فارمولا اس نے بھی وہی اپنا رکھا ہے جو ہم نے اپنایا ہے البتہ اس کا گلا ہم سے زیادہ صاف ہے لہذا اکثر اٹکے بنا آگے نکل جاتا ہے ۔شاعری بہتر بنانے کے لئے باقاعدگی سے مشق کرتا ہے ۔ اسی لئے روز صبح اٹھ کر دو گھنٹے مٹکے میں منہ ڈال کر شعر کا ردھم ٹھیک کرتا ہے ۔ ایک مشاعرے میں وسیم عباس ٹھسے سے بیٹھا شعر کہ رہا تھا

کتے کی کہانی گدھے کی سرگزشت

مدتوں سے بنی نوع انسان کا دوست اور مددگار ہونے کا فریضہ سرانجام دینے کے ناطے کتا ایک وفادار جانور کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ کئی شاعروں نے اس کی تعریف و توصیف میں بے شمار قصیدے بھی لکھے جب کہ بحیثیت مزاح نگار پطرس بخاری بھی۔۔۔

ایکٹومزاح نگاراوربیویوں کے لطیفے

عطاء الحق قاسمی اس وقت اردو کے سب سے بڑے ”ایکٹو“ مزاح نگار ہیں کیونکہ․․․ مشتاق احمد یوسفی (اللہ اُن کی بھی عمر دراز کرئے) آجکل الیکٹرونکس میڈیاپر ”ایکٹو“ ہیں اور ۔۔۔
مزید مزاحیہ ادب

مزاحیہ کالم

مشتاق احمد یوسفی سے ملاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر

یُوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ہیں

تلاش گمشدہ

ایک روز ایک مُنہ بولی شاعرہ بھی ہمارے در پَے آزار ہوگئیں کہ ناچیز کی تازہ غزل سُنئے۔ غزل سُن کر ہمیں تو کچھ کچھ شک ہونے لگا کہ یہ اپنی غزلیں بھی ناچیز ہی سے لکھواتی ہیں کیونکہ ایسی گھٹیا غزلیں یہ خود لکھ ہی نہیں سکتیں۔
🌄

نیا اینگل

ہم نے ایک صاحب کو دیکھا جو یوٹیلٹی اسٹور کے باہر لمبی لائن کو دیکھ کر رو رہے تھے، وجہ پوچھی تو بھڑک اٹھے”ہم پر حکومت کرنے والوں کی سمجھ نہیں آتی، پہلے کے حکمرانوں نے ہمیں ترغیب دی تھی
🌄

حضور کو عادت ہے بھول جانے کی۔شوکت علی مظفر

ملک صاحب کی عادت ہے وہ کسی کام کے سلسلے میں جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں اب یہ کام ہونے کا نہیں، کیونکہ ان کے وعدے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے ”بھول جاؤ!“
🌄

ابتر اشتہارات۔دل آویز

آوارگی میں تمام دن جوتے چٹخانے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ کسی امیر زادی سے شادی کا ڈھونگ رچا کے نہ صرف گھر دامادی جیسی فرمانبردار نیز منافع بخش آفر قبول کریں
🌄

ہم ایک رسالہ نکالیں گے

ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی صا حبو چند دنوں پہلے بدن کی بالائی اور نسبتا ویران منزل میں ایک عجیب طرح کا سودا سمایا کہ ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔
🌄

شادی سے پہلے۔قسط نمبر 4 ۔مخزن علی

🌄

طنزو مزاح ایک معاشرتی ضرورت

اس دنیا میں کیا فلسفی ، کیا ادیب کیا دانشور سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے دار المحسن ہے۔مجمعوعہ آلام ہے۔
مزید مزاحیہ کالم

مزاحیہ مضامین

غصہ کمہار پر!!

گزشتہ روز ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں اپنایہ پرابلم بتایا اور کہا کہ اس کی وجہ سے بہت عذاب میں ہوں ‘اس نے میرامسئلہ حل کرنے کی بجائے مجھے ایک صوفی کا قصہ سنایا

بالائی طبقہ!

یہ طبقہ وہ ہے جو دودھ پر سے بالائی اتار کر کھا جاتا ہے اور باقی جو ”پھوک“ بچتاہے اس میں چھپڑ کا پانی ملا کر بارہ کروڑ عوام میں تقسیم کر دیتا ہے

ایک غلطی کا ارتکاب!

جب کوئی بڑے ثقہ قسم کے بزرگ ہمارے امریکہ یاترا سے آگاہی کی صورت میں بظاہر یہ معصوم سا سوال پوچھتے ہیں کہ حضرت سنا ہے وہاں اخلاق کی دھجیاں روز روشن میں بکھیری جاتی ہیں کیا درست ہے ؟

ایک آسان کام!

حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے اس لئے میں حکومت نہیں کرتا، حکومت کرنے کے لیے الیکشن کے دوران دس کروڑ عوام کی محکومی کرنا پڑتی ہے ان سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے ان کی جھگیوں میں جانا پڑتا ہے اور ان کے ساتھ شوربے میں لقمہ ڈبو کر کھانا پڑتا ہے وہابیوں کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی ہے

اب ایک فیصلہ مجھے بھی کرنا ہے۔

والد ماجد نے یہ بات اتنے تواتر سے میرے ذہن میں بٹھائی کہ ان کی یہ نصیحت میرے شعور اور لاشعور کا حصہ بن گئی۔ والد ماجد کی تنخواہ چند سو روپے ماہوارتھی اور ہم دس افراد خانہ تھے روکھی سوکھی کھاتے تھے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے تھے

آوازیں!

