Aisi Ehtiyat Se Ehtiyat Bhali - Article No. 2692

ایسی احتیاط سے احتیاط بھلی - تحریر نمبر 2692
دوسرے محلے میں شادی وغیرہ میں کوئی پٹاخہ بھی چلے تو انکل بھاگ کر تہہ خانے میں چھپ جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں تیسری عالمی جنگ شروع ہو گئی ہے
جمعرات 13 نومبر 2025
ناصر محمود ملک
زندگی میں احتیاط کرنا بڑا ضروری ہے لیکن احتیاط ایک حد سے بڑھ جائے تو پھر احتیاط ہی باقی رہتی ہے زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ہمارے ایک انکل اسی ٹائپ کی احتیاط کے قائل ہیں۔آپ زندگی میں کچھ بھی نہیں کر سکے سوائے احتیاط کرنے کے۔اسی احتیاط کی بنا پر گھر سے نکلنا اُن کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں اور دوسری طرف اُن کا گھر میں رہنا گھر والوں کے لئے اک عذاب سے کم نہیں۔انکل کا نام اخلاق صاحب ہے لیکن اُن میں اخلاق نام کو بھی نہیں ہے۔گفتگو ایسی کہ بندہ سر پکڑ لے۔بس! ”کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی“۔
انکل پوری زندگی بدترین احتیاط کے مرتکب رہے ہیں۔یوں سمجھئے کہ اگر انہیں تیمم بھی کرنا پڑے تو پانی کے ساتھ کرتے ہیں اور اگر انہیں آبِ حیات بھی میسر ہو تو اُسے اُبال کر پئیں گے۔
انکل فوٹو کاپی کروانے کے شوقین ہیں۔وہ انتہائی احتیاط اور انجانے خدشات کے پیشِ نظر، اپنے ہاتھ لگنے والے ہر کاغذ کی سب سے پہلے فوٹو کاپی کروائیں گے۔اس بات پر ان کی تاکید اور احتیاط دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کا بس چلے تو وہ خود اپنی بھی ایک فوٹو کاپی کروا لیں اور گھر سے باہر بھیجنا ہو تو فوٹو کاپی کو بھیجا کریں اور اصل یعنی خود کو گھر میں رکھا کریں۔ایک دو مرتبہ انہوں نے گھر والوں سے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے۔گھر والوں کو بھی یہ آئیڈیا بڑا پسند آیا ہے بس فرق صرف یہ ہے کہ گھر والے کہتے ہیں کہ وہ خود باہر جایا کریں گے اور فوٹو کاپی گھر میں رہے گی۔فوٹو کاپی کے لئے ان کی احتیاط اس سے ملاحظہ فرمائیں کہ اُن کے پاس مکان کی رجسٹری سے لے کر محلے کے سٹور سے خریدی ہوئی ڈبل روٹی کے بل کی فوٹو کاپیاں موجود رہتی ہیں۔گھر میں کئی صندوق ان کاغذات سے بھرے رکھے ہیں۔ایک کمرہ خاص طور پر ان کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ہر کاغذ کی دو تین فوٹو کاپیاں کروا کے مختلف جگہوں پر سنبھال رکھیں ہیں۔لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ ان کو جب بھی کسی ایسے کاغذ کی ضرورت پڑتی ہے جو انہوں نے اپنے تئیں بہت سنبھال کر رکھا ہوتا ہے تو وہ ان کو کبھی نہیں ملتا۔پھر جو اس کاغذ کی تلاش شروع ہوتی ہے تو گویا اک طوفانِ بدتمیزی بپا ہو جاتا ہے۔ہر گمشدہ کاغذ انکل کے نزدیک زندگی کے پروانے کی سی حیثیت رکھتا ہے۔اور اس کی تلاش یوں کی جاتی ہے جیسے دیارِ غیر میں کوئی مسافر ایئر پورٹ جانے سے پہلے اپنا گمشدہ پاسپورٹ تلاش کر رہا ہو۔