Kursi

کُرسی

مسعود صدیقی منگل ستمبر

Kursi
کُرسی اک چہار حرفی چھوٹا سا لفظ اور ایک چھو ٹا سا چو پایہ ۔جی نہیں یہ وہ چوپایہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ہے تویہ بے جان مگر اسکے باوجود بڑا جاندار ہے۔ چو پایہ مطلب جس کے چار پیر ہوں اور کیونکہ اس کے چارہی پیر ہوتے ہیں اسلئیے اسے چوپایہ مخاطب کرنے میں میرے خیال میں کوئی تردّد نہیں ہونا چاہیئے۔ کُرسی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی کُرسی کُرسی ہوتی ہے ۔

کُرسی چاہے کھانے کی ہو یا کھانے والوں کی اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں۔ کُرسی چاہے باس کی ہو یا باہر بیٹھے چپڑاسی کی۔جی ہاں چپڑاسی کی کُرسی میں بھی بڑا دم ہوتا ہے۔ یہ وہ بڑے بڑے کام آپ کے نکلواسکتا ہے جو آپ بڑے بڑے افسروں سے مراسم کے باوجود نہیں کرواسکتے۔ کبھی اس کا مظاہرہ دیکھنے کا اشتیاق ہو تو کسی سرکاری دفتر کا چکر ضرور لگائیے گا۔

(جاری ہے)

کُرسی لوہے کی ہو یا لکڑی کی، سونے کی یا چاندی کی اور ہاں اب تو پلاسٹک کی بھی کُرسیاں بازار میں دستیاب ہیں۔صدر کی ہو یا جج کی یا لان میں پڑی ہِل جُل کُرسی۔ نہیں سمجھے۔۔۔؟ارے بھئی وہی اپنی swing chair جس پہ بیٹھ کر جھولنے کا اپنا ہی ایک الگ مزہ ہے۔اتنا مزہ تو شاید آپ کو بچپن میں پنگوڑھے میں بھی جھولنے کا نہیں آتا ہوگا جتنا مزہ ایک بیورو کریٹ کو ایک بڑی سی کوٹھی کے چھوٹے سے سر سبز رنگ برنگے پھولوں سے مرصع لان میں صبح صبح بادِنسیم کے خنک جھونکوں سے محظوظ ہوتے ہوئے اِس ہِل جُل کرسی پہ بیٹھ کر اخبار پڑھتے وقت آتا ہے۔

اس ایک چھوٹی سی کرسی نے ساری دُنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔کبھی کُرسی مِل جاتی ہے۔ تو کبھی چھِن جاتی ہے۔ کبھی چار ٹانگوں والی ہوتی ہے تو کبھی چار پہیوں والی یعنی وھیل چیئر، کبھی گھومنے والی تو کبھی گھمانے والی۔سب قدرت کے کھیل ہیں۔غرض دنیا کے سارے جھگڑے کرسی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اسکول میں ماسٹر صاحب سزا کے طور پر بھی شاگردوں کو کُرسی بنا دیا کرتے تھے۔

کیونکہ اُستادی کی کرسی میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔چاہے تو شاگرد کو انسان بنادے یا گدھا یا پھر۔۔۔ مرغا ۔بس مرغی نہیں بنانا چاہیئے ورنہ ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجائیگا۔اب تو مغربی ممالک میں ملزم سے جُرم قبولوانے کیلیئے بھی کرسی استعمال کی جاتی ہے۔ ایک خاص قسم کی کُرسی ۔۔۔برقی کرسی اس پہ بس ملزم کو بٹھادیا جاتا ہے اور باقی کام کُرسی خود کرتی ہے۔

ہے ناں عجیب بات۔اس میں کرنٹ چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے جھٹکے بڑے ہٹ کے ہوتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے گھاگ مجرموں سے بڑے بڑے را ز اُگلوالیتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسی کرسی کا کوئی فائدہ نہیں۔جھٹکے تو تب لگیں گے جب بجلی ہوگی ۔فی الحال تو غریب عوام بجلی نہ ہونے اور بجلی کے بلوں کے جھٹکوں سے پریشان ہے۔یہ مشکل ترین کام ہمارے تھانے دار کا صرف ڈنڈا ہی کرتا ہے۔

ملزم یا مُجرم کتنا بھی کایاں کیوں نہ ہو تھانیدار کے ڈنڈے کے آگے تو بڑے بڑے بول پڑتے ہیں۔اور وہ جُرم بھی قبول لیتے ہیں جو اُنہوں نے کیئے بھی نہ ہوں۔مطلب ڈنڈا سب کا پِیر۔اہمیت تو ڈنڈے کی بھی بہت ہے۔جس کا ڈنڈا اُس کی بھینس (یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس)۔ویسے کُرسی اور ڈنڈے کا برسوں پُرانا رشتہ ہے ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔جس کا ڈنڈا اُس کی کرسی ۔

۔۔۔۔اور ۔۔۔۔جس کی کرسی اُس کا ڈنڈا۔ لیکن کرسی کی کیا بات ہے ۔ کرسی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا یئے کہ اب تو عہدے بھی کرسی کے نام پر رکھے ہوتے ہیں جیسے چیئر مین۔چیئر پرسن ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اور تو اور لوگ کھیل میں بھی اسے نہیں بھولے اب میوزیکل چیئر کو لے ہی لیجیئے۔ لیکن کرسی کسی کی نہیں ہوتی آج آپ کی تو کل میری چنانچہ اس کرسی کا اللہ ہی حافظ۔

Your Thoughts and Comments