Bhook - Article No. 2695

Bhook

بھوک - تحریر نمبر 2695

بھوکا ننگا بچہ کسی اور کوڑے دان سے ”رزق“ تلاش کرنے نکل گیا

جمعرات 20 نومبر 2025

ناصر محمود ملک
سوڈان میں دو موسم پائے جاتے ہیں، ایک گرم، دوسرا بہت ہی گرم۔یہ ایک ایسے ہی انتہائی گرم موسم کے گرم ترین دن کا قصہ ہے! میں خرطوم (سوڈان) میں موجود ”اقوامِ متحدہ امن مشن“ کے ہیڈ کوارٹرز سے باہر نکلا۔میں اس دفتر میں امن مشن کے رُکن کے طور پر تعینات تھا۔دوپہر دو بجے کا عمل ہو گا۔
آفس میں لنچ بریک ہوئی تھی۔مجھے شدید بھوک محسوس ہو رہی تھی، میرا رُخ کسی نزدیکی ریسٹورنٹ کی جانب تھا۔یخ بستہ ایئر کنڈیشنڈ آفس سے باہر نکلا تو یک دم شدید گرمی کا احساس ہوا۔”UN“ کی ”PARADO“ گاڑی، جو میرے استعمال میں تھی، دفتر سے کافی دور پارک تھی۔وہاں تک پہنچتے ہوئے مجھے گرمی کی بے پناہ شدت کا احساس ہوتا رہا۔

(جاری ہے)

مجھے یہاں رہتے کئی مہینے ہو چکے تھے، لیکن گرمی کا یہ جوبن میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔

اُس دن سورج، یقینا، سوا نیزے پر تو نہیں تھا لیکن بہت زیادہ دُور بھی نہیں لگ رہا تھا۔سوڈان میں تیز اور خشک گرمی پڑتی ہے۔حبس اور نمی نہایت کم لہٰذا پسینہ بہت کم آتا ہے۔لیکن دھوپ میں جائیں تو جلد کے جلنے، جھلسنے کا احساس ہوتا ہے۔بہرحال! گاڑی سٹارٹ کی تو اس کی ”ٹمپریچر گیج“ درجہ حرارت 51 ڈگری دکھا رہی تھی۔میں نے فوراً ایئر کنڈیشنر آن کیا اور ریسٹورنٹ کی جانب چل پڑا۔