پھر حواس باختگی کے عالم میں سارا دن چھان پھٹک، اکھاڑ پچھاڑ ہوتی رہتی ہے اور کئی اور چیزیں دائیں بائیں ہو جاتی ہیں۔بالآخر بچوں کو دو تین مرتبہ زد و کوب کرنے اور خود اتنی ہی مرتبہ بیگم سے زد و کوب ہونے کے بعد رات گئے جب وہ کاغذ ملتا ہے تو پتہ چلتا کہ کہیں بالکل پاس ہی دھرا تھا۔انکل نے گھر میں احتیاطاً ایک انتہائی خفیہ تہہ خانہ بھی بنا رکھا ہے۔اس کے استعمال کی اجازت اُن کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے۔انکل کہتے ہیں کہ حالات کا کچھ پتہ نہیں نجانے کب خراب ہو جائیں اور جنگ وغیرہ لگ جائے۔یہ تہہ خانہ اسی مقصد کے لئے بنایا گیا ہے۔انکل دن میں کئی مرتبہ اس کمرے کا استعمال کرتے ہیں۔دوسرے محلے میں شادی وغیرہ میں کوئی پٹاخہ بھی چلے تو انکل بھاگ کر تہہ خانے میں چھپ جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں تیسری عالمی جنگ شروع ہو گئی ہے۔پھر اندر سے ہی فون پر پوچھتے رہتے ہیں کہ فوجیں کہاں تک پہنچ گئی ہیں۔وہ خوف کے مارے جس کمرے میں چھپتے ہیں یقین جانئے ہمیں تو اسے دیکھ کر ہی خوف آتا ہے۔اس میں کوئی کھڑکی، دروازہ، روشن دان کچھ بھی نہیں۔بس اک قبر نما گڑھا سا ہے اور اس تنگ و تاریک، گھپ اندھیر گڑھے میں جانے کے لئے جس حوصلے اور ”دلیری“ کی ضرورت ہے وہ صرف انکل کے پاس ہے۔
انکل سے بحث کا مزا آتا ہے۔ان کی گفتگو مقصد، مطلب، منطق اور دلیل وغیرہ جیسی ”خرافات“ سے بالکل ”پاک“ ہوتی ہے۔ایک دن فرمانے لگے، ”ٹیپو سلطان کے لئے میرے دل میں بہت احترام ہے لیکن وہ جو ان کا قول ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘ میں اس کے ساتھ بڑے ادب سے اختلاف کرتا ہوں۔“ میں نے کہا انکل یہ تو بڑا زبردست قول ہے۔اس میں بہادری اور بے خوفی کی بات کی گئی ہے۔کہنے لگے۔
”وہ تو ٹھیک ہے بھئی!! لیکن دیکھیں نا! شیر کی صرف ایک دن کی زندگی یعنی بس صرف چوبیس گھنٹے!! اور دوسری طرف سو سالہ زندگی۔کوئی تناسب نہیں بنتا۔شیر کی کوئی پچاس سالہ زندگی بھی ہو تو بھی کچھ بات بنے۔دیکھیں نا! جان ہے تو جہان ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں کسی خوف کا شکار ہوں۔ایسی بات نہیں ہے۔میں ڈرتا ورتا کبھی نہیں۔“ انکل یہ بات کر رہے تھے تو باہر گلی میں غالباً کوئی بڑا غبارہ بڑے زور سے پھٹا۔اس پر انکل فوراً اور تیزی سے اُٹھے اور تہہ خانے کی طرف بھاگ گئے۔
زندگی میں احتیاط کرنا بڑا ضروری ہے لیکن احتیاط ایک حد سے بڑھ جائے تو پھر احتیاط ہی باقی رہتی ہے زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ہمارے ایک انکل اسی ٹائپ کی احتیاط کے قائل ہیں۔آپ زندگی میں کچھ بھی نہیں کر سکے سوائے احتیاط کرنے کے۔اسی احتیاط کی بنا پر گھر سے نکلنا اُن کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں اور دوسری طرف اُن کا گھر میں رہنا گھر والوں کے لئے اک عذاب سے کم نہیں۔انکل کا نام اخلاق صاحب ہے لیکن اُن میں اخلاق نام کو بھی نہیں ہے۔گفتگو ایسی کہ بندہ سر پکڑ لے۔بس! ”کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی“۔
