Sayyah Kisan Se

سیاح کسان سے

جمعرات جنوری

”سناؤ میاں !زندگی کیسی گذر رہی ہے؟“ایک سیاح نے مقامی کسان سے دریافت کیا۔ ”بھائی صاحب ! بڑے مزے سے، مجھے یہ درخت کاٹنے تھے کہ تیز وتند آندھی آئی اور یہ سب خود بخود نیچے گر پڑے۔

(جاری ہے)

ایک دن گھاس کاٹنے کے لئے سوچا تو آسمانی بجلی گری اور تمام گھاس جل کر راکھ ہو گئی اور اس میں یوں گھاس کا ٹنے کی تکلیف سے بچ گیا۔ “ کسان نے بتایا۔ ”بہت خوب ! اب کیا ارادے ہیں ؟“ سیاح بولا۔ ”اب زلزلے کا انتظار ہے تاکہ نیچے کی زمین اوپر جائے اور یوں میں آلو کی فصل اکھاڑنے کی زحمت سے بچ جاؤں۔ “ کسان نے معصومیت سے جواب دیا۔

Your Thoughts and Comments