بند کریں

مزید عنوان

لطیفے

ایک لڑکا

ڈاکڑ مریض سے

ضمیر

استاد شاگرد سے

بوڑھا

شوہر بیگم سے

لکھا ہوا کھیل

مجسٹریٹ ملزم سے

شوہر اپنی بیوی سے

ایک کنجوس

مزید لطیفے

مزاحیہ ادب

سنہء

اوروں کا حال معلوم نہیں، لیکن اپنا تو یہ نقشہ رہا کہ کھیلنے کھانے کے دن پانی پت کی لڑائیوں کے سن یاد کرنے، اور جوانی دیوانی نیپولین کی جنگوں کی تاریخیں رٹنے میں کٹی

پڑیے گر بیمار

اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں باعزت طریقے سے مرنا ایک حادثہ نہیں، ہنر ہے جس کے لیے عمر بھر ریاض کرنا پڑتی ہے

چارپائی اور کلچر

میرے نزدیک چارپائی کی دِلکشی کا سبب وہ خوش باش لوگ ہیں جو اس پر اُٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہیں
🌄

کافی

تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل لی جائے۔

ڈیزائنوں والا شاعر ۔۔ وسیم عباس

شاعر یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔جو نہیں ہوتا اسے زیادہ داد ملتی ہے کیونکہ اس کا کلام سننے والوں کو بھی بھلا کہاں اوزان کا علم ہوتا ہے ۔ وسیم عباس کے بارے میں ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ شاعر ہے یا نہیں ۔شعر کہنے کا فارمولا اس نے بھی وہی اپنا رکھا ہے جو ہم نے اپنایا ہے البتہ اس کا گلا ہم سے زیادہ صاف ہے لہذا اکثر اٹکے بنا آگے نکل جاتا ہے ۔شاعری بہتر بنانے کے لئے باقاعدگی سے مشق کرتا ہے ۔ اسی لئے روز صبح اٹھ کر دو گھنٹے مٹکے میں منہ ڈال کر شعر کا ردھم ٹھیک کرتا ہے ۔ ایک مشاعرے میں وسیم عباس ٹھسے سے بیٹھا شعر کہ رہا تھا

کتے کی کہانی گدھے کی سرگزشت

مدتوں سے بنی نوع انسان کا دوست اور مددگار ہونے کا فریضہ سرانجام دینے کے ناطے کتا ایک وفادار جانور کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ کئی شاعروں نے اس کی تعریف و توصیف میں بے شمار قصیدے بھی لکھے جب کہ بحیثیت مزاح نگار پطرس بخاری بھی۔۔۔

ایکٹومزاح نگاراوربیویوں کے لطیفے

عطاء الحق قاسمی اس وقت اردو کے سب سے بڑے ”ایکٹو“ مزاح نگار ہیں کیونکہ․․․ مشتاق احمد یوسفی (اللہ اُن کی بھی عمر دراز کرئے) آجکل الیکٹرونکس میڈیاپر ”ایکٹو“ ہیں اور ۔۔۔

مکالمہ

آج کل علم تاریخ یہ بحث چل نکلی ہے کہ اس کاانسان کوبالکل کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔دوسرانظریہ یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعے سے حال اور مستقبل کوسنواراورماضی سے ایک سبق حاصل کیاجاسکتا ہے۔
مزید مزاحیہ ادب

مزاحیہ کالم

مشتاق احمد یوسفی سے ملاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر

یُوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ہیں

تلاش گمشدہ

ایک روز ایک مُنہ بولی شاعرہ بھی ہمارے در پَے آزار ہوگئیں کہ ناچیز کی تازہ غزل سُنئے۔ غزل سُن کر ہمیں تو کچھ کچھ شک ہونے لگا کہ یہ اپنی غزلیں بھی ناچیز ہی سے لکھواتی ہیں کیونکہ ایسی گھٹیا غزلیں یہ خود لکھ ہی نہیں سکتیں۔
🌄