انکل پوری زندگی بدترین احتیاط کے مرتکب رہے ہیں۔یوں سمجھئے کہ اگر انہیں تیمم بھی کرنا پڑے تو پانی کے ساتھ کرتے ہیں اور اگر انہیں آبِ حیات بھی میسر ہو تو اُسے اُبال کر پئیں گے۔
(جاری ہے)
لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس قدر اذیت ناک احتیاط کے باوجود دنیا میں شاید ہی کوئی بیماری ہو جس کے ساتھ انکل کی باقاعدہ ہاتھا پائی نا ہوئی ہو۔
بے شمار ڈاکٹر حکیموں سے، ان بیماریوں کے توسط سے، انکل کے ذاتی مراسم ہیں۔لیکن آپ نے کبھی ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔انکل کو جلد پر ہلکا سا دانہ بھی نکل آئے تو اُن کا پہلا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ جلد کا کینسر ہے۔پھر اس کے بعد انہیں اس بات پر قائل کرنا اک عذاب سے کم نہیں کہ یہ اک دانہ ہے کینسر نہیں ہے۔اُن کی سوچ کا انداز کسی اناڑی تھانیدار کی طرح ہوتا ہے جو جرم سے مجرم کی طرف جانے کی بجائے مجرم سے جرم کی طرف آنے کی کوشش کرتا ہے۔انکل بھی پہلے کسی بیماری کا تعین خود سے ہی کر لیتے ہیں اور پھر اس کی علامات تلاش کرتے ہیں۔مثلاً اگر انہیں سر میں ذرا سا درد ہو تو وہ طے کر لیتے ہیں کہ انہیں ابھی برین ہیمرج ہونے والا ہے اور انہیں اس قدر یقین ہوتا ہے کہ وہ باقاعدہ یہ ہدایات بھی جاری کر دیتے ہیں کہ ”قومے“ کے دوران اُن کا خیال کیسے رکھا جائے گا۔اس کے بعد وہ متعلقہ علامات کی تلاش شروع کرتے ہیں۔بعد میں جب ایسا نہیں ہوتا تو گھر والوں کی طرح انہیں بھی مایوسی ہوتی ہے۔انکل فوٹو کاپی کروانے کے شوقین ہیں۔وہ انتہائی احتیاط اور انجانے خدشات کے پیشِ نظر، اپنے ہاتھ لگنے والے ہر کاغذ کی سب سے پہلے فوٹو کاپی کروائیں گے۔اس بات پر ان کی تاکید اور احتیاط دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کا بس چلے تو وہ خود اپنی بھی ایک فوٹو کاپی کروا لیں اور گھر سے باہر بھیجنا ہو تو فوٹو کاپی کو بھیجا کریں اور اصل یعنی خود کو گھر میں رکھا کریں۔ایک دو مرتبہ انہوں نے گھر والوں سے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے۔گھر والوں کو بھی یہ آئیڈیا بڑا پسند آیا ہے بس فرق صرف یہ ہے کہ گھر والے کہتے ہیں کہ وہ خود باہر جایا کریں گے اور فوٹو کاپی گھر میں رہے گی۔فوٹو کاپی کے لئے ان کی احتیاط اس سے ملاحظہ فرمائیں کہ اُن کے پاس مکان کی رجسٹری سے لے کر محلے کے سٹور سے خریدی ہوئی ڈبل روٹی کے بل کی فوٹو کاپیاں موجود رہتی ہیں۔گھر میں کئی صندوق ان کاغذات سے بھرے رکھے ہیں۔ایک کمرہ خاص طور پر ان کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ہر کاغذ کی دو تین فوٹو کاپیاں کروا کے مختلف جگہوں پر سنبھال رکھیں ہیں۔لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ ان کو جب بھی کسی ایسے کاغذ کی ضرورت پڑتی ہے جو انہوں نے اپنے تئیں بہت سنبھال کر رکھا ہوتا ہے تو وہ ان کو کبھی نہیں ملتا۔