Separate Tea - Article No. 2693

Separate Tea

سیپریٹ ٹی - تحریر نمبر 2693

جناب! اگر آپ کو ”Separate“ کا مطلب معلوم نہیں تو ہم سے پوچھ لیتے، یوں وقت تو ضائع نہ کرتے

ہفتہ 15 نومبر 2025

ناصر محمود ملک
یادش بخیر! بی اے کے بعد ایم اے انگلش کرنے کے لئے جب اپنے گاؤں سے پہلی دفعہ باقاعدہ لاہور آئے تو دل ہی نہیں دماغ بھی اُدھر ہی کہیں گاؤں کی گلیوں اور کھیتوں کھلیانوں میں رہ گیا۔نتیجتاً ایک مدت ہم حواس باختہ لاہور کی سڑکوں پر گھومے! اُدھر ایم اے تو دو سالوں میں مکمل ہوا لیکن یہ حواس باختگی کا عالم تاحال جاری ہے۔
اُن دنوں پیش آمدہ زیرِ نظر واقعہ بھی اسی کیفیت کا غماض ہے۔
پروفیسر غلام سرور قریشی صاحب ہمارے ہیڈ آف انگلش ڈیپارٹمنٹ تھے۔وہ ایک انتہائی بھلے انسان اور ایک باکمال اُستاد تھے! اُن کا تعلق عظیم اساتذہ کی اُس نسل سے تھا جن پر فنِ تدریس بجا طور پہ فخر کرتا ہے۔یہی اساتذہ کرام تھے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا پہلو بھی مدِ نظر رکھتے۔

(جاری ہے)