میرا رُخ قریب میں واقع ”کوڈو“ (KODU) ریسٹورنٹ کی طرف تھا، یہ ایک مشہور ریسٹورنٹ ہے جس کی ”CHAIN“ عرب ممالک میں موجود ہے۔میں ایک چوڑی لیکن نسبتاً ویران سڑک پر جا رہا تھا۔اچانک میری نظر سڑک کنارے پڑے ایک آہنی کوڑا دان پر پڑی۔میں نے دیکھا کہ دو انسانی ٹانگیں اُس گہرے کوڑا دان سے باہر لٹک رہی تھیں۔منظر عجیب تھا! میں نے گاڑی ایک طرف روک دی اور اُس کی طرف بڑھا۔
سڑک کی اونچائی سے میں نے دیکھا کہ یہ ایک بچہ تھا جو کوڑا دان کے اندر پیٹ کے بل جھک کر وہاں سے کچھ کھا رہا تھا۔قریب پہنچ کر اندر دیکھنے کے لئے میں نے کوڑا دان پر ہاتھ رکھا لیکن اگلے لمحے میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔کوڑا دان تندور کی طرح تپ رہا تھا۔میرا دماغ چکرا گیا!! ”51“ درجہ حرارت پر جلتے ہوئے کوڑا دان کے اوپر ننگے پیٹ کے بل جھک کر یہ بچہ غلاظت کے ڈھیر میں سے اپنا رزق تلاش کر رہا تھا۔
میں نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا جس میں کسی پینے والے کی ”غفلت“ سے بچا رہنے والا کوئی ایک آدھ گھونٹ ہو گا، جس کا وہ ”سِپ“ لگا رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں کسی بریڈ کا کوئی بچا کھُچا ٹکڑا تھا جسے وہ چبا رہا تھا۔میں اُس کے پاس کھڑا تھا لیکن وہ مجھ سے بے خبر اپنے ”لنچ“ میں مگن تھا۔یہاں سے چند گز کے فاصلے پر موجود، کئی ایکڑوں پر محیط اقوام متحدہ کے امن مشن کے دفتر میں کئی سالوں سے موجود دنیا بھر سے آئے ہزاروں لوگ چونکہ انہی مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود اور بہتری کے اہم کاموں میں مصروف تھے، لہٰذا وہ اس بچے کی خبر نہیں لے سکے۔
لیکن شاید اب اُسے اُن کی اتنی ضرورت بھی نہیں رہی تھی! وہ خود کفیل ہو چکا تھا۔میں نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو روکے اور اُسے مخاطب کیا۔وہ نیچے اُتر کر میرے پاس آ گیا۔یہ آٹھ، نو سالہ سوڈانی بچہ تھا۔پاؤں ننگے، رنگ ”شاہ“ کالا اور آنکھیں سُرخ۔اس کا بوسیدہ اور میلا ”چکڑ“ ٹراوئزر گھستے پھٹتے اب گھٹنے تک رہ گیا تھا۔شروع میں یقینا اس کا اپنا کوئی رنگ ہو گا لیکن اب گہری میل کچیل اور کالک ہی اس کا رنگ تھی جو اس پر جمی تھی اور اسی نے اسے اُس کی جلد کے ہم رنگ کر دیا تھا۔
شرٹ کا حال اس سے بھی ابتر تھا۔شرٹ چھوٹی تھی جس کی وجہ سے پیٹ ننگا تھا اور اس ننگے پیٹ پر اُس دہکتے ہوئے کوڑے دان کے کنارے کا تازہ نشان مہر کی طرح ثبت تھا۔میں نے عربی میں (جو دورانِ قیام کسی قدر سیکھ لی تھی) اسے مخاطب کر کے کھانا کھانے کے لئے ریسٹورنٹ چلنے کو کہا۔مگر اُس نے انکار کر دیا۔لیکن خیر! میرے کافی اصرار کے بعد وہ میرے ساتھ جانے کو تیار ہوا۔
سٹارٹ گاڑی میں A.C نے کافی ٹھنڈ کی ہوئی تھی۔وہ تپتے جسم کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تو اُسے ہلکی جھرجھری سی آئی۔میں نے A.C تھوڑا ہلکا کیا اور گاڑی چلا دی۔تھوڑی دیر بعد ہم ریسٹورنٹ میں تھے اور ہمارے سامنے برگر اور چکن پیس دھرے تھے۔کھانے کے دوران میں اُس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کر رہا تھا۔وہ سوڈان کے کسی دور دراز علاقے سے آیا تھا۔میں نے اُس سے پوچھا، ”تمہارے والدین کہاں ہیں؟“ اُس نے میری طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ کا چاقو بنا کر اپنی گردن پر چلاتے ہوئے بتایا کہ اُس کا باپ جنگ میں کام آ گیا۔
”اور ماں؟“ میں نے پوچھا! اب کہ وہ خاموش ہو گیا اور اُس کا سرخ انگارہ آنکھیں ڈُبڈبا گئیں! وہ نیچے دیکھنے لگا۔میں سمجھ گیا! ماں نہ رہے تو اُس کے بارے میں بتانا اتنا آسان نہیں ہوتا!!۔اور وہ بھی ایک بچے کے لئے۔اُس نے، میری توقع کے برعکس، کم کھایا! شاید آدھا برگر اور چھوٹا سا پیس! البتہ کولڈ ڈرنک کے دو تین گلاس پی لئے۔کھانا ختم ہوا تو ہم ریسٹورنٹ سے باہر آ گئے۔

بچے آئس کریم کے شوقین ہوتے ہیں۔ریسٹورنٹ سے نکلے تو میں اُسے قریب میں واقع خرطوم کی مشہور آئس کریم شاپ، ” لذیذہ“ پر لے گیا۔راستے میں اُس کے نئے کپڑے خریدے اور شاپنگ بیگ میں ڈال کر اُس کو دے دیئے۔”لذیذہ“ پہنچ کر میں نے گاڑی روکی، اور اُسے اندر بٹھا کر خود آئس کریم لینے کے لئے جانے لگا۔جاتے ہوئے میں نے اُس سے اس کا پسندیدہ Flavour پوچھا اور پھر خود ہی شرمندہ ہو کر شاپ میں چلا گیا۔
میں نے جلدی سے آئس کریم کے دو کپ لئے اور واپس آ گیا۔دُکان سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھلا ہوا تھا۔۔اور۔۔بچہ غائب!! نئے کپڑوں والا شاپنگ بیگ گاڑی کے بیک مرر سے لٹکا میرا منہ چڑا رہا تھا۔ایک جنگ گذیدہ، بھوکا ننگا بچہ کسی اور کوڑے دان سے ”رزق“ تلاش کرنے نکل گیا تھا۔میں نے گاڑی موڑی اور جلدی سے ”امن مشن“ کے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا، جہاں ان بچوں کی بھوک و افلاس کے خاتمے کے لئے اقوامِ متحدہ کی جانب سے کی جانے والی کوششیں بڑی تیزی سے رنگ لا رہی تھیں۔

Browse More Urdu Adab