Shohar Ki Faryaad

شوہر کی فریاد

جمعرات اگست

Shohar Ki Faryaad

ہم اپنے کمرے میں بے یارومددگار بیٹھے ہیں
کہ ڈرائنگ روم میں بیوی کے رشتہ دار بیٹھے ہیں
یہاں ہم بیٹھ کر چائے کے اک کپ کو ترستے ہیں
وہاں سب لے کے بسکٹ کیک کے انبار بیٹھے ہیں
ہمارا بس چلے تو سب کو ہی کچلا کھلا دیں ہم
مگر قانون سے ڈرتے ہیں اور لاچار بیٹھے ہیں
نہ چھیڑو ہم کو اے بی بی پڑوسن طعنے دے دے کر
تمہیں اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں
مرے سالے نے پوچھا دولہا بھائی ہیں کہاں باجی
تو وہ بولیں یہیں پر ہیں مگر بے کار بیٹھے ہیں
ہماری بلی اور ہم سے میاؤں ہائے رے قسمت
مگر ہم کیا کریں کہ قول اپنا ہار بیٹھے ہیں
سبھی شادی شدہ ہیں غم زدہ اور اب یہ حالت ہے
مصیبت گھر میں ہے اور خود سڑک کے پار بیٹھے ہیں
ذر ا جا کر میاں حماد حسن کو بھی تسلی دو
کہ حضرت شادی کر بیٹھے ہیں اور بے زار بیٹھے ہیں

Your Thoughts and Comments