پھر جو اس کاغذ کی تلاش شروع ہوتی ہے تو گویا اک طوفانِ بدتمیزی بپا ہو جاتا ہے۔ہر گمشدہ کاغذ انکل کے نزدیک زندگی کے پروانے کی سی حیثیت رکھتا ہے۔اور اس کی تلاش یوں کی جاتی ہے جیسے دیارِ غیر میں کوئی مسافر ایئر پورٹ جانے سے پہلے اپنا گمشدہ پاسپورٹ تلاش کر رہا ہو۔پھر حواس باختگی کے عالم میں سارا دن چھان پھٹک، اکھاڑ پچھاڑ ہوتی رہتی ہے اور کئی اور چیزیں دائیں بائیں ہو جاتی ہیں۔بالآخر بچوں کو دو تین مرتبہ زد و کوب کرنے اور خود اتنی ہی مرتبہ بیگم سے زد و کوب ہونے کے بعد رات گئے جب وہ کاغذ ملتا ہے تو پتہ چلتا کہ کہیں بالکل پاس ہی دھرا تھا۔انکل نے گھر میں احتیاطاً ایک انتہائی خفیہ تہہ خانہ بھی بنا رکھا ہے۔اس کے استعمال کی اجازت اُن کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے۔انکل کہتے ہیں کہ حالات کا کچھ پتہ نہیں نجانے کب خراب ہو جائیں اور جنگ وغیرہ لگ جائے۔یہ تہہ خانہ اسی مقصد کے لئے بنایا گیا ہے۔انکل دن میں کئی مرتبہ اس کمرے کا استعمال کرتے ہیں۔دوسرے محلے میں شادی وغیرہ میں کوئی پٹاخہ بھی چلے تو انکل بھاگ کر تہہ خانے میں چھپ جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں تیسری عالمی جنگ شروع ہو گئی ہے۔پھر اندر سے ہی فون پر پوچھتے رہتے ہیں کہ فوجیں کہاں تک پہنچ گئی ہیں۔وہ خوف کے مارے جس کمرے میں چھپتے ہیں یقین جانئے ہمیں تو اسے دیکھ کر ہی خوف آتا ہے۔اس میں کوئی کھڑکی، دروازہ، روشن دان کچھ بھی نہیں۔بس اک قبر نما گڑھا سا ہے اور اس تنگ و تاریک، گھپ اندھیر گڑھے میں جانے کے لئے جس حوصلے اور ”دلیری“ کی ضرورت ہے وہ صرف انکل کے پاس ہے۔
انکل سے بحث کا مزا آتا ہے۔ان کی گفتگو مقصد، مطلب، منطق اور دلیل وغیرہ جیسی ”خرافات“ سے بالکل ”پاک“ ہوتی ہے۔ایک دن فرمانے لگے، ”ٹیپو سلطان کے لئے میرے دل میں بہت احترام ہے لیکن وہ جو ان کا قول ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘ میں اس کے ساتھ بڑے ادب سے اختلاف کرتا ہوں۔“ میں نے کہا انکل یہ تو بڑا زبردست قول ہے۔اس میں بہادری اور بے خوفی کی بات کی گئی ہے۔کہنے لگے۔
”وہ تو ٹھیک ہے بھئی!! لیکن دیکھیں نا! شیر کی صرف ایک دن کی زندگی یعنی بس صرف چوبیس گھنٹے!! اور دوسری طرف سو سالہ زندگی۔کوئی تناسب نہیں بنتا۔شیر کی کوئی پچاس سالہ زندگی بھی ہو تو بھی کچھ بات بنے۔دیکھیں نا! جان ہے تو جہان ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں کسی خوف کا شکار ہوں۔ایسی بات نہیں ہے۔میں ڈرتا ورتا کبھی نہیں۔“ انکل یہ بات کر رہے تھے تو باہر گلی میں غالباً کوئی بڑا غبارہ بڑے زور سے پھٹا۔اس پر انکل فوراً اور تیزی سے اُٹھے اور تہہ خانے کی طرف بھاگ گئے۔
Browse More Urdu Adab
ساجھو فیل یا پاس
Sajho Fail Ya Pass
عقدِ ثانی
Aqd E Sani
اکثر بھول جاتا ہوں میں
Aksar Bhool Jata Hoon Main
اک تیرے جانے کے بعد
Ik Tere Jaane Ke Baad
قبلہ پروفیسر صاحب
Qibla Professor Sahab
حبس کا موسم اور گاؤں کی شادی
Habs Ka Mausam Aur Gaon Ki Shadi