جو معلومات نہیں علم جانتے تھے۔جو ”Career Planning“ ہی نہیں ”Character Building“ کو بھی اہمیت دیتے۔افسوس کہ اب یہ نسل ناپید ہوتی جا رہی ہے۔قریشی صاحب نہایت نفیس طبع، خوش اخلاق اور خوش لباس انسان تھے۔اُن دنوں ہمیں ”CHAUCER“ پڑھایا کرتے تھے۔”Chaucer“ بے چارہ تو بہت پیچھے رہ جاتا! بات کہاں سے کہاں نکل جاتی۔اُن کی وسعتِ بیانی کئی موضوعات کا احاطہ کرتی۔
ظاہری نفاست اُن کی گفتگو میں بھی در آئی تھی۔انگریزی زبان پر مکمل گرفت، لفظوں کا انتخاب لاجواب، لہجہ ایسا کہ انگریز بھی رشک کریں! فرماتے تھے! ضیاء محی الدین جب انگریزی بولتے ہیں تو انگریز بھی اپنی انگریزی درست کر لیتے ہیں۔ہمارے خیال میں تو یہ بات ان پر بھی صادق آتی تھی۔انگریزی، اُردو، فارسی اور پنجابی ادب پر اُن کی بڑی گہری نظر تھی۔
انگریزی ادب پڑھاتے پڑھاتے دیگر زبانوں کے ادب سے بڑی عمدہ مثالیں پیش کرتے۔بر موقع اشعار، بر محل واقعات اُن کی گفتگو کا خاصا تھا۔ایک دفعہ باتوں باتوں میں انگریز شاعر ”W.B.Yeats“ کا تذکرہ آیا تو اُن کی ایک نظم سُنانے لگے جس میں شاعر محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر کے طور پر ایک ایسے سکول کی انسپیکشن پر جاتا ہے جہاں اُس کی محبوبہ بچپن میں زیرِ تعلیم رہی تھی۔
انتظامیہ اُسے سکول کا وزٹ کرواتی ہے جبکہ شاعر تصور ہی تصویر میں اپنی محبوبہ کے بچپن میں پہنچ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ تب وہ ایک معصوم سی بچی ہو گی اور اسی سکول میں پڑھنے آتی ہو گی۔نظم سمجھنے میں قدرے مشکل لگی تو پروفیسر صاحب ہمیں فرمانے لگے، ”یوں سمجھئے کہ فیض کا یہ شعر اس نظم کا خلاصہ ہے۔“
تیری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
یہ شعر سننا تھا کہ پوری نظم کا مفہوم ایک لمحے میں واضع ہو گیا۔
یہ اُن کی تدریس کا انداز تھا جس سے ہم روزانہ فیض یاب ہوتے۔مٹھاس، رچاؤ، بے ساختگی، بے تکلفی جیسے محاسن سے لبریز اُن کی گفتگو سُننے والے پر اِک گونا سحر طاری کر دیتی۔بلاشبہ ہر جملہ ”جو بات دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے“ کی عملی تصویر ہوتا۔دل سے نکلی باتیں سیدھی دلوں میں اُترتی چلی جاتیں اور ہمارے ذہن میں غالب کا یہ شعرا کثر کُوند جاتا:
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
کالج کی ایک جانب پروفیسر صاحب کا کمرہ تھا۔
وہ کالج کے بعد وہاں تشریف رکھتے۔ہم اپنے ادبی ذوق کے لئے وہاں جایا کرتے اور پھر دیر تک نشست رہتی۔کالج کے شروع دنوں کا ذکر ہے ایک روز اُدھر ہی اُن کے پاس بیٹھے تھے کہ اُن کے چند دوست آ گئے! ہمیں فرمانے لگے، ”بیٹا! ذرا کالج کینٹین تک جائیے اور انہیں کہئے کہ پانچ چھ کپ ”Separate“ چائے بھجوائیں۔“ ہم جانے لگے تو دوبارہ فرمایا، ”Separate Tea“ کہئے گا۔
کینٹین پر جا کر ہم نے کینٹین والے سے کہا کہ پروفیسر صاحب نے سیپریٹ چائے کا کہا ہے۔(ہم نے Separate پر کافی زور دیا)۔چائے بنی تو ہم نے دیکھا کہ اُس نے دودھ، قہوہ اور چینی وغیرہ الگ الگ برتنوں میں ڈال کر ایک ٹرے میں رکھ دی ہے۔ہم نے اُس سے کہا، ”بھئی! ہم نے آپ سے ”Separate“ چائے کا کہا تھا، آپ نے یہ کیا بنا دیا!“ کہنے لگا، ”تو یہ اور کیا ہے؟“۔
ہم نے عرض کیا، ”جناب! اگر آپ کو ”Separate“ کا مطلب معلوم نہیں تو ہم سے پوچھ لیتے، یوں وقت تو ضائع نہ کرتے۔بھائی صاحب! مکمل چائے بنائیں اور پھر انہیں چھ کپوں میں علیحدہ علیحدہ ڈال دیں۔”Separate“ کا مطلب ہوتا ہے علیحدہ علیحدہ۔
اب جلدی کریں پلیز! کینٹین والا کہنے لگا، ”آپ پہلی دفعہ آئے ہیں۔یہی ”Separate“ چائے ہوتی ہے۔پروفیسر صاحب بھی یہی پیتے ہیں۔
“ اس پر ہم نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے کہا، ”تو گویا آپ ہمیں بتائیں گے کہ ”Separate“ کے کیا معانی ہیں۔ایم اے انگلش ہم کر رہے ہیں یا آپ؟ آپ سے جو کہا گیا ہے وہ کریں اور ہمیں جلدی فارغ کریں۔“ اس پر وہ منہ میں کچھ بڑبڑایا اور پھر ہماری حسبِ خواہش اُس نے دُودھ، چائے، چینی سب مکس کر کے چائے بنائی اور چھ کپوں میں الگ الگ ڈال کر ٹرے میں رکھ دی۔
ہم نے ویٹر سے کہا کہ ٹرے پروفیسر صاحب کے کمرے میں چھوڑ آئے۔ویٹر کے آگے آگے فاتحانہ انداز سے چلتے ہوئے ہم سوچ رہے تھے کہ چلو آج کسی کو انگلش کا ایک لفظ تو سکھایا۔کمرے میں پہنچ کر ویٹر نے چائے کی ٹرے میز پر رکھی تو قریشی صاحب نے قدرے حیرانی سے ہم سے پو چھا، ”میں نے تو ”Separate“ چائے کہی تھی! آپ یہ کیا لے آئے ہیں؟ اس پر ہم آگے بڑھے اور ٹرے میں پڑے چائے کے بھرے ہوئے کپوں کی طرف ہتھیلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”جی سر! یہ ”Separate Tea“ دیکھیں، Separate, Separate ۔
ایک لمحے کو کمرے میں خاموشی چھا گئی! لیکن اس سے پہلے کہ ہمارے پختہ ذہن میں یہ خیال آتا کہ اپنے پروفیسر صاحب بھی کینٹین والے کی طرح لفظ سیپریٹ کے معانی سے نابلد ہیں، کمرے میں قہقہے لگنا شروع ہو گئے جبکہ پروفیسر صاحب اپنی مخصوص ہنسی ہنستے ہمارے الفاظ دوہرا رہے تھے، ہاں! ”Separate, Separate“۔اب ہمیں کچھ سمجھ آنے لگا! اور پھر یک دم سب Clear ہو گیا۔
کینٹین والے کے ساتھ سارا مکالمہ ذہن میں کُوند گیا۔بازی اُلٹ گئی تھی۔قریشی صاحب نے اپنے نائب قاصد کے ہاتھ چائے واپس بھجوائی اور یہ پیغام بھی بھیجا کہ ارشاد سے کہنا لڑکا تو نیا تھا لیکن آپ تو نئے نہیں تھے۔اب وہ اپنے بچپن کے وہ واقعات سُنانے لگے جب اُن سے ایسی ”نادانیاں“ سرزد ہوئی تھیں۔یہ اُن کا بڑا پن تھا۔ادھر ہمیں اب وہی محسوس ہو رہا تھا جو ایسے موقعوں پر ہوتا ہے۔اس کے بعد! ہم نے ایم اے تو خیر اُسی کالج سے کیا! بس ذرا کینٹین کی طرف جانا چھوڑ دیا تھا۔

Browse More Urdu Adab