کوہاٹ ،موسلادھار بارش نے تباہی مچادی ،دو مختلف واقعات میں پانچ کمسن بچے جاں بحق

کوہاٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 جولائی2021ء)کوہاٹ ڈویڑن میں موسلادھار بارش نے تباہی مچادی جہاں دو مختلف واقعات میں پانچ کمسن بچے جاں بحق ہوگئے جن میں ایک بہن اور دو بھائی اور بھائی بہن شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کوہاٹ کے ترجمان اور مقامی ذرائع کے مطابق پیر کی علی الصبح کوہاٹ ڈویڑن کے اکثر علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی اور کئی علاقوں میں ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی۔

اطلاعات کے مطابق شکردرہ کے علاقے سپین مڑی چور لکی نامی برساتی نالے میں ایک ہی خاندان کے 7 کمسن بچے اس وقت سیلابی پانی کی نذر ہوگئے جب وہ نالے میں نہانے کی کوشش کررہے تھے۔ اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے پہنچ کر بہہ جانے والوں بچوں کی تلاش شروع کردی جہاں 4 بچوں کو زندہ بچالیا گیا تاہم شاہ حسین نامی شخص کا 8 سالہ بیٹا اعزار اور 6 سالہ بیٹی رقیہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

(جاری ہے)

ریسکیو ترجمان کے مطابق 2 سالہ سعد ولد شاہ حسین سیلابی پانی میں بہہ جانے کی وجہ سے لاپتہ تھا جسے بعدازاں تلاش کرلیا گیا۔ یوں دو بھائیوں اور ایک بہن سمیت ایک ہی گھرانے کے تین بچے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق زندہ نکالے جانے والے چار بچوں کو مقامی ہسپتال شکردرہ منتقل کردیا گیا جن میں ایک بچے کو ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے ڈویڑنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ منتقل کردیا جہاں بچے کو طبی امداد دی جارہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے بچوں کی عمریں 3 سے 12 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں میں توصیف عالم ولد ساجد حسین، فہد ولد طاہر حسین، رابعہ دختر شاہ حسین اور ایمان دختر طاہر حسین شامل ہیں۔ ایک ہی گھر سے تین کمسن بچوں کی ہلاکت پر پورا علاقہ سوگوار ہوگیا۔ یاد رہے کہ ایک دن قبل ہی انڈس ہائی وے پر ٹریفک کے حادثہ میں شکردرہ کے کئی افراد ہلاک و زخمی ہوگئے تھے۔

ادھر موصولہ اطلاع کے مطابق ضلع کرک کی تحصیل تخت نصرتی کے علاقہ کندہ سراج خیل میں سکول سے گھر واپس آنے والے کمسن بچے بارش سے بچنے کے لئے ایک دیوار کی آڑ میں پناہ لئے ہوئے تھے کہ اچانک دیوار منہدم ہوکر بچوں پر گئی جس کی زد میں آکر صابر نواز نامی شخص کا 10 سالہ سدیس اور 6 سالہ ایمن جاں بحق جبکہ تین دیگر بچے زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

Your Thoughts and Comments