ہاں میرے خیال میں تم صحیح کہتے ہو۔ ناصر نے ایک بار پھر ہنستے ہوئے کہا ہم لوگ خا صے آرام طلب ہو گئے ہیں میں نے چند برس قبل ایک موقع پر رونے کی کوشش کی تھی گر اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔

کھوٹے اور کھرے سکے!

ہمارے محلے کی نکڑ پر ایک بوڑھے پنساری کی دکان تھی۔ ظاہر ہے اس کی نظر بھی اس وقت خاصی کمزور ہو چکی تھی چنانچہ محلے کے بچے اور نوجوان کھوٹے سکے چلانے کے لیے اسی کی دکان کا رخ کرتے لیکن کچی گولیاں وہ بھی نہیں کھیلا ہوا تھا

اقبال کے گانے کا عاشق!

میرا ایک لا ہور یا دوست حج کرنے گیا تو وہاں سخت بیمار پڑ گیا اس نے خانہ کعبہ میں بیٹھ کر اپنے والد کو خط لکھا کہ میں شدید بیمار ہوں‘ آپ داتا دربار جا کر میرے لیے دعا کریں

سیاسی گداگر

ہم تو بھیک مانگنے کو ایک سماجی برائی سمجھتے ہیں بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس کا ثبوت ہیںاگر یہ نیکی کا کام ہوتاتو دن بدن بھیک مانگنے والوں کی تعداد کم نہ ہوجاتی۔مانگنا دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ ہے۔پہلے قدیم ترین پیشے کے” اصرار وزموز“جاننے والے جانتے ہیں کہ اس کا ووٹ مانگنے والوں سے کیا خوبصورت رشتہ ہے

زن دان مزاحیہ تحریر

پسند تو بلجیم کی جیلیں ہیں اور تعریف ہم پورے بلجیم کی کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہاں اتنے جرائم ہوتے ہیں کہ لوگ اس ڈر سے پستول لے کر گلی میں نہیں نکلتے کہ کوئی چراکر نہ لے جائے لیکن وہاں جرائم پیشہ لوگوں کے علاوہ شرفاءکو جیل پہنچانے کا بھی انتظام ہے،سڑکوں پر لکھا ہوتا ہے کہ آپ شہر میں آہستہ گاڑی چلائیں اور شہر کی سیر کریں۔پھر جیلوں میں قیدیوں کو ہفتہ وار تعطیل ملتی ہے

محترمہ گلوکاری صاحبہ

میڈم نور جہاں نے یہ انکشاف کیا کہ صرف دو آدمی ہیں انہیں گلوکاری سے عشق ہے ایک میں اور ایک عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی۔ہمارے لیے یہ بڑا انکشاف تھا کیونکہ ہم اس سے پہلے میڈم کو آدمی نہیں عورت سمجھتے تھے بہر حال گلوکاروں میں صرف عطاءکو میڈم نے آدمی مانا

مقبوضہ علامہ اقبال

اس لیے پچھلے دنوں اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارتی سفیر نے علام اقبال کے شعرسنائے اور انہیں بھارتی شاعر کہا تو ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ منیر اکرم صاحب نے احتجاج کیا کہ کشمیر کے بعد بھارت ہمارے قومی شاعر پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے

میرا کالااے دلدار

مائیکل جیکسن جس نے چہرے کی جلد پلاسٹک سرجری سے گوری کرلی لیکن وہ بھی کہتا ہے میں پیدائشی کالا نہیں جب میں پیدا ہوا تو گوراتھا مگر ہسپتال میں نرس کی غلطی سے مجھے کالے سے بدل دیا گیا

ایگ سیمینار

جو کام حکومت نہ کرکسی وہ محکمہ امتحانات نے کردیا یعنی انگریزی کی جگہ اردو رائج کردیا ہمیں امید ہے کہ محکمہ امتحانات مزید حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیکل کے پرچوں کی بجائے بھی اردو کے پرچے دے گا ویسے بھی جب بیماری انگریزی سے اردو میں آتی ہے

پینٹ بمقابلہ لاچا

ہم ڈاکئے کے اس وقت کے معترف ہیں جب وہ کبوتر ہوتا تھا اور اس کی مدح میں میڈیم نور جہاں نے یہ گانا گایا تھا ”واسطہ ای رب دا توں جانویں دے کبوترا“اردو پر ڈاکیے کا اتنا بڑا احسان ہے کہ ڈاکیا نہ ہوتا تو تمام عاشقوں کا اپنے محبوب اور اردو ادب سے رابطہ کٹ چکا ہوتا

ھاف برادر

ایک محقیق نے اپنی گرل فرینڈ کو کہا میں اپنی Roots تلاش کرنے کے بعد شادی کروں گا ریسرچ مکمل ہوئی تو لڑکی نے شادی کے لیے کہا موصوف بولے میرے باپ داد نے جو کام نہیں کیا وہ میں کیوں کروں؟مگر کبھی کبھی تو امریکی بھی اپنی ریسرچ کرجاتے ہیں جیسے جب نواب اچھن مرزا جو لکھنو کے بڑے رئیس تھے
مزید مضامین