نیا اینگل

ہم نے ایک صاحب کو دیکھا جو یوٹیلٹی اسٹور کے باہر لمبی لائن کو دیکھ کر رو رہے تھے، وجہ پوچھی تو بھڑک اٹھے”ہم پر حکومت کرنے والوں کی سمجھ نہیں آتی، پہلے کے حکمرانوں نے ہمیں ترغیب دی تھی
🌄

حضور کو عادت ہے بھول جانے کی۔شوکت علی مظفر

ملک صاحب کی عادت ہے وہ کسی کام کے سلسلے میں جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں اب یہ کام ہونے کا نہیں، کیونکہ ان کے وعدے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے ”بھول جاؤ!“
🌄

ابتر اشتہارات۔دل آویز

آوارگی میں تمام دن جوتے چٹخانے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ کسی امیر زادی سے شادی کا ڈھونگ رچا کے نہ صرف گھر دامادی جیسی فرمانبردار نیز منافع بخش آفر قبول کریں
🌄

ہم ایک رسالہ نکالیں گے

ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی صا حبو چند دنوں پہلے بدن کی بالائی اور نسبتا ویران منزل میں ایک عجیب طرح کا سودا سمایا کہ ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔
🌄

شادی سے پہلے۔قسط نمبر 4 ۔مخزن علی

🌄

طنزو مزاح ایک معاشرتی ضرورت

اس دنیا میں کیا فلسفی ، کیا ادیب کیا دانشور سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے دار المحسن ہے۔مجمعوعہ آلام ہے۔
مزید مزاحیہ کالم

مزاحیہ مضامین

اقبال‘اشفاق احمد اور ملا

ان دنوں اشفاق احمد دانشوروں کی بمباری کی زدمیں ان میں سے ایک مظفر علی سید اور دوسرے اپنے انتظار حسین ہیں اشفاق احمد کو پیپلز پارٹی کے دور میں اردو سائنس بورڈ کی”ڈائریکٹری“سے بیک بینی دو گوش نکال باہر کیا گیا

لیڈی ڈیانا‘مولانا عبدالقادر آزاداور امیر گلستان جنجوعہ

یہ فقیر جب کبھی لندن جاتا تو فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے بھی احتیاطًا دائیں بائیں دیکھ لیتا کہ کہیں شہزادی صاحبہ ہم رکاب تو نہیں ہیں یہ اس جذبہ ارادات مندی ہی کا کرشمہ تھا

میں نے کہا کچھ نہیں ‘اس نے کہاٹھیک ہے

میں نے اپنے بارے میں کچھ افواہیں بھی سنیں جو اتنی دل خوش کن تھی کہ تردید کو جی نہیں چاہتا مگر آخر اللہ کو جان دینی ہے لہٰذا کیوں نہ صاف صاف بتا دوں کہ پہلے میں اپنا سٹڈی روم بنانے اور سنوارنے میں لگارہا

کچھ وزیروں کے بارے میں

جب سے کابینہ بنی ہے بچے کہہ رہے ہیں ابو ہمیں وزیر دکھاﺅ لیکن ہم ان کی یہ خواہش بھی پوری نہیں کرسکے بچوں پر ہی کیا موقوف خود ہم نے ابھی تک اپنی ہی خواہش پوری نہیں کی

”اصلی طنزو مزاح کانفرس“

اسلام آباد کی طنزو مزاح کانفرس کو اس طرح نظر انداز کرنا ممکن نہیں لیکن افسوس کہ یار ان سریل کا دھیان ہی اس طرف نہیں گیا

ایک درد ناک لطیفہ

ایک شخص نے بابو ہوٹل میں آرڈر دیا چھ پلیٹ مرغی چار پلیٹ دال آٹھ پلیٹ سبزی پانچ پلیٹ قورمہ ایک ڈش پلاﺅاور پچاس روٹیاں تھوڑی دیر بعد یہ آرڈر میز پر سجادیا گیا اور وہ شخص چشم زدن میں یہ سب کچھ چٹ کرگیا

دال روٹی

اس دعوت میں شہر کے چیدہ چیدہ لوگ شامل تھے جب دستر خوان بچھا تو ہم نے دیکھا کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک انواع و اقسام کی دالیں سجی ہوئی تھیں بس آپ کوئی بھی دال تصور میں لائیں وہ اس دستر خوان پر موجود تھی

سگریٹ پینے والا شیر

ٹی وی سے سگریٹ نوشی کے خلاف چلائی جانے والی اس مہم کا توڑ بھی خود ٹی وی نے نکالا ہے چنانچہ ان دنوں مختلف سگریٹ کمپنیوں کے کمزشلز بھی اس مہم کے شانہ بشانہ دکھائے جاتے ہیں جن میں سگریٹ نوشی کا گلیمردکھایا جاتا ہے

عبدالغفار خان کی عید

خان عبدالغفار خان کے بارے میں خبر شائع ہوئی ہے کہ انہوں نے ملک کی سیاسی صورت حال کے پیش نظر عید نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وہ عید کے روز چار سدہ میں نماز ادا کریں گے اور خطاب بھی کریں گے

گرین کارڈ ہولڈر ہیرو

ان دنوں جب کوئی دوست مجھے اپنی کتاب کی اشاعت کی خوشخبری سناتا ہے تو میرا دل ڈوب جاتا ہے کہ اب ایک اور کتاب کے بارے میں جھوٹ بولنا پڑے گا مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غفور الرحیم ہے

سفید پوشوں کے لئے قیمتی مشورے

سفید پوشوں کو مشورے دینے والے بہت ہیں اور ابھی تک یہ مشورے ان مشورے دینے والوں کے لئے بھی بہت قیمتی ثابت ہوئے ہیں مثلاً ہر سفید پوش کو روٹی کپڑا اور مکان کے حصول کا مشورہ دینے ہی کی بدولت عوامی حکومت وجود میں آئی

ہاتھی سوار محمود‘ پیدل ایاز

وہ بھی کیسے اچھے دن تھے جب رمضان المبارک میں ملک بھر کے ہوٹل بند ہوتے تھے اور باہر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا کہ رمضان المبارک کے احترام میں ہوٹل بند ہے براہ کرم کھانا کھانے کے لیے پچھلے دروازے سے تشریف لائیں

ہنسنے والا بوڑھا

کراچی ائر پورٹ پر ایک دوست نے ایک بوڑھے شخص کی طرف اشارہ کیا اورکہا یہ ہنسنے والا بوڑھا ہے میں نے حیران ہوکر پوچھا کیا مطلب؟ دوست نے کہا اس کے سامنے اگر کوئی ہنسے تو جواب میں یہ بوڑھا بھی ہنسنا شروع کردیتا ہے

ایک لانگ ڈسٹینس کال

”السلام علیکم بھائی جان میں لاہور سے انور بول رہا ہوں۔“”شکر ہے یار تمہاری آواز سنائی دی ‘مگر آواز بہت کم آرہی ہے ذرا اونچا بولو۔“”بھائی جان شکر کریں فون مل گیا ہے

ضرورت رشتہ

ضرورت تو ہر انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے خصوصاً ضرورت رشتہ کی اہمیت سے تو انکار نہیں یہی وجہ ہے کہ ہر شریف آدمی ضرورت نہ بھی ہو ضرورت رشتہ کا قائل ضرور ہوتا ہے

چور بھائی !پھر کب آﺅ گے؟

یہ واقعہ میرے رفیق کا راسد اللہ غالب کے گھرکا ہے رات کو جب اسد اللہ غالب اپنے اہل خانہ کے ساتھ سورہے تھے چور آئے اور کھڑکی توڑ کر گھر میں داخل ہوگئے
مزید